08:02 am
توحید اور آخرت

توحید اور آخرت

08:02 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
ایک آدمی جو دنیا کے بڑے ہسپتالوں میں، بڑے بڑے سرجن ڈاکٹر کے زیرِ علاج ہو، موت اُسے بھی آتی ہے اورجب موت آتی ہے تو اُسے کوئی روک نہیں سکتا۔ تب بڑے بڑے ڈاکٹر بے بسی کی تصویر بنے ہوتے ہیں ۔ وہ جو خود سب سے بڑے بڑے معالج ہیں، جن کی طرف علاج کے لئے ساری دنیا رجوع کرتی ہے، جب اُن کا وقت ِاجل آتا ہے تو وہ اپنی موت کو بھی نہیں ٹال سکتے ، نہ کوئی اور ہی ان کی موت کو ٹال سکتا ہے۔ یہ فیصلہ اللہ کا ہے۔ تمہارے پاس اس ضمن میں کوئی اختیارنہیں۔ تو پھر کیوںتم اُس ذات کامل کے اِلہٰ واحد ہونے اور آخرت کے بر حق ہونے کا انکار کرتے ہو۔
’’اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیںکہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کر دیں۔‘‘
اس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ ہم چاہیںتو تمہیں ختم کردیں اورتمہاری جگہ کسی اور کولے آئیں ۔دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ہم اس پر قدرت رکھتے ہیں کہ تمہیں اس عالم میں جس کو تم نہیں جانتے، تمہارے مانند ہییاایک اور شکل میں اٹھا دیں۔ انبیاء عالم آخرت کی جو خبر دیتے رہے ہیں اُس عالم کے قوانین کچھ اور ہیں۔اُس عالم کو دنیا پر قیاس نہ کرو۔ مثلاً وہاں موت نہیں آئے گی۔ اہل جہنم پکاریں گے کاش موت آجائے لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ بعض روایات کے مطابق انسان جس حال میں مرتا ہے، اسی حال میں پیدا ہوگا۔ بعد میں اہل جنت کو بالکل نوجوان بنا دیا جائے گا، تاہم وہاں کے قوانین اور ہیں اور یہاں کے قوانین اور ہیں۔ یہاں کے قوانین بھی اللہ نے بنائے ہیں اور وہاں کے قوانین بھی اُسی کے بنائے ہوئے ہیں۔ آگے فرمایا:’’اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے۔ پھر تم سوچتے کیوں نہیں۔‘‘
دیکھو، تم دنیا کو، یہاں پیدا ہونے کو خوب جانتے ہو،اِس کا بڑا حساب بھی رکھتے ہو، تاریخ پیدائش یاد رکھتے ہو، بلکہ برتھ ڈے بھی بناتے ہومگر اس حقیقت سے کیوںغافل ہو کہ ایک مرتبہ پھر اُٹھائے جائو گے۔ اس کی خبر بھی تو وہ اللہ دے رہا ہے جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا۔ پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے؟
’’بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم بوتے ہو، کیا تم اسے اُگاتے ہو یا ہم اُگاتے ہیں۔‘‘ یعنی جس طرح تم خود اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہو، اُسی کے پیدا کرنے سے وجود میں آئے ہو، اسی طرح جس رزق پرتم پلتے ہو، وہ بھی تمہارے لیے اللہ ہی پیدا کرتا ہے۔ تم تو بس کھیتی میں بیج ڈال دیتے ہو۔ اِس کے بعد سارے مراحل کو اللہ ہی طے کرتا ہے۔ اُسی کے بنائے گئے نظام کے تحت بیج سے پودا نکلتا اور اناج اور پھل لاتا ہے۔ کھیتی، اُس کے اندر روئیدگی کی صلاحیت، بیج کی نشوونما کی صلاحیت، بیج کے بارآور ہونے کے لیے زمین کے اوپر سازگار ہوا، پانی، حرارت اور موسمی کیفیت، یہ کام کس کا ہے، یہ پورا نظام کس کا ہے؟ یہ سب اللہ کا پیدا کردہ نظام ہے۔ یہ سب اُسی کی قدرت اور ربوبیت کا کرشمہ ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی نظم ’’الارض للہ‘‘میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ اس بات کا ذکر کیا ہے۔ 
