09:38 am
آر ایس ایس ، قادیانی گٹھ جوڑ اور ختم نبوت کانفرنس

آر ایس ایس ، قادیانی گٹھ جوڑ اور ختم نبوت کانفرنس

09:38 am

پاکستان ٹیلی ویژن پر چلنے والی خبر کے مطابق ، بھارتی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس میں قادیانیوں کے متحرک کردار کا پردہ فاش کرتے ہوئے بھارتی اپوزیشن لیڈر شنکر سنگھ واگھیلانے کہا کہ قادیانی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس سے تربیت حاصل کررہے ہیں۔سرکاری ٹی وی پر قادیانیوں اور آر ایس ایس کے گٹھ جوڑ کے حوالے سے نشر ہونے والے بیان کے بعد جماعت قادیانیہ جو اپنے آپ کو جماعت احمدیہ بھی کہتے ہیں کے پاکستانی ترجمان سلیم الدین کا ردعمل میڈیا کی زینت بنا، قادیانی ترجمان کے مطابق ’’بھارتی سیاست دان شنکر سنگھ واگھیلا کا ’’پرامن‘‘ جماعت احمدیہ (قادیانی) کو انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس سے جوڑ نا قابل مذمت ہے اور یہ کہ کانگریسی لیڈر کے6 سالہ پرانے، جھوٹے الزام کو6 اکتوبر کو پاکستان کے قومی چینل پر نشر کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔
 
