09:36 am
توحید اور آخرت

توحید اور آخرت

09:36 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
’’بھلا دیکھو تو کہ جو پانی تم پیتے ہو، کیا تم نے اس کو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کر دیں۔ پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔‘‘
 
غذا کے ساتھ ساتھ پانی بھی اللہ تعالیٰ ہی نے فراہم کیاہے۔ اللہ نے ہوا اور پانی عام کر رکھے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کہیں پانی کا حصول آسان ہے اور کہیں مشکل ہے۔ لیکن یہ کہ اِس کے اوپر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا ۔ اللہ نے اِسے سب کے استعمال کے لیے عام بنایا ہے۔ پانی بارش کے ذریعے سرکولیٹ ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے۔  یہ نظام اُسی کے اختیار میں ہے۔ اِس کے ذریعے وہ اپنی مخلوقات کو وافر پانی فراہم کر رہا ہے۔ پانی کی بندش یا کمی اللہ کی طرف سے سزا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر تم زکوٰۃ دینا چھوڑ دو تو اللہ تعالیٰ بارش بند کر دے گا۔ مسلمان اگر زکوٰۃ دینا چھوڑ دیں تو یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں بارشیں بند ہو جائیں۔ لیکن یہ چوپائے اور مویشی ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ بارشوں کو جاری رکھتا ہے۔ یہ بھی اللہ کا کرم ہے کہ اُس نے پانی کو میٹھا بنایا۔ سمندر کا پانی کھارا ہے،اُسے آپ پی نہیں سکتے ۔لیکن اسی کھارے پانی کو اللہ تعالیٰ نے صاف شفاف میٹھے پانی کا ذریعہ بنا دیاہے۔
 اسی پانی سے بخارات اوپراُٹھتے ہیں جس سے بادل بنتے ہیں۔ یہی بادل جب برستے ہیں تو زمین میں ہر جگہ پانی پہنچ جاتا ہے۔ جس مخلوق کو اللہ نے خشکی اور ہوا میں پیدا کیا،اُس کی پرورش کے لئے میٹھا پانی درکار تھا، لہٰذا میٹھے پانی کی فراہمی کے لئے بارش کا انتظام کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے پانی میں یہخاصیت رکھ دی کہ گرمی سے بھاپ بنتے وقت وہ کوئی ایسی چیز ساتھ لے کر نہ اُٹھے جو اُس کے اندر تحلیل ہو گئی ہو۔ چنانچہ جب سمندر کا پانی حرارت کے اثر سے بھاپ میں تبدیل ہو کر اوپر اُٹھتا ہے تو ساری آمیزشیں زمین ہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ اگر اس دوران میں اس میں سمندر کا نمک بھی شامل ہوتا تو اس کے نتیجے میں ہونے والی بارش کا پانی کھارا ہوتا۔  
 اُس کو نہ تو انسان پی سکتا تھا اور نہ اس سے نباتات ہی اُگ سکتی تھیں۔ آگے فرمایا: ’’بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو، کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں۔‘‘
قدیم زمانے میں اہل عرب آگ جلانے کے لئے لکڑی کا استعمال کرتے تھے۔ سو اس حوالے سے فرمایا کہ یہ جو آگ تم سلگاتے ہو اس کا درخت کس نے پیدا کیا ہے؟ کیا تم اس کے پیدا کرنے والے ہو یا ہم ہی نے اس کو پیدا کیا ہے۔
’’ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے۔‘‘
یہ آگ جو تم سلگاتے ہو اسے ہم نے تمہارے لئے نصیحت اور یاد دہانی کا ذریعہ بنایا ہے۔ یہ تمہیںبھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ یہ اُس آگ کی یاد دلاتی ہے جس کا ایندھن گناہ گار انسان اورپتھر بننے والے ہیں۔ دیکھو تو، یہ دنیا کی آگ ہی کس قدر شدید ہے کہ تم اس میں چند سیکنڈ کے لئے بھی اپنی انگلی نہیں رکھ سکتے۔ جہنم کی آگ تو اس سے سو گنا سے بھی زیادہ شدید ہو گی، اگر تم اُس میں ڈال دئیے گئے تو پھر کیا ہو گا۔ لہٰذا اُس آگ سے بچنے کی فکر کرو اور شیطان کا راستہ چھوڑ کر رحمان کے راستے پر   آ جائو۔ دنیا کی اس آگ میں ایک تو نصیحت کا یہ پہلو ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے اس کو حاجت مندوں کے لئے سامان زیست بنایا ہے۔ آگ پرتم کچی غذائیں پکا کر کھاتے ہو۔ پھرآگ ہی ہے جو جنگل اور صحرا میں اُترے ہوئے مسافروں کے کام آتی ہے، خصوصاً  جاڑے کے موسم میں۔ وہ آگ جلا کراُس پر تاپتے ہیں اور اُس پر کھانا بھی پکاتے ہیں۔ رکوع کے آخر میں فرمایا:’’تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرو۔‘‘
 اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات سب سے زیادہ عظمت والی ہے۔ وہ ہر عیب، ہر نقص اورہر کمزوری سے پاک ہے۔ وہ خالق ہے، باقی سب مخلوق ہے۔ وہ مالک ہے، باقی سب مملوک اور غلام ہیں۔عزت بزرگی میں اُس کے ساتھ مخلوق کی کوئی نسبت نہیں۔ پس اُس کے مبارک نام کی تسبیح کرو۔ اُس کا با برکت نام لے کر یہ اعلان کرو کہ وہ تمام عیوب و نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے ،جو کفر و شرک کے ہر عقیدے کا حصہ ہیں۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

تازہ ترین خبریں