آگے فرمایا:’’اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کر دیں اور تم باتیں بناتے رہ جائو، (کہ ہائے) ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئے بلکہ ہم ہیں ہی بے نصیب۔‘‘
بیچ جو اناج لاتا ہے یہ بھی ہمارا ہی انتظام ہے اور فصل جب تیار ہو جاتی ہے، اُس کے بعد بھی ہماری مرضی ہے کہ تمہیں اُس فصل سے فائدہ اُٹھانے کو موقع دیں یا نہ دیں۔ ہم چاہیں تو تمہیں اس تیار فصل سے محروم کر دیں ۔ جس وقت فصل کاٹنے کا موسم آتا ہے، اگر اُس وقت ژالہ باری ہو جائے یا زیادہ بارشیں ہوجائیں توساری فصل تباہ ہوجائے اور تم پھر باتیں ہی باتیں بناتے رہ جائو۔ کل اختیارمیرے ہاتھ میں ہے۔ تیار فصل اگر تباہ ہو جائے تو پھر تم یہی کہو گے کہ ہائے ہم تو مارے گئے، تاوان کے بوجھ تلے آگئے۔یہ بات 29ویں پارے میں باغ والوں کے قصہ میں قدرے تفصیل سے آئی ہے۔  فرمایا: ’’ہم نے اِن (اہل مکہ) کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا جب انہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے، اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے، (کچھ بھی نہ چھوڑیں گے) ۔رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پِھر گئی،اور اس کا ایسا حال ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔صبح ان لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا،کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو۔ چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے کہ آ ج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے۔وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر )قادر ہیں۔(بڑے عزم اور حوصلے سے نکلے) مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے ہم راستہ بھول گئے ہیں، نہیں بلکہ ہم محروم رہ گئے۔ اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اس نے کہا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟وہ پکار اُٹھے پاک ہے ہمارا رب ، واقعی ہم گناہ گار تھے۔ پھر ان میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا۔آخر کو انہوں نے کہا افسوس ہمارے حال پر، بے شک ہم سرکش ہوگئے تھے۔بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔‘‘  بہرکیف اس دنیا میں اس طرح کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے کہ ساری فصل برباد ہو جائے اور کسان حسرت ویاس کی تصویر بن کر رہ جائے۔
’’بھلا دیکھو تو کہ جو پانی تم پیتے ہو، کیا تم نے اس کو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کر دیں۔ پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔‘‘
غذا کے ساتھ ساتھ پانی بھی اللہ تعالیٰ ہی نے فراہم کیاہے۔ اللہ نے ہوا اور پانی عام کر رکھے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کہیں پانی کا حصول آسان ہے اور کہیں مشکل ہے۔ لیکن یہ کہ اِس کے اوپر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا ۔ اللہ نے اِسے سب کے استعمال کے لیے عام بنایا ہے۔ پانی بارش کے ذریعے سرکولیٹ ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے۔  یہ نظام اُسی کے اختیار میں ہے۔ اِس کے ذریعے وہ اپنی مخلوقات کو وافر پانی فراہم کر رہا ہے۔ پانی کی بندش یا کمی اللہ کی طرف سے سزا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر تم زکوٰۃ دینا چھوڑ دو تو اللہ تعالیٰ بارش بند کر دے گا۔ مسلمان اگر زکوٰۃ دینا چھوڑ دیں تو یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں بارشیں بند ہو جائیں۔ لیکن یہ چوپائے اور مویشی ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ بارشوں کو جاری رکھتا ہے۔ یہ بھی اللہ کا کرم ہے کہ اُس نے پانی کو میٹھا بنایا۔ سمندر کا پانی کھارا ہے،اُسے آپ پی نہیں سکتے ۔لیکن اسی کھارے پانی کو اللہ تعالیٰ نے صاف شفاف میٹھے پانی کا ذریعہ بنا دیاہے۔
