09:37 am
آزادی مارچ ملتوی!

آزادی مارچ ملتوی!

09:37 am

٭آزادی مارچ میں 5 دن کی توسیع، 31 اکتوبر کی نئی تاریخO آزادی مارچ سے سارا سسٹم جا سکتا ہے، اسمبلیاں، حکومتیں سب ختم ہو جائیں گی۔ اعتزاز احسنO آزادی مارچ خودکشی ہو گی:وزیرداخلہO ن لیگ کی سینئر قیادت، پیپلزپارٹی کا دھرنے میں شرکت سے انکارO آزادی مارچ کے ترانے ’’گو نیازی گو‘‘O اسلام آباد میں تاجروں کا ہنگامہO کرکٹ، شرم ناک شکستیں، تینوں میچ بری طرح ہارے! تماشائیوں کا سخت ردعملO بجلی1 روپے78 پیسے فی  یونٹ اضافہ!
 
٭مولانا فضل الرحمان کا اعلان: آزادی مارچ 27 اکتوبر کی بجائے 31 اکتوبر کو اسلام آباد میںداخل ہوگا۔ پانچ روز کی توسیع وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا بیان درست ثابت ہو گیا ہے کہ 27 اکتوبر کو مولانا کا مارچ نہیں ہو گا۔ اس مارچ کے لئے ضلع اسلام آباد کی انتظامیہ کو باقاعدہ درخواست دی گئی ہے اس میں اس اقدام کی وجہ اور تفصیل بیان کی گئی ہے۔ درخواست کے مطابق اس مارچ کے شرکاء اسلام آباد کے ڈی چوک میں غیر معینہ عرصے کا دھرنا دیں گے، اس موقع پر ضلعی انتظامیہ تحفظ فراہم کرے! تحریک انصاف نے بھی نوازشریف حکومت کے خلاف دھرنے کے لئے درخواست دی تھی جسے منظور کرنے کی بجائے انتظامیہ نے پورے اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کر کے ہر قسم کے جلسے جلوس پر پابندی لگا دی تھی۔ اس پابندی کو توڑنے پر ان دونوں پارٹیو ںکے خلاف مقدمات درج کئے گئے جو اب بھی عدالتوں میںزیر سماعت ہیں۔ اس وقت ضلع اسلام آباد کی انتظامیہ ڈی چوک کے علاقے میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ کر چکی ہے۔ وہ کیسے حکومت کو الٹانے کے مقصد کی اجازت دے گی؟ سیاسی تحریکوں میں ایسی پابندیاں لگتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں یہ رسمی باتیں ہوتی ہیں۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں میں ایک موقع پر شرکاء کا ہجوم بے قابو ہو گیا اور پارلیمنٹ ہائوس اور وزیراعظم ہائوس پر حملہ کر دیا تھا۔ اس سے خاصا  نقصان ہوا تھا، اب تک مقدمے چل رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی نوعیت مختلف ہے۔ یہ اسلامی جہاد کے نام پر عمل میں آ رہا ہے۔ جس میں مخالفین کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔ 27 اکتوبر کی تاریخ سے پہلے تاجروں کا مارچ سامنے آ چکا ہے۔ انہوں نے 28 اور29 اکتوبر کو ملک بھر میں ہڑتال اور اسلام آباد میں مارچ کا اعلان کیا ہے۔27 اکتوبر کو کشمیر اور پاکستان میں کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے بارے میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔ (بھارت میں دیوالی منائی جائے گی)
٭مقبوضہ کشمیر پر بھارتی کرفیو کے 66 دن گزر چکے ہیں۔ 80 لاکھ کشمیری عوام کے ساتھ ماضی میں ان پر ظلم و ستم توڑنے میں بھارتی حکومت کا بھرپور ساتھ دینے والے تین سابق وزراء اعلیٰ، فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی قید ہیں۔ ان لوگوں کے عہد اقتدار میں ہزاروں کشمیری شہید، لاپتہ اور جیلوں میں قید ہوئے۔ یہ لوگ بھارتی سکیورٹی اور پروٹوکول کے مزے لیتے رہے، ان کی اپنی چالیں ان پر الٹ گئی ہیں تو انہیں کشمیری عوام پر ظلم و ستم کی باتیں تکلیف دے رہی ہیں۔
٭چین کے صدر شی جن پنگ آج دوپہر بھارت کے دو روزہ دورے پر بھارتی شہر چنائی (مدراس) پہنچ رہے ہیں۔ وہ نہائت سخت سکیورٹی اور پروٹوکول کے ساتھ تقریباً سات کلو میٹر دور مالم پور کے مقام پر ہوٹل میں جائیںگے۔ یہ فاصلہ 9 منٹوں میں طے ہو گا۔ راستے میں 10 ہزار سپاہی پہرا دیں گے۔ صدر کے آنے سے ایک گھنٹہ پہلے یہ سڑک عام آمد و رفت کے لئے بند رہے گی۔ اس سڑک سے ملنے والی اردگرد کی تقریباً 500 سڑکیں اور راستے بند رکھے جائیں گے۔ چینی صدرکا طیارہ بھارتی ایئرفورس کے طیاروں کی حفاظت میں آئے گا۔ مدراس کے ساحل کے ساتھ سمندر میں 200 میل تک بحری جنگی جہاز گشت کریں گے۔ ہوائی اڈے سے صدر کی رہائش تک 34 مقامات پر بھارتی فن کار رقص موسیقی کے مظاہرے کریں گے۔
