08:00 am
  آدھا تیتر آدھا بٹیر 

  آدھا تیتر آدھا بٹیر 

08:00 am

 احتجاج اور الزا م تراشی کی روش پہ ڈٹے رہنے سے ملک کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ احتجاج کے لیے مناسب جواز درکار ہوتا ہےجو ثابت نہ کیا جاسکے وہ الزام بھی کچھ عرصے بعد جھوٹ ہی قرار دیا جاتا ہے۔ احتساب کے شکنجے میں جکڑے جانے والے اصحاب کی تلملاہٹ فطری ہے لیکن مقدمات منطقی انجام تک  نہ پہنچ پائیں تو احتسابی عمل کی مجموعی شفافیت پر سوال تو اٹھتے رہیں گے۔کچھ حلقے عدالتی فیصلوں  پہ کامیابی کے شادیانے بجا  رہے ہیں جبکہ حزب اختلاف میں عددی  اعتبار سے سب سے بڑی جماعت نون لیگ  کے احتجاج میں سوگ کا رنگ نمایاں ہے۔
 
نون لیگ سے ملتی جلتی کیفیت پی پی پی پہ بھی طاری ہے۔جماعت کے شریک چئیر مین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری سمیت اُن کے قریبی ساتھیوں اور اہم حکومتی عہدیداروں پہ سنگین الزامات کے تحت تفتیش جاری ہے۔سابق وزیر اعظم میاں صاحب کو سات سال قید  کے ساتھ بھاری جرمانہ  عائد ہوچکا جبکہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب  یعنی  چھوٹے میاں صاحب بھی بد عنوانی  کے الزامات  پہ نیب کی حراست میں زیر تفتیش ہیں۔جماعتی وابستگی سے ماوراء ہو کے دیکھا جائے تو ہر پاکستانی کے لیے یہ صورتحال باعثِ افسوس بھی ہے اور باعثِ تشویش بھی! بالفاظِ دیگر ان مشہورِ عالم مقدمات میں ملزمان  کی بریت  یا سزا  دونوں ہی باعثِ تشویش ہیں !پہلی تشویش یہ ہے کہ ملک کے  اہم ترین مناسب  پہ فائز ہونے والی شخصیات اور اُن  کے انتہائی قریب رہنے والی ہستیاں آخر کیوں کر سنگین مالی بد عنوانیوں میں ملوث ہو پائیں؟میاں صاحب اور زرداری صاحب کی قیادت میں اُن کی جماعتوں  نے عوامی حمایت سے وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کی۔ملک کے حساس معاملات پہ حتمی فیصلہ سازی کا اختیار انہیں حاصل تھا۔خاکم بدہن اگر اہم  مناصب پہ فائز شخصیات ہی بد عنوانی میں ملوث پائی گئیں تو یہ ملکی نظام اور عوام کے سیاسی شعور پہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہو گا۔زور و شور سے جاری تفتیش کے نتیجے میں اگر یہ شخصیات بے گناہ ثابت ہو جائیں تو تشویش کا دوسرا پہلو سامنے آتا ہے!ملک کی با اثر ترین شخصیات کے خلاف کرپشن کے مقدمات کیسے بنے؟کس نے بنائے اور کیوں بنائے؟اگر زیر تفتیش جماعتوں کے دعوے درست تسلیم کر لیے جائیں تو یہی تاثر ابھرتا ہے کہ انتہائی دیانت دار منتخب قیادت کو کرپشن کے مقدمات میں الجھا کے نادیدہ قوتیں اپنا الو سیدھا کر رہی ہیں!یہ  مضحکہ خیز حد تک ناقابلِ یقین  دعویٰ زمینی حقائق کے بر خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ  ملک میں رائج نظام کی بھیانک عکاسی کرتا ہے۔مقدموں کا قیام،تفتیش، سماعت اور بعد ازاں بریت یا سزا کا فیصلہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ماضی میں ریاستی اداروں کے آئینی کردار میں  حکمراں جماعت یا حکمرانوں کے عمل دخل نے ملکی نظام میں بہت سی برائیوں کو جنم دیا۔