(جاری ہے)

 اسی پانی سے بخارات اوپراُٹھتے ہیں جس سے بادل بنتے ہیں۔ یہی بادل جب برستے ہیں تو زمین میں ہر جگہ پانی پہنچ جاتا ہے۔ جس مخلوق کو اللہ نے خشکی اور ہوا میں پیدا کیا،اُس کی پرورش کے لئے میٹھا پانی درکار تھا، لہٰذا میٹھے پانی کی فراہمی کے لئے بارش کا انتظام کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے پانی میں یہخاصیت رکھ دی کہ گرمی سے بھاپ بنتے وقت وہ کوئی ایسی چیز ساتھ لے کر نہ اُٹھے جو اُس کے اندر تحلیل ہو گئی ہو۔ چنانچہ جب سمندر کا پانی حرارت کے اثر سے بھاپ میں تبدیل ہو کر اوپر اُٹھتا ہے تو ساری آمیزشیں زمین ہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ اگر اس دوران میں اس میں سمندر کا نمک بھی شامل ہوتا تو اس کے نتیجے میں ہونے والی بارش کا پانی کھارا ہوتا۔  
 اُس کو نہ تو انسان پی سکتا تھا اور نہ اس سے نباتات ہی اُگ سکتی تھیں۔ آگے فرمایا: ’’بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو، کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں۔‘‘
قدیم زمانے میں اہل عرب آگ جلانے کے لئے لکڑی کا استعمال کرتے تھے۔ سو اس حوالے سے فرمایا کہ یہ جو آگ تم سلگاتے ہو اس کا درخت کس نے پیدا کیا ہے؟ کیا تم اس کے پیدا کرنے والے ہو یا ہم ہی نے اس کو پیدا کیا ہے۔
’’ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے۔‘‘
یہ آگ جو تم سلگاتے ہو اسے ہم نے تمہارے لئے نصیحت اور یاد دہانی کا ذریعہ بنایا ہے۔ یہ تمہیںبھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ یہ اُس آگ کی یاد دلاتی ہے جس کا ایندھن گناہ گار انسان اورپتھر بننے والے ہیں۔ دیکھو تو، یہ دنیا کی آگ ہی کس قدر شدید ہے کہ تم اس میں چند سیکنڈ کے لئے بھی اپنی انگلی نہیں رکھ سکتے۔ جہنم کی آگ تو اس سے سو گنا سے بھی زیادہ شدید ہو گی، اگر تم اُس میں ڈال دئیے گئے تو پھر کیا ہو گا۔ لہٰذا اُس آگ سے بچنے کی فکر کرو اور شیطان کا راستہ چھوڑ کر رحمان کے راستے پر   آ جائو۔ دنیا کی اس آگ میں ایک تو نصیحت کا یہ پہلو ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے اس کو حاجت مندوں کے لئے سامان زیست بنایا ہے۔ آگ پرتم کچی غذائیں پکا کر کھاتے ہو۔ پھرآگ ہی ہے جو جنگل اور صحرا میں اُترے ہوئے مسافروں کے کام آتی ہے، خصوصاً  جاڑے کے موسم میں۔ وہ آگ جلا کراُس پر تاپتے ہیں اور اُس پر کھانا بھی پکاتے ہیں۔ رکوع کے آخر میں فرمایا:’’تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرو۔‘‘
 اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات سب سے زیادہ عظمت والی ہے۔ وہ ہر عیب، ہر نقص اورہر کمزوری سے پاک ہے۔ وہ خالق ہے، باقی سب مخلوق ہے۔ وہ مالک ہے، باقی سب مملوک اور غلام ہیں۔عزت بزرگی میں اُس کے ساتھ مخلوق کی کوئی نسبت نہیں۔ پس اُس کے مبارک نام کی تسبیح کرو۔ اُس کا با برکت نام لے کر یہ اعلان کرو کہ وہ تمام عیوب و نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے ،جو کفر و شرک کے ہر عقیدے کا حصہ ہیں۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین