09:38 am
نوشتۂ تقدیر

نوشتۂ تقدیر

09:38 am

سارے سامراجی الٹے لٹک جائیں،ایک دن کشمیریوں کوآزادہوناہے اوراس خطہ فردوس سے بھارتی استعمارکورخصت ہونا ہے۔یہی نوشتہ تقدیرہے لیکن کوئی اندھاتقدیرکالکھانہ پڑھ سکے تواس میں کسی کاکیاقصور۔ اندھے کااندھیراتوروشنی کاراستہ نہیں روک سکتا!
ہزاروں سال گزرگئے لیکن ان عقل کے اندھے انسان نے کچھ نہیں سیکھا،اب بھی وہ نہیں جانتا۔اگرچہ طاقت کی ایک منطق ہوتی ہے،وقتی طورپرجوغالب آسکتی ہے لیکن اصل قوت توسچائی کی ہوتی ہے، قراراورقیام اسی کوہے،اسی کیلئے حقیقی غلبہ اوردوام ہے۔ہزارتدبیروں سے بھی اس اصول کونہیں بدلاجا سکتاکہ اقلیت تادیراکثریت پرحکومت نہیں کرسکتی، خاص طورپرایسی اکثریت جوسرجھکانے اورسپرانداز ہونے پرتیارنہ ہو۔72برس گزرگئے لیکن آزادی کاجذبہ پہلے سے زیادہ جواں اورہمت پہلے سے زیادہ بیباک!نامورمرخ ٹائن بی نے بہت پہلے کہاتھاکہ جارح اقوام کی قسمت کے ستارے ہمیشہ ڈوب جاتے ہیں۔یقین نہ ہوتوافغانستان ہی کودیکھ لیں۔روس جوایک عالمی طاقت کی بناپرچندگھنٹوں میں دنیاکے کئی ملکوں کو تاراج کرکے اپنی ہیبت کاسکہ منواچکاتھالیکن یہ ا پنے پڑوسی افغانستان میں ایک ایسی فاش غلطی کربیٹھاکہ آج تک اپنے زخموں کوسہلارہاہے۔ امریکا نے ایسی ہی حماقت کی،وقت سے کچھ نہ سیکھااوراب اسی سرزمین سے نکلنے کے راستے ڈھونڈرہاہے۔