بد قسمتی سے سیاسی عمل کے بجائے فوجی آمروں کے کندھوں پہ سوار ہوکے ملکی سیاست میں وارد ہونے والوں نے مجموعی طور پہ نظام کو برباد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اسی کی دہائی میں  شروع ہونے والی آئی جے آئی اور پی پی پی کی سیاسی معرکہ آرائی نے جب طول پکڑا تو سیاسی انتقام اور مخالفین پہ مقدمے قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ آج کرپشن کے بھنور میں غوطے کھانے والی نون لیگ اور پی پی پی کے ماضی میں بے رحمانہ سیاسی انتقام کی بدولت نوے کی دہائی کی سیاست کی اصطلاح متعارف ہوئی۔دونوں جماعتوں کے ترجمان اکثر  نوے کی دہائی کا تذکرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔دونوں جماعتوں کی قیادت بیک وقت ملک سے باہر مقیم بھی رہی۔درمیان میں کہیں این آر او اور میثاقِ جمہوریت کی جھلکیاں بھی  دکھائی دیتی ہیں ۔ زرداری صاحب کے اس دعوے میں بڑی جان ہے کہ گیارہ برس جیل میں قید رکھ کے بھی اُن پہ کچھ ثابت نہ کیا جا سکا۔ کرپشن کے بیشتر مقدمات میں نون لیگ کی قیادت کے خلاف بھی کئی عشروں تک چلنے والے مقدمات میں  ماضی میں کچھ ثابت  نہ ہو سکا ۔اربوں روپے کی منی لانڈرنگ دھڑلے سے ہوتی رہی ۔یہ پیسہ اس ملک سے لوٹ کے باہر بھیجا گیا۔بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ پیسہ کس کس محکمے سے لوٹا گیا۔کون سے محترم قائدین اور اُن کے باکرامت فرنٹ مین اس لوٹ مار کے روح رواں تھے۔زیادہ لمبی بات سے گریز ہی بہتر ہے۔سادہ بات یہ ہے کہ ریاستی ادارے عین ناک کے نیچے ہونے والے جرائم کو قانونی تقاضے پورے کر کے مجرمان کو سزا دلانے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ناقص تفتیش،ڈھیلی ڈھالی سماعت اور قانونی موشگافیوں کی بدولت قومی مجرم نظام کا منہ چڑاتے پھرتے ہیں۔نون لیگی قیادت کو سنائی جانے والی سزا پہ اپیل دائر ہونے اور بعد ازاں ضمانت کے واضح امکانات موجود ہیں۔اہم سوال یہ ہیں کہ کیا ملک میں حقیقی احتساب ممکن ہے؟ کیا ریاستی ادارے کرپشن میں ملوث ملزمان کو قانونی تقاضے پورے کر کے سزا دلوا سکیں گے ؟حکمراں جماعت کی صفوں میں پناہ لینے والے سابقہ حکمرانوں کے وفاداروں پہ لگے کرپشن کے سنگین الزامات کا کیا بنے گا ؟وقت آگیا ہے کہ نون لیگ اور پی پی پی جیسی جماعتوں کی صفوں میں خود احتسابی کا عمل شروع ہو!دنیا میں ایسا کہاں ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں مخصوص خاندانوں کی ذاتی ملکیت کی طرح چلائی جائیں۔کرپشن کے الزامات کے جواب میں نون لیگ اور پی پی پی کی جانب سے  سیاسی انتقام کا موقف ان  دونوں جماعتوں کی ساکھ مزید خراب کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔ ملک کی دو بڑی جماعتوں میں بدترین فکری تنزلی  ملکی سیاست کے لیے نیک شگون نہیں۔احتساب سمیت اہم ریاستی امور میں آدھا تیتر آدھا بٹیر والی کیفیت سے نجات پائے بغیر سدھار لانا ممکن نہیں۔  

تازہ ترین خبریں