08:02 am
جنگ بندی لکیر توڑنے کے لئے فریڈم مارچ

جنگ بندی لکیر توڑنے کے لئے فریڈم مارچ

08:02 am

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد47کے تحت کشمیری جنگ بندی لکیر کو آزادانہ عبور کر سکتے ہیں۔یہ قرارداد کشمیریوں کو اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ وہ اس لکیر کے آر پار آ جا سکیں۔ پاک بھارت کی فورسز اس لائن کو پار نہیں کر سکتیں۔اس لائن کی نگرانی کے لئے سلامتی کونسل نے فوجی مبصرین تعینات کئے ہیں جو 1949سے آج تک اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔وہ روزانہ اپنی رپورٹس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ارسال کرتے ہیںیہی ان کا مینڈیٹ ہے تا ہم بھارت نے شملہ معاہدے کے بعد سے یواین فوجی مبصرین کو اپنے زیر قبضہ کشمیر کی طرف سے اس لائن کی نگرانی کرنے سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے مگر فوجی مبصرین مقبوضہ کشمیر میں بھی موجود ہیں۔آزاد کشمیر میں ان فوجی مبصرین کا ہیڈکوارٹران دنوں اسلام آباد میں ہے۔یہ سرمائی ہیڈ کوارٹر ہے جو چند برس قبل راولپنڈی سے اسلام آباد منتقل ہوا ہے جبکہ فوجی مبصرین کا گرمائی ہیڈکوارٹر سرینگر میں ہے جہاں چیف ملٹری آبزرور چھ ماہ تک کام کرتے ہیں۔میری تین چیف فوجی مبصرین جنرل تورونن،جنرل جوزف بالی،برگیڈیئر اسپنوزہ سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں جنھوں نے اعتراف کیا کہ بھارت کی طرف سے ان کی پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔گپکار روڈ سرینگر میں کشمیریوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرلز کے نام ہزاروںکی تعداد میں قراردادیں جمع کرائی ہیں مگر دوران انٹرویوز چیف ملٹری آبزرورز نے یہ بھی اعتراف کیا کہ سلامتی کونسل نے انہیں جنگ بندی لائن کی نگرانی اور سیکریٹری جنرل کو رپورٹ کرنے کا منڈیٹ دیا ہے۔اگر سلامتی کونسل ان کے مینڈیٹ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سیاسی مینڈیٹ بھی دے تو وہ کشمیریوں کے خدمات انجام دے سکیں گے۔ان فوجی مبصرین سے قیام امن فورس جیسی خدمات نہیں لی گئیں۔یو این پیس کیپنگ فورس دنیا بھر میں قابض فورسز کی جگہ خدمات انجام دینے کے لئے سلامتی کونسل کی طرف سے تعینات کی جاتی ہے۔پاکستان اور بھارت اس فورس میں ایک ساتھ بھی کام کرتے رہے ہیں۔کانگو میں جو پیس کیپنگ فورس ہے،اس میں بھارت اور امریکہ ایک فارمیشن میں کام کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی یہاں موجود ہے مگر پاک فورسز کے اہلکار بھارت کے ساتھ مل کر کام نہیں کر رہے۔اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں  بھی پاک فورسز نے عالمی امن کے لئے بہت کام کیا ہے۔پاک فوج نے عالمی امن کے لئے جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے۔ 
 
