07:59 am
جلوۂ بے باک

جلوۂ بے باک

07:59 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
وہ جن کے شہراورشہری سہولیات ساری دنیا کیلئے ایک نمونہ بن گئیں۔دنیاکواس وقت معلوم ہواکہ گلیاں اورسڑکیں پکی اینٹوں اور پتھروں سے کس طرح بنائی جاتی ہیں۔حمام میں گرم  پانی بھی ہوتاہے،گلیوں میں رات گئے چراغ بھی  روشن کئے جاتے ہیں تاکہ راہگیروں کورات چلنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔وہ جوفلکی سیاروں کی چالوں کیلئے رصدگاہوں کے امین بنے ، جو الجبرا، فزکس،کیمسٹری اورطب کے امام ٹھہرے اورآج کی تمام سائنسی ترقی میں ان کے ایجادکئے فارمولے ایک بنیادی  حیثیت رکھتے ہیں اورپھرکئی صدیوں تک ان کا راج بھی رہا،کیایہ سب دنیاکے کسی بھی مروجہ سائنسی اورتہذیبی اصولوں کے تحت ممکن ہواتھا۔
جلوۂ بے باک
ایسے ہی ایک قوم منگولیاکے ریگستانوں سے اٹھی تھی،چنگیزخان نے اس قوم کے چندقبیلوں کومتحدکیاتھا اورپھریہ قوم طوفان کی طرح اس پورے علاقے کو روندتی ہوئی گزرگئی لیکن آج اس قوم کاتاریخ میں ظلم، بربریت کی داستانوں کے علاوہ کوئی ذکرنہیں ملتااور ساری دنیامیں ایک نفرت کی علامت کے علاوہ کچھ بھی ان کے حصے میں نہیں ہے مگرعرب کے ان جاہل، گنواراوران پڑھ بدوئوں نے ایساکیاکمال کردیاتھا کہ دنیاکاکوئی بھی مرخ عصبیت کے باوجودآج بھی ان کوفن تعمیر،فلسفہ،طب،خطاطی اوردوسرے بیسیوں علوم کاماخذ،محقق اور استاد مانتاہے۔یہ سب کمال اور ہنران کے دروازوں پرکیوں دستک دینے چلے آئے۔اس لئے کہ ان میں میرے پیارے ختمی الرسل محمدﷺ کے تزکئے نے وہ خصوصیات پیدا کردی تھیں جن کی بنیادپرخالق کائنات مہربان ہوتاہے۔
 وہ اپنے مربی سے جن کووہاں کابچہ بچہ امین وصادق کے ناموں سے جانتاتھا،اپنے رب کایہ فرمان سن کرکانپ اٹھے تھے کہ خبردار!تمہیں کسی قبیلے کی محبت اس بات پرمجبورنہ کردے کہ تم انصاف کادامن اپنے ہاتھ سے چھوڑدو۔انہیں اس بات کاقوی یقین تھاکہ اگرہم نے اس زمین پراللہ کابتایاہوانظام عدل قائم کر دیاتووہ ہم پراپنی رحمتوں اوربرکتوں کے خزانوں کی بارش کردے گا۔یہی وجہ ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمرؓکے زمانے میں جب فتوحات کادروازہ کھلاتوایک معرکہ میں مال غنیمت کے اس قدرڈھیرلگ گئے کہ اطراف میں بیٹھے ہوئے لوگ ایک دوسرے کودیکھ نہیں سکتے تھے۔ان نعمتوں کودیکھ کرخلیفہ ثانی حضرت عمرؓاوران کے ساتھیوں نے روناشروع کردیاکہ کہیں آخرت کی نعمتوں کی بارش دنیامیں تو نہیں شروع ہوگئی۔انہوں نے اپنے آقاومربی ختمی الرسل محمدﷺسے سن رکھاتھاکہ مومن بدکار ہوسکتا ہے، چورہوسکتاہے کہ گناہ اس سے سرزد ہوجائیں لیکن مومن جھوٹانہیں ہو سکتا۔