09:40 am
وزیراعظم کا سعودی عرب، ایران میں ثالثی مشن

وزیراعظم کا سعودی عرب، ایران میں ثالثی مشن

09:40 am

٭وزیراعظم عمران خان ایران اور سعودی عرب کے دورے پر روانہOجاپان: ٹوکیو میں تاریخ کا بدترین طوفان، ٹرینیں، ہوائی اڈے بندO کنٹرول لائن بھارتی فائرنگ، 10 سالہ بچہ شہید،16 افراد زخمیO بھارت: چین کے صدر کا دورہ، آج نیپال جائیں گےO مقبوضہ کشمیر، مودی کے اشتہارا، امن کی اپیلیںO نوازشریف: ن لیگ بیٹے حسین نواز کے سپردO ’’پاکستان کی فوج نے دو ماہ میں 600 سرحدی خلاف ورزیاں کیں۔ اس سال 31 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے‘‘ بھارتی حکومتOآزادی مارچ، گرفتاریوں کی فہرستیں!
 
٭اسلام آباد میں جمعہ کے روز وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کثیر تعداد میں سرکاری وغیر سرکاری افراد نے کشمیر کے ساتھ یکجہتی کی انسانی زنجیر بنائی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے مختصر خطاب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی دکھائی دینے لگی ہے۔ اس تحریک کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا جائے گا۔ وزیراعظم آج ایران اور سعودی عرب جا رہے ہیں۔ ان دونوں ملکوں نے عمران خان کی طرف سے امن کے لئے ثالثی کی پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے۔ عمران خان ایسے موقع پر بیرون ملک دورے پر جا رہے ہیں جب ملک میں اپوزیشن پارٹیاں حکومت کو ختم کرنے کی مہم چلا رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق عمران خان کا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے ’آزادی مارچ، کو کوئی اہمیت نہیں دے۔ دریں اثنا خبروں کے مطابق آزادی مارچ کو روکنے کے لئے ضلعی سطحوں پر اپوزیشن خاص طور پر جے یو آئی کے مدارس، رہنمائوں اور کارکنوں کی فہرستوں کا کام شروع ہورہا ہے۔ مبینہ طور پر پولیس اور دوسرے اداروں کو اس بارے میں ہدایات بھی جاری ہو چکی ہیں۔
٭مریم نواز، اور کیپٹن صفدر کے بعد ن لیگ کے معاملات نوازشریف نے بڑے بیٹے حسین نواز کے سپرد کر دیئے ہیں۔ انہیں ایک خط لکھا ہے اس میں ہدائت کی گئی ہے کہ اب وہ لندن سے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ کیپٹن صفدر نے کہا ہے کہ نوازشریف نے ایک خط شہباز شریف کو بھی لکھا ہے اس میں اہم ہدایات ہیں۔ ن لیگ کے بعض ذرائع کے مطابق پارٹی کے سینئر رہنما پریشان ہو رہے ہیں کہ شہباز شریف کو مکمل طور پر پارٹی سے آئوٹ کر دیا گیا ہے، اب ہدایات لندن سے آئیں گی۔ نوازشریف نے گزشتہ روز عدالت میں پیشی کے موقع پر حکومت کے