دریں اثنا بھارتی میڈیا کے مطابق چین کے صدر جن پنگ اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان آج مدراس کے مقام پر ہونے والے مذاکرات میں مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورت حال پر بات چیت تلخ شکل اختیار کر سکتی ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 67 دنوں سے کرفیو کے ذریعے 80 لاکھ کشمیری باشندوں کو قید کر رکھا ہے۔ چین نے اس کے خلاف پاکستان کے موقف کی واضح حمائت کی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے صدر جن پنگ کے بھارت کے دورے سے پہلے چین کا ہنگامی دورہ کر کے چینی زعما پر کشمیر کے مسئلہ کے مختلف پہلو واضح کئے ہیں۔ اس کو بھارتی میڈیا خصوصی اہمیت دے رہا ہے۔
٭چودھری اعتزاز احسن پیپلزپارٹی کے سرکردہ مرکزی رہنما ہیں۔ ممتاز قانون دان ہیں۔ وزیرداخلہ رہ چکے ہیں۔ بہت پڑھے لکھے صاف گو سیاست دان ہیں۔ ان کی صاف گوئی اور حقیقت پسندانہ کھری باتوں سے خود پیپلزپارٹی کی قیادت بھی پریشان رہتی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ صرف دو فیصد ووٹ لینے والی مولانا فضل الرحمان کی پارٹی مذہبی ترانوں کے ساتھ تنہا حکومت کو الٹ دینے کے دعوے کر رہی ہے۔ اس کی اس حرکت سے ملک کا پورا سسٹم جا سکتا ہے، صرف وفاقی نہیں، ساری صوبائی اسمبلیاں اور حکومتیں بھی ختم ہو سکتی ہیں۔اس سے اس وقت جیلوں میں بند سیاسی قیادتیں تھوڑے بہت انصاف سے بھی محروم ہو جائیں گی۔ چودھری اعتزاز احسن نے ن لیگ پر سخت تنقید کی اور جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر کو بہت اچھی تقریر قرار دیا ہے۔ اعتزاز احسن کی باتیں…
 ’’مولانا کہہ رہے ہیں کہ تن تنہا سارے نظام کو لپیٹ دیں گے۔ان کے دھرنا کو مذہبی رنگ دیئے جانے کا امکان ہے۔ سنا ہے کہ جے یو آئی نے مذہبی بنیاد پر ترانے بنائے ہیں۔ ہم کوئی اسلام سے بھاگ نہیں رہے، اگر سسٹم چلا جاتا ہے تو ہمارے لیڈر جو قید میں ہیں انہیں ملنے والا موجودہ انصاف بھی نہیں ملے گا۔ ہم نہیں چاہتے کہ سارا نظام ہی چلا جائے، شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ دھرنے سے سارے سسٹم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اقامہ پانامہ سے زیادہ سنگین جرم ہے۔ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ دھوکہ دیا،میثاق جمہوریت کیا لیکن میمو گیٹ میں خود وکیل بن کر عدالت گئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شریف برادران نے آصف زرداری سے اینٹ سے اینٹ والا بیان دلوایا اور خود پیچھے ہٹ گئے اس لئے میں تو بلاول بھٹو اور پی پی کو شریف برادران سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتا ہوں، میری نگاہ میں اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر بہت اچھی تھی دوسرا انہوں نے کرتار پور راہداری کھول کر بہت اچھا کیا۔جی ٹی روڈ کی سیاست سے نوازشریف کی سیاست زندہ ہوئی لیکن دونوں باپ بیٹی جب خاموش ہو گئے تو پھر عوام میں شکوک شبہات پیدا ہوئے۔‘‘
٭لاہور شہر پر پانچ چھ روز سے چھایا ہوا کرکٹ کا عذاب ختم ہوا۔ ان چھ روز میں لاہور کے لاکھوں باشندوں پر قیامت گزرتی رہی۔ درجنوں سڑکیں بند، سٹیڈیم کے گرد دور دور تک کرفیو نافذ، چڑیا پر نہیں مار سکتی تھی۔ کوئی تماشائی براہ راست سٹیڈیم کے نزدیک نہیں جا سکتا تھا۔ بہت دور سے سرکاری بسوں پر آنا پڑتا تھا۔ لاہور اور دوسرے اضلاع سے 19 ہزار پولیس اہلکار ان میچوں کی ناہنجار ڈیوٹی پر لگائے گئے جس کا انجام ذلت آمیز شکستوں کی شکل میں سامنے آیا۔ کروڑوں خرچ کر کے اور چھ دن ضائع کر کے انتہائی اذیت ناک شکستیں خریدی گئیں۔ ایسی لولی لنگڑی ٹیم تیار کی گئی جس کے ہاتھ پائوں کانپتے تھے، آخری میچ میں چار کیچ چھوڑے گئے۔ کپتان وکٹ کیپر تھا، دو کیچ اور ایک سٹمپ آئوٹ چھوڑا اور ٹِک ٹِک کر کے صرف 17 رنز بنائے۔ کرکٹ کے نام پر جوئے کو فروغ دینے والے اس ناٹک کو آئندہ بند کیا جائے کیا یہ محض اتفاق تھا کہ دو ’بڑے‘ کھلاڑی مسلسل دو میچوں میں صفر پر آئوٹ ہوتے رہے جب کہ جواریوں نے ان کے صفر پر آئوٹ ہونے پر کروڑوں کی شرطیں لگا رکھی تھیں!

تازہ ترین خبریں