انہوں نے اپنے آقاومربی ختمی الرسل محمدﷺسے یہ بھی سن رکھاتھاکہ جب ایک شخص جھوٹ بولتاہے تواس کے جسم سے ایک ایسی بدبونکلتی ہے کہ رحمت کے فرشتے اس سے کئی فرلانگ دوربھاگ جاتے ہیں۔یہی سچ بولنے کی صفت نے اس دورکی تاریخ میں لوگوں میں اعتراف جرم کی یہ جرات پیدا کی انہوں نے خودزناکے جرم کا اقرار کیا اورسزا کیلئے اپنے آپ کوپیش کیا۔ انہیں اپنے وعدوں کاپاس تھاکہ ان کارب ان سے یہ کہتاہے کہ تم سے تمہارے وعدوں کے بارے میں دریافت کیاجائے گا۔یہ وہ کمال تھاجومیرے پیارے ختمی الرسل محمدﷺ نے ان کی زندگیوں میں پیدا کیا تھا ۔ انہیں یہ بھی واضح طورپر بتادیاگیاتھاکہ منافق کی تین نشانیاں ہیں کہ جب بات کرے توجھوٹ بولے،جب وعدہ کرے توپورانہ کرے اورجب اس  کے پاس امانت رکھی جائے تواس میں خیانت کرے۔ اس امت پرہی نہیں بلکہ اس پوری دنیاکی ترقی کی بنیادہی ان تین ستونوں پررکھی ہوئی ہے۔اب آپ خودہی فیصلہ کرلیں کہ کیامیراماتم اور میرے نالے درست نہیں کہ اپنی انہی گم گشتہ اقدارکی طرف لوٹ جانے میں ہی ہماری عافیت ہے؟
 ہم گلیوں،بازاروں،حلف اٹھاکر عدالتوں، اسمبلیوں اوراقتدارکے ایوانوں میں بیٹھ کرکس دھڑلے،ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں او رجھوٹی گواہیاں دے کرامانت میں خیانت کرتے ہیں۔ کیا ساری دنیاکے سامنے ہم زبانی اورتحریری وعدے  کرکے پوری مکاری کے ساتھ برملایہ نہیں کہتے رہے کہ یہ کون سے قرآن وحدیث ہیں؟ کیا ہمارے ذمہ جوامانت سپردکی گئی ہے کہ جب تم حکمران بنوتوعدل وانصاف کانظام قائم کرو،اس میں کھلم کھلا خیانت نہیں کررہے؟ملک کی سب سے  اعلیٰ عدالتوں کے منصفین کے احکام کی روگردانی کرکے عدل و انصاف کی بری طرح تضحیک کے مرتکب نہیں ہو رہے؟ کیاعجب تماشہ ہے کہ قوم کومہنگائی کے طوفان میں غرق کردیاگیاہے اور آئے دن خوفناک خبروں کے ساتھ قوم کا سانس خشک کرنے کی مشق جاری ہے۔ یہ سب کچھ کرنے کے باوجودآپ اپنے لئے کس منہ سے عزت وکامرانی کاحق مانگتے ہیں؟جب تک آپ یہ سب کچھ نہیں بدلتے،اس جھوٹ سے توبہ نہیں کرتے تومیرے رب کے رحمت کے فرشتے اس جھوٹ سے توکئی فرلانگ دوربھاگ گئے ہیں ۔ یادرکھیں ہماری ذلت ورسوائی اس وقت ختم نہیں ہوسکتی جب تک ہم واپسی کا سفر شروع نہیں کرتے۔
اس کاتووعدہ ہے کہ تم نے اگرایفائے عہد نہ کیاتودنیا کی رذیل قوموں سے رسوا ہو جائوگے۔ آج ہم اپنے اس آقاکی پہچان بھی بھول چکے ہیں۔وہ جوساری دنیاکا خالق ورازق ہے، جودنیاوآخرت کے تما م خزائن کامالک ہے،اس سے مانگنے کی بجائے ہم آئی ایم ایف اورعالمی اداروں کی تمام شرائط کوبلا چون وچرا مان کر بھیک کاکشکول اٹھائے دربدرہورہے ہیں ۔ پھربھلاہم پررحمتیں کیسے نازل ہوں؟
کچھ توسمٹوکہ نظرہم بھی اٹھاکردیکھیں
ہم کواے جلوہ بے باک حیاآتی ہے

تازہ ترین خبریں