08:03 am
الطاف حسین، پاکستان کیخلاف تقریر، فرد جرم، گھر میں بند!

الطاف حسین، پاکستان کیخلاف تقریر، فرد جرم، گھر میں بند!

08:03 am

٭الطاف حسین، فرد جرم عائد، گرفتاری، ضمانتO نوازشریف: ایک اور مقدمہ، گرفتاری، عدالت میں پیشی، دھرنے کی ضمانت، شہباز شریف کی مخالفتO ڈاکٹروں کی پھر ہڑتال، ہزاروں مریض رُل گئےO کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی جگہ جگہ فائرنگ، ایک فوجی جوان شہید، دو خواتین زخمی O کیپٹن صفدر نے ن لیگ کی قیادت سنبھال لی، شہباز شریف کو ہدایاتO آزاد کشمیر، چناری: جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کا دھرناO اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر کے لئے ہاتھوں کی زنجیر، وزیراعظم کی شرکتO مقبوضہ کشمیر، کرفیو کے 69 دنO چین کے صدر کا دورہ بھارت۔
 
٭لندن کی سکاٹ لینڈ پولیس نے بالآخر الطاف حسین کے خلاف فرد جرم عائد کر دی اور اسے گھر تک محدود کر دیا۔ پولیس کو تین سال کے بعد اندازہ ہوا ہے کہ الطاف حسین نے 21 اگست 2016ء کو واقعی  پاکستان کے خلاف تقریرکی اور بھارت کو پاکستان پر حملہ کے لئے اکسایا تھا! لندن پولیس نے ایک بار پہلے بھی الطاف حسین کو عمران خاں قتل کیس میں ملزم قرار دے کر اسے حراست میں لیا، پھر ضمانت پر رہا کر دیا۔ اس بار مسئلہ دوسری نوعیت کا ہے۔ 21 اگست2016ء کو الطاف حسین نے وڈیو پر کراچی میں ایم کیو ایم کو پاکستان کے خلاف توڑ پھوڑ اور بغاوت کا حکم دیا، مردہ باد کے نعرے لگائے اور لگوائے اور بھارت سے ناراضی کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف کارروائی کے لئے ایم کیو ایم کی مدد کیوں نہیں کرتا۔ اس کی تقریر پر کراچی پریس کلب کے باہر جمع ہونے والے ایم کیو ایم کے ایک ہجوم نے ایک ٹیلی ویژن سٹیشن پر حملہ کر دیا اور اچھی خاصی توڑ پھوڑ کی۔اس ہجوم میں فاروق ستار اور ایم کیو ایم کے دوسرے رہنما بھی موجود تھے۔ یہ لوگ اس سلسلے میں مقدمے بھگت رہے ہیں۔ الطاف حسین کے بارے میں بہت اہم باتوں سے پہلے لندن پولیس کی حالیہ کارروائی کا کچھ ذکر! پولیس نے لندن کے ایک پولیس سٹیشن میں الطاف حسین کو بلایا۔اس نے ہر سوال کے جواب میں کہا ’’نو کمنٹس‘‘ 66 سال 25 دنوں کی عمر والا الطاف حسین مختلف بیماریوں میں بری طرح مبتلا ہے۔ (شراب اور مختلف نشے)۔ اردگرد دو افراد کے سہارے لڑکھڑاتا ہوا چلتا ہے۔لندن پولیس نے اس پر نفرت انگیز تقریر کے الزام میں فرد جرم عائد کر کے پابند کر دیا ہے کہ وہ سفر نہیں کرے گا اور رات کو گھر سے باہر نہیں جا سکے گا۔اسے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی ایک  عدالت، مفرور، اشتہاری، قاتل اور بغاوت کے جرم میں 81 برس قید سخت کی سزاسنا چکی ہے۔لندن پولیس اس کے اثاثوں کو اپنی تحویل میںلے چکی ہے۔بیوی فائزہ نے 2007 میں طلاق لے لی تھی۔بیٹی افزا 18 سال کی ہوچکی ہے۔چند ایسی معلومات جو بعض حضرات کے علم میں نہیں ہوں گی یہ کہ الطاف حسین 17 ستمبر 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوا۔ چار بہنیں، چھ بھائی تھے۔ 1970ء میں فوج میں بھرتی ہو کر بنگلہ دیش والی لڑائی میں شریک ہوا (سپاہی نمبر 2642671)۔ 71ء میں فوج چھوڑ دی۔کراچی میں وسیع پیمانے پر مخالفین قتل کرائے،عقوبت خانے قائم کئے۔رینجرز کے آپریشن پر لندن بھاگ گیا۔ بھارت جا کر قیام پاکستان کے خلاف بیان دیا۔ پاکستان کے کچھ خاص اینکر پرسن اور کالم نگار اس کے تنخواہ دار و مددگار رہے، اب بھی ہیں۔ یہ لوگ الطاف حسین کی ٹکٹوں پر لندن جا کر اس سے ہدایات وصول کرتے رہے۔ اب بھی اس کی حمائت کرتے ہیں۔
٭کچھ گھر کی باتیں: نوازشریف کو چودھری شوگر ملز کیس میں بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔گزشتہ روز لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔اس موقع پر نواز شریف نے صحافیوں کو واضح الفاظ میں کہا کہ ن لیگ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور دھرنے میں مکمل شرکت کرے گی،اس بارے میں مولانا کو خط بھیج دیا گیا ہے اور شہباز شریف کو بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔یہ بات اہم ہے کہ شہبازشریف نے جمعرات کے مقررہ دن لاہور جیل میں نوازشریف سے ملاقات نہیں کی۔وہ جمعہ کے روز عدالت میں بھی نوازشریف سے ملنے نہیں گئے۔یہ بات بھی نمایاں ہے کہ شہباز شریف کی جگہ اب نوازشریف کے داماد کیپٹن صفدر نے ن لیگ کی قیادت سنبھال لی ہے۔صفدر نے مولانا فضل الرحمان کو نوازشریف کا خط پہنچایا اور صحافیوں کو بتایا کہ شہباز شریف کو مولانا کے ساتھ شانہ بشانہ چلنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہے۔ایک سوال پر کہ کیا شہباز شریف کو آئوٹ کر دیا گیا ہے؟ کیپٹن صفدر نے کہا کہ جس نے جو کام کرنا ہے وہ کر رہا ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ شہباز شریف نے ن لیگ کے صدر کی حیثیت سے آزادی مارچ میں شرکت کے بارے مشاورت کے لئے پارٹی کی قیادت کا اجلاس بلا رکھا ہے مگر نواز شریف کے براہ راست احکام کے بعد اس اجلاس کی کوئی اہمیت اور ضرورت نہیں رہی۔ن لیگ کے اندرونی ذرائع کے مطابق شہباز شریف بڑے بھائی نوازشریف کی پالیسیوں اور پارٹی معاملات پر بہت گرم ہیں۔انہوں نے پارٹی کے ایک اجلاس میں تلخ انداز میں کہا ہے کہ میں نے بھائی کو بار بار سمجھایا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی نہ کی جائے مگر کوئی اثر نہیں ہوا۔باخبر ذرائع کے مطابق شہباز شریف سخت ناراض ہیں۔ان میں اور نوازشریف میں واضح فاصلہ پیدا ہو گیا ہے۔ان کا کیپٹن صفدر کے بارے میں بھی سخت بیان آیا ہے۔انہوں نے نوازشریف سے ملاقات نہ کرنے کے لئے کمر درد کا جواز پیش کیا ہے جب کہ ایسی کوئی بات نہیں وہ اس بات پر سخت ناراض ہیں کہ کیپٹن صفدر پارٹی کی اجازت کے بغیر کیوں اعلانات کر رہا ہے؟
٭ آزاد کشمیر میں چکوٹھی سے چند کلو میٹر دور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے دھرنے کو آج ساتواں دن ہے۔دھرنے میں بہت سی خواتین اوربچے بھی شامل ہیں۔یہ لوگ کنٹرول لائن کراس کر کے مقبوضہ کشمیر میں جانا چاہتے ہیں مگر سکیورٹی اور بھارتی فائرنگ کی بنا پر انہیں چکوٹھی سے تقریباً پانچ کلو میٹر دور چناری کے مقام پر روک دیا گیا ہے۔یہ لوگ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے آزاد کشمیر کے بڑے بڑے پرچم لہرا رہے اور نعرے لگا رہے ہیں۔ گزشتہ روز آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم چودھری عبدالمجید بھی دھرنے میں شریک ہوئے اور مقبوضہ کشمیر کے حالات پر پھوٹ پھوٹ کر روئے۔دریں اثنا بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پر فائرنگ کا سلسلہ بڑھا دیا ہے۔گزشتہ روز تیتری نوٹ کے مقام پر بھی فائرنگ شروع ہوئی جو رات بھر جاری رہی۔اس مقام پر آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں تجارت ہوتی ہے۔جواب بند ہو چکی ہے۔(میں تیتری نوٹ کے مقام پر کنٹرول لائن پر کھڑے ہو کر بھارت کو کشمیر کے بارے میں اپنی نظم سنا چکا ہوں)
٭اسلام آباد: ڈی چوک کے مقام پر کشمیری عوام کی یک جہتی کے لئے سرکاری سطح پر ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی،اس میں وزیراعظم  عمران خان بھی شریک ہوئے۔ (پتہ نہیں ان کے ہاتھ کس نے پکڑے)۔ اس تقریب میں لازمی شرکت کے لئے تمام سیکرٹریوں اور سرکاری ملازمین کو باقاعدہ مراسلے جاری کئے گئے تھے۔
ایک شائع شدہ خبر: مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کراچی سے شروع ہو گا۔ اس کی آمدورفت کے لئے ریلوے حکام کو ایک پوری ٹرین بک کرنے کا مراسلہ بھیجا گیا ہے۔دھرنے کے ذرائع کے مطابق کراچی سے مارچ شروع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سندھ حکومت آزادی مارچ اور دھرنے کی مکمل حمائت کر رہی ہے جب کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے اسے روکنے کا اعلان کر رکھا ہے۔دریں اثنا آزادی مارچ اور دھرنے میں شرکت کرنے والے ارکان کو اپنے ساتھ لانے والی اشیا کی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔اس کے مطابق ہر کارکن ایک بستر،کپڑوں کے دو جوڑے،پانی کی بوتل،بھنے ہوئے چنے،ایک چھتری،ٹارچ،موبائل چارجر،اضافی بیٹری،طلبا درسی کتابیں اور قرآن مجید ساتھ لائیں گے۔(لوٹوں کا کوئی ذکر نہیں) ہر ضلعی جماعت کو ہدایت کی گئی کہ اپنے ساتھ ایک ایمبولنس،ڈاکٹر دوائیں اور راستے کی رکاوٹیں ہٹانے کے لئے ایک کرین بھی ساتھ لائے گی۔