امریکااوراس کے اتحادی سامراج نے طالبان کوخریدنے اوران کوتقسیم کرنے کیلئے مغربی رائے عامہ کی خون پسینے کی کمائی سے3بلین ڈالرزمختص کئے، انہیں شریکِ اقتدارکاجھانسہ بھی دیا،نیٹوکے زیرِسایہ لاکھوں افغان افرادپرجدیدآلات سے مسلح مشتمل پولیس تیارکرنے کادلاسہ بھی دیاگیا،لاکھوں افرادپر مشتمل خطے کی بہترین لڑاکاسپاہ کوجدیدترین ہتھیاروں سے لیس کرنے کافریب بھی دیا،اب انہی طالبان سے جن کواپنی بے پناہ طاقت کے غرورمیں تہس نہس کرنے آیا تھااپنے اتحادیوں سمیت بوریا بسترلپیٹنےکے بعدخفیہ مذاکرات کے کئی دورکرچکا ہے لیکن افغان حریت پسندان سازشوں کوخوب سمجھتے ہیں۔ کشمیری بھی یہ جان چکے ہیں کہ اگرروسی اورامریکی سامراج افغانستان میں فتح یاب نہیں ہوسکے تو بھارتی سامراج اور کتنی دیرکشمیری قوم کوطاقت کے بل بوتے پران کوحق آزادی سے محروم رکھ سکتاہے جبکہ بھارت طاقت کے لحاظ سے مغرب کے عشرعشیر بھی نہیں اورکشمیریوں کا حوصلہ اورقربانی کاعزم کسی طورپربھی افغانوں سے کم نہیںمگرہزاروں سال کے بعدسامراج کے مزاج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،آج بھی غلبے کی وہی حیوانی جبلت ان طاقتوں پرغالب ہے۔آج بھی آرزوکی وحشت میں بے لگام لشکر خدا کی زمین کو چراگاہ بنادینے کے آرزومندہیں حالانکہ یہ تواب ممکن ہی نہیں۔حریت انسان کے ساتھ سمجھوتانہیں کرتی بلکہ انسان کوحریت کی بات ماننی پڑتی ہے۔داناؤں کاکیسا ہی لشکر ہواورکیسی ہی قہارافواج، تاریخ کے دھارے کوبدلانہیں جا سکتا۔ جس رخ پراس کو بہناہوتاہے،وہ اسی پربہتاہے۔کشمیرمیں اپنی مرضی کے انتخابات میں اپنے مہروں کوآگے بڑھا کرآزادی کے شاہ کومات نہیں دی جاسکتی ۔اگرایسا ممکن ہوتاتوان 7دہائیوں میں تیسری نسل بھی اپنے آبا اجدادکے نقش قدم پرچلتے ہوئے قربانی کی ایسی عظیم الشان مثالیں پیش نہ کررہی ہوتی بلکہ بھارتی نام نہادجمہوریت کاحصہ بن چکی ہوتی۔ایک لاکھ سے زائدقربانیوں کوبھول کردہلی سرکارکے لاڈلوں کواپنارہنمامان کرمالی فوائد پر قناعت کرلیتی۔بی جے پی کے مرکزی لیڈر مرلی منوہرجوشی کویہ معنی خیزبیان دینے کی ضرورت نہ پیش آتی ’’کشمیر میں اوردولت نہ جھونکو‘‘جوشی نے انکشاف کیاکہ ہرسال کشمیر میں990ارب روپے جھونک دیئے جاتے ہیں جومجموعی آبادی کامحض ایک یادوفیصدہے،اس طرح دوفیصدکشمیری ہندوستان کاچودہ فیصد بجٹ کھاجاتے ہیں۔
 کچھ ایسے ہی خیالات کااظہارراجیہ سبھامیں اپوزیشن بی جے پی کے لیڈرارون جیٹلی کی طرف سے بھی آیاہے کہ ’’کشمیر پالیسی نہروکی غلطی سے پیداہوئی ہے،جورقومات کشمیر میں فورسزپراس وقت خرچ کی جارہی ہیں ،وہ ان کسانوں کی فلاح وبہبود پرخرچ کی جاتیں جواس وقت بھوک سے مررہے ہیں۔حقیقت تویہ ہے کہ آزادی کے بعدسے کشمیر کی  صورتحال کس قدرخراب ہوئی ہے‘‘۔بی جے پی کے دومرکزی رہنمائوں کی طرف سے یہ اعتراف کہ کشمیرایک معاشی بوجھ  ہے بجائے خودایک اہم پیغام ہے۔اس کافیصلہ توبہت جلدوقت کردے گاکہ یہی نوشتہ دیوارہے جس کوپڑھنے سے یہ عقل کے اندھے گریزکررہے ہیں یاخودفریبی میں فرارکاکوئی راستہ تلاش کررہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس خطے میں سب سے زیادہ مالی وعسکری وسائل اورذرائع ابلاغ کی ایک خاطرخواہ قوت کادعوی کرنے والابھارت جواب سلامتی کونسل کی مستقل مگرغیر مستحق رکنیت کاخواب دیکھ رہاتھا،اب کشمیر میں اقوام متحدہ کے چارٹرکی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے اس خطے میں ایٹمی تصادم کاراستہ ہموار کررہاہے جس سے نہ صرف یہ خطہ نیست ونابوہوگابلکہ ساری دنیااس سے شدید متاثرہوگی۔
خودبھارتی افواج کے کئی جنرل اس بات کا برملا اعتراف کر چکے ہیں کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو طاقت کے بل بوتے پرختم نہیں کیاجاسکتا ۔یہی وجہ ہے کہ بدترین حالات میں بھی دہلی سرکار کی نوکریوں اورمالی امدادکی خوبصورت پرفریب پیشکش بھی کشمیریوں کواپنی طرف مائل نہ کرسکی ۔وہ لوگ جوایک لاکھ سے زائدقربانیوں سے سات سو قبرستانوں کے نئے شہرآبادکرچکے ہیں اب وہ دہلی سرکارکی باتوں کااعتبارکرنے کیلئے تیارنہیں۔مکمل آزادی کے ہدف نے ان کی تاریک راتوں کوروشن رکھاہے۔غلامی کے اندھیروں کووہ مزید ایک لمحے کیلئے برداشت کرنے کوتیار نہیں۔
 دہلی سرکار نے اپنے صہیونی دوستوں کی پیروی کرتے ہوئے مہینے سے زائدکرفیو نافذکرکے جموں وکشمیر کو دوسراغزہ بناکربھوک وپیاس کے کربناک عذاب سے دوچارکررکھا ہے لیکن ہرآنے والا دن ان تمام غیرانسانی ہتھکنڈوں کوخاطرمیں نہیں لارہا۔شرائط کیاجیتنے والے عائدکیاکرتے ہیں یاہارنے والے؟ دہلی سرکارکے سرمیں طاقت کا نشہ ہی ان کی موت کاسبب بنے گا۔برہمنی سامراج خودکوسب سے بالاتر سمجھتاہے اوراس کاخیال ہے کہ صہیونی دوستوں، مغرب اور امریکاکی آشیرباد سے کشمیرکی دورافتادہ سرزمین میں بسنے والوں کے ساتھ وہ اپنامن مانا سلوک جاری رکھ کرانہیں دبالے گا۔    (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں