09:35 am
آزادی مارچ 

آزادی مارچ 

09:35 am

بالآخر فضل الرحمان 27 اکتوبر کے احتجاج جسے وہ آزادی مارچ   کا نام دے رہے ہیں پی ایم ایل این اور پی پی پی کو بھی شامل ہونے پر رضامند کرنے میں  کامیاب ہو ہی گئے   اگرچہ دونوں جماعتوں   کو ابھی بھی اس مارچ  بارے تحفظات  ہیں مگر بظاہر وہ راضی  نظر آرہے ہیں لیکن اس مارچ  کو جو پہلے  دھرنا بھی کہا جار ہا تھا آزادی  مارچ کا نام کیوں دیا گیا ہے ۔ کس سے آزادی چاہ رہے ہیں۔ غربت سے  آزادی ، مہنگائی سے آزادی  ، بے روزگاری سے آزادی کا نعرہ لگاتے  تو شاید  اکثریت ان کا ساتھ دینے پر تیار ہو جاتی لیکن یہ آزادی کس سے چاہتے ہیں یہ ابھی تک سمجھ نہں آرہا ۔  البتہ ایک حقیقت جو بظاہر عمومی  طورپر اکثریت کی نظروں سے پوشیدہ ہے  یہ ہے کہ چونکہ حکومت  نے مدارس   کی رجسٹریشن  اور یکسا ں نصاب  کا سلسلہ کیا ہے  تاکہ دینی مدارس  سے فارغ التحصیل ہونے  والے بچے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس اور معاشرتی  علوم سے بھی بہرہ ور ہو سکیں ا ور معاشرے میں انہیں باعزت روزگار   بھی میسر آسکے ۔ لیکن ایسا سب  کچھ ہونے سے دینی جماعتوں کی مدارس پر  اجارہ داری  ختم ہو جائیگی اور تمام مدارس ایک سسٹم کے تحت  ریگولیٹ ہوں گے شاید جناب فضل الرحمن کو یہ سب گوارا نہیں  اسی لئے وہ آزادی  چاہتے  ہیں اس نئے مجوزہ سسٹم سے تاکہ مدارس  پر ان کا بھرپور  او رموثر کنٹرول  قائم رہ سکے اور وہ جب چاہیں جیسے چاہیں  ان مدارس کو استعمال کر سکیں۔ لیکن یہ فیصلہ بھی تو تین سال  قبل ہوا تھا  جب حکومت نے بیس  نکاتی پروگرام تمام  سیاسی جماعتوں  کی حمایت  سے منظور کیا  تھا مگر بوجوہ  اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔
 