کشمیر میں بھی اگر بھارتی فوج کا انخلاء کرتے ہوئے اقوام متحدہ امن فوج تعینات کرے تو کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ ختم ہو سکتا ہے۔ تا ہم کشمیریوں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ یا اس کی اتحادی طاقتیں کشمیر کو اپنا فوجی اڈہ بنانے کے لئے کوشش کر سکتی ہیں،اس لئے کشمیر میں کسی عالمی امن فوج کی تعیناتی کے لئے کوئی منظم مہم یا سفارتکاری کی طرف توجہ نہیں دی گئی مگر کشمیر کے آر پار اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی موجودگی اس دلیل کو زائل کرتی ہے کہ دنیا کشمیر کو کشمیریوں کے مفادات کے خلاف بروئے کار لا سکتی ہے۔فوجی مبصرین کی موجودگی سلامتی کونسل کے کردار کی عکاس ہے۔ آج جنگ بندی لکیر کے نزدیک کشمیری اقوام متحدہ کے کسی نمائندے کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ یہاں آئے اور کشمیریوں کے جنگ بندی لائن کو عبور کرنے کے حق کو استعمال کرنے کی نگرانی بھی کرے۔بھارت نے جنگ بندی لائن کو عبور کرنے سے کشمیریوں کو کس قانون کے تحت روک رکھا ہے؟ یہ لکیر کوئی انٹرنیشنل بارڈر نہیں کہ اسے کسی پرمٹ یا پاسپورٹ ویزے کے بغیر پار نہ کیا جا سکے۔یہ کیسا جنگل کا قانون ہے کہ کشمیریوں کو اپنی دھرتی،اپنے گھروں میں جانے پر پابندی ہے۔جنگ بندی لکیر کو کیسے کشمیریوں کی نقل و حرکت کے لئے بند کیا گیا ہے؟اس کو عبور کرنے کی کوشش میں بھارتی فوج کس قانون کے تحت کشمیریوں کو گولیاں اور بم،مارٹر وں سے قتل کر رہی ہے؟ 
فریڈم مارچ کرنا کشمیریوںکا حق ہے۔لبریشن فرنٹ کی ہمت اور جرات کو سلام پیش ہے کہ انھوں نے دوسری بار بھارتی ریاستی دہشتگردی کے شکار اپنے بھائیوں کے مدد کے لئے آزاد کشمیر کے عوام کو متحرک کیا۔کشمیر کی دیوار برلن کو توڑنے کے لئے آزاد کشمیر کی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت اور حکومت پاکستان نے عالمی برادری یا سلامتی کونسل میں کشمیر کی جنگ بندی لائن کو کشمیریوں کو آزادانہ عبور کرنے پر بھارتی پابندی کے خلاف آواز بلند کرنے میں آج تک کیا کردار ادا کیا ہے؟ سب سیاسی نمبر سکور کرنے میں لگے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے وعدے اور دعوے بھی سلامتی کونسل میں ایک تقریر کے بعد تحلیل ہو چکے ہیں جیسے کہ اس تقریر سے دنیا ہل چکی ہے، جیسے کہ بھارت نے خوفزدہ ہو کر کشمیریوں پر مظالم بند کر دیئے ہیں، جیسے کہ بھارت نے کشمیرسے اپنی قابض فوج واپس بلا لی ہے۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس لئے آزاد کشمیر حکومت کو وزیراعظم عمران خان پر واضح کر دینا چاہئے کہ وہ چکوٹھی پہنچیں اور یہاں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین اور اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے نمائندوں،او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز کی جانب سے نامزد کشمیر نمائندوں کوچکوٹھی کا دورہ کرنے کی دعوت دی جائے۔فریڈم مارچ کے شرکاء مقبوضہ کشمیر میں 70روز سے قید کشمیریوں کے لئے ادویات، بچوں کے لئے دودھ اور خوراک  سمیت امدادی سامان لے کر جانا چاہتے ہیں۔ان کا راستہ اس لئے روکا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے فائرنگ کا خدشہ ہے۔پاکستان دنیا سے یہ سوال کرنے کی زحمت کرے کہ بھارت کس قانون اور عالمی پروٹوکول کے تحت کشمیریوں کو اپنی سرزمین کے آر پار سفر یا تجارت سے روک رہا ہے؟ امید ہے حکومت فریڈم مارچ کے دھرنے پر بیٹھے عوام کو  ہر ممکن سہولتیں پہنچائے گی۔ ان پر کسی تشدد کا سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔اسلام آباد میں دنیا کے سفارتی مشنز کو جنگ بندی لکیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی جائے۔کشمیری یواین فوجی مبصرین کی موجودگی میں اس لکیر کو پار کریں۔عالمی ریڈکراس اور امدادی اداروں کی قیادت میں بھارت کی قید میں ایک کروڑ کشمیریوں کو امدادی سامان پہنچایا جائے۔ 

تازہ ترین خبریں