یہ بیانات پڑھ کر ایسے لگتا ہے کہ جیسے نریندر مودی حکومت کی قربت کی وجہ سے ہندوستان میں قادیانی جماعت اور کانگرس میں کافی دوریاں پیدا ہوچکی ہیں کیونکہ قادیانی ترجمان نے اپنے مذمتی بیان میں شنکر سنگھ کو کانگریسی لیڈر قرار دیا ہے۔
قادیانی ترجمان نے بیان کو چھ سالہ پرانا قرار دیا ہے ، میرا ان سے سوال ہے کہ مرزا غلام قادیانی  کی سو سالہ پرانی تحریروں کو تو وہ آج بھی مانتے ہیں لیکن شنکر سنگھ واگھیلا کے صرف6 سالہ پرانے بیان کو وہ جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے رہے  ہیں تو کیوں؟کیا شنکر سنگھ واگھیلا کا یہ بیان اس لئے جھوٹا اور بے بنیاد تسلیم کرلیا جائے کیونکہ چھ سالہ پرانا ہے؟ ’’سوری‘‘ ایسا تو کوئی عقلمند نہیں کرسکتا، ہاں البتہ ان چھ سالوں میں اگر جماعت قادیانی ہندوستان نے شنکر سنگھ واگھیلا کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی ہو تو اس کا ثبوت پیش کیا جائے۔
لگے ہاتھوں کچھ سوالات میں قادیانی جماعت کے ترجمان کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں  اور وہ یہ کہ بھارت کے بدمعاش نریندر مودی کی حکومت نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے وہاں تقریباً ستر دنوں سے کرفیو لگا رکھا ہے، بھارتی  فوج کشمیری مسلمانوں کو بدترین درندگی کا نشانہ بنارہی ہے، پچھلے71 سالوں کو تو چھوڑیئے ان70 دنوں میں جماعت قادیانی پاکستان، لندن، جرمنی یا اسرائیل کی طرف سے نریندر مودی کی مذمت میں کوئی بیان دیا گیا ہو تو وہ بھی سامنے لایا جائے۔ یاد رہے کہ میں ہندوستان کے قادیانیوں کی بات نہیں کررہا کیونکہ اس کا جواب کوئی قادیانی ہمنوا لکھاری یہ دے سکتا ہے کہ سمندر میں رہ کر مگرمچھ سے  بھیر رکھنا بہت مشکل ہوتاہے لیکن جماعت احمدیہ (قادیانی) پاکستان کی ذمہ داری تو بنتی تھی کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کرتی۔ 
چناب نگر میں عالمی مجلس ختم نبوت کے زیراہتمام ’’38 ویں آل پاکستان دو  روزہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس‘‘ میں شریک ہزاروں شرکاء کے سامنے جو قراردادیں پیش کی گئیں اس کے مطابق ’’تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے قانون کو غیر موثر کرانے و ختم کرانے کی قادیانی سازشیں بام عروج کو پہنچ چکی ہیں، حکوت ناموس رسالتؐ اور ختم نبوتؐ کے قوانین کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کو بے نقاب کرے۔
فوج کا ماٹو جہاد ہے جبکہ قادیانی ’’جہاد‘‘ کے منکر ہیں لہٰذا آئندہ انہیں فوج میں کمیشن نہ دیا جائے ۔ ملک بھر کے تمام سول اور فوج کے محکموں سے قادیانیوں  کو کلیدی عہدوں سے الگ کیا جائے‘‘ قادیانی ترجمان جمعۃ المبارک کے دن چناب نگر میں منعقدہ عظیم الشان ختم نبوتؐ کانفرنس میں منظور کی جانے والی ان قراردادوں سے متفق ہیں؟ اور اگر نہیں تو کیوں؟
ختم نبوت کانفرنس میں شریک سیاست دانوں، تمام مسالک کے نامور علماء کرام سمیت ہزاروں افراد نے ان قراردادوںکی بھی  مکمل حمایت کی کہ قادیانیوں نے چناب نگر میں اپنا علیحدہ عدالتی نظام قائم کررکھا ہے۔ تربیت یافتہ مسلح تنظیم خدام الاحمدیہ سمیت چناب نگر میں سیکورٹی کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے والوں پر سخت پابندی عائد کی جائے اگر ملک کی دوسری عسکری تنظیموں پر پابندی لگ سکتی ہے تو قادیانی مسلح تنظیم خدام الاحمدیہ پر پابندی کیوں نہیں لگ سکتی؟ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی … اگر دوسری عسکری تنظیموں سے مراد جہادی تنظیمیں ہیں تو ان کی مخالفت تو دہلی، نیو یارک اور دیگر مغربی ممالک کرتے رہے اس لئے ان پر پابندی لگانا ملکی مفاد تھا جبکہ قادیانی، دہلی، پینٹاگون اور یروشلم سمیت مغربی ممالک کے ’’لے پالک‘‘ پیارے اور راج دلارہے ہیں اس لیء ان کی مسلح تنظیم خدام الاحمدیہ پر پابندی لگانا یا پابندی لگانے کے مطالبے کرنا ملکی مفاد کے خلاف سمجھا جاتا ہے، پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمان مسالک کے کروڑوں وابستگان ناراض ہوئے بغیر یہ بات پلے سے باندھ لیں کہ نہ تو چناب نگر میں قائم قادیانیوں کے علیحدہ عدالتی نظام کو کوئی چھیڑ سکتا ہے اور نہ ہی ان کی کسی مسلح تنظیم پر کوئی پابندی لگانے کی جرات کرسکے گا ۔ ویسے جماعت احمدیہ کے ترجمان کا اس حوالے سے کیا خیال ہے انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ردعمل میں اس کی بھی وضاحت کر دیں۔
پاکستان ان غریب پاکستانیوں کا ملک ہے کہ جن کی نہ اولادیں باہر کے کسی ملک میں ہیں، نہ جائیدادیں اور نہ ہی روپیہ باہر کے ملکوں میں پڑا ہے، کسی غریب پاکستانی کی بات تو ایک ایس ایچ او نہیں سنتا، قادیانیوں کی بات تو امریکہ اور یروشلم تک سنی جاتی ہے۔ غریب پاکستانی نے کسی ظالم کے خلاف شکایت کرنی ہو تو اس کی جیب میں اسلام آباد آنے کا کرایہ نہیںہوتا لیکن سرگودھا کا ایک سزا یافتہ  مجرم عبد الشکور پاکستان کے خلاف شکایت کرنے کے لئے امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دربار تک جاپہنچا۔ ایک معمولی کتب فروش قادیانی کی رسائی اگر امریکی درباروں تک ہے تو پھر باقیوں کا حال کیا ہوگا؟ کیا قادیانی ترجمان اس بات کی وضاحت کریں گے کہ آخر عبدالشکور نامی مجرم کی رسائی امریکی صدر تک کیسے ہوئی ، اس کے امریکہ کے اخراجات کون برداشت کررہا ہے؟ چناب نگر میں منعقد ہونے والی ختم نبوتؐ کانفرنس میں قادیانیوں پر جو الزامات عائد کیے اس حوالے سے ان کے تاثرات کیا ہیں۔ قادیانی ترجمان جو اپنی جماعت کے لئے پرامن اور مہذب  ہونے کے دعویدار ہیں تو پھر ان کے عقائد میں ایسا کیا خوفناک  زہر شامل ہیں کہ جس کی وجہ سے ہر سچا پاکستانی مسلمان ان سے حد درجہ نفرت کرنے پر مجبور ہے؟