یوں بھی  یہ رسم اب ختم ہونی چاہیئے کہ جب کوئی حکومت استحکام  پکڑنے لگتی ہے تو احتجاجی جلسوں  اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور احتجاج کرنے والوں کا صرف  ایک مطالبہ ہوتا ہے  کہ حکومت مستعفی  ہو جائے ۔ اگر حکومتیں اسی طرح بننی اور ختم  ہونی ہیں تو پھر الیکشن  اور پبلک مینڈیٹ  بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ۔ اگر ہم  ری پبلک   ہیں تو ہمیں  ری پبلک کے قواعد  وضوابط  کو بھی اپنانا ہو گا ۔  جمہوریت میں  اختلاف رائے   بنیادی ا ہمیت رکھتا ہے لیکن پارلیمنٹ ہمہ وقت عوام کی ضروریات  اور خواہشات  کے پیش نظر  حکومت وقت  کو تنقید اور   صائب مشوروں سے سیدھی راہ پر  چلنے پر مجبور کرتی ہے  ۔ مگر بدقسمتی   سے ہماری پارلیمنٹ نے بھی ایک عرصے سے  عوامی مسائل پر بحث  کرنا ترک  کر رکھا ہے  اور محص سیاسی تنقید ، تعریف و  توصیف  اور الزام تراشیوں  میں اپنا وقت  برباد کرتی  رہتی ہے ۔  اور آج کل  تو کشمیر اشوپرہی ہر کوئی بات کراتا ہے  ابھی جمعہ  کے روز وزیراعظم  اور صدر مملکت نے  ہیومن چین بھی ریڈ زون میں بنائی تاکہ کشمیری بھائی  بہنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور دنیا کو واضح پیغام دیں کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لیکن کل اسی کو جواز بنا کر فضل الرحمن  صاحب بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ریڈ زون  میں کشمیریوں کے حق میں جلوس  ہو سکتا ہے تو کیا پاکستانیوں  کے لئے نہیں ہو سکتا تاکہ عام لوگوں کے مسائل اجاگر کیے جاسکیں ۔ پارلیمنٹ میں  تو عوام کے منتخب نمائندے نہ مہنگائی کا رونا روتے ہیں نہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری  اور غربت  کی بات کرتے ہیں۔ کوئی یہ واویلا نہیں کرتا کہ انڈسٹریز  بند ہو رہی ہیں کاروبار  بیٹھ رہا ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت  اور اپوزیشن مل کر ان مسائل کا حل تلاش کریں۔ حکومت کو بھی اب یہ انتظار ختم کرنا ہوگا کہ نواز شریف شہباز شریف اور زرداری  سے اربوں ڈالر ریکور کرلیں گے  اور بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔
گڈ گورننس کو یقینی بنانا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔ پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹیاں مل بیٹھ کر ماہرین کے تعاون سے  تجاویز مرتب کریں۔  پارلیمنٹ سے منظوری لے کر نافذ کریں ۔ بالعموم  یہی سمجھا جا رہا تھا کہ میڈیا نے اپوزیشن کا رول  اپنا لیا ہے  مگر اب تو میڈیا کی تنقید و تجاویز  کی کوئی اہمیت نہیں رہی کیونکہ کچھ   محترم  ناقدین حکومت پر تنقید کرتے ہیں  اور کچھ حکومت کی حمایت کرتے  ہیں۔ حکومتی اوراپوزیشن  شرکاء جو ٹاک شوز میں شامل گفتگو ہوتے ہیں یا تو انہیں ایشوز سے  پوری آگاہی نہیں ہوتی یا وہ کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہوتے ہیں مبادا ریگولیٹر کو ناگوار نہ گزرے۔ لیکن اس مارچ  پر جس طرحکومتی حلقوں کی جانب سے   تنقید کا سلسلہ جاری ہے وہ ناقابل فہم ہے ۔ کیونکہ پی ٹی آئی  تو خو د دھرنے اوراحتجاج کی سیاست کرتی چلی آرہی ہے۔ کہیں  ایسا تو نہیں کہ احتجاجی مارچ کو کہیں سے تائید حاصل ہونے کی خبر ہے ۔ کیونکہ بالعموم ماضی میں بھی  اتنے بڑے پیمانے پر احتجاجی مارچ تائید کے بغیر کبھی ممکن نہیں ہوئے۔اور اس احتجاج کے ساتھ  ہی 28   اور29  کو تاجروں نے بھی احتجاج کا اعلان کردیا  ہے ۔ شاید حکومت کو یہ خدشہ ہے کہ اگر احتجاجوں کا یہ سلسلہ شروع  ہو گیا تو حکومت کے لیے بہت مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یو این میں کشمیر کاز پر  دلیری اور جرات کے ساتھ کی گئی تقریر آخر کہاں تک ساتھ دے گی۔ او آئی سی  کا اجلاس تک بلایا نہیں جا سکتا ۔کشمیر میں کرفیو کو70 واں روز ہے وہ بھی ختم  نہ ہو سکا ۔ ملک کی اقتصادی صورت حال قابو میں نہیں آرہی ۔ گڈ گورننس کا خواب  بھی ابھی تک تعبیر کی تلاش میں ہے ۔ اب اندرونی مسائل پر توجہ دینے سے ہی حالات بہتری کی  جانب رواں دواں ہوں گے۔  امریکہ کی محبت بھی  طالبان سے مذاکرات کی کامیابی  سے مشروط نظر آتی ہے ۔  چین کا اعتماد بحال کرنے کے لیے سی پیک  پر بھرپور توجہ دینا پڑے گی تاکہ  ملک میں سرمایہ کاری ہو اور روزگار کے مواقع  پیدا ہوں ۔ پی ٹی آئی کا پاور بیس ملک کے نوجوان  ہیں جنہوں نے آنکھوں میں خواب سجا رکھے ہیں ۔ ان خوابوں کی تعبیر  دینا ہوگی ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بھی احتجاجی  تحریکوں میں شامل ہونے پر مجبور ہو جائیں۔
  

 

تازہ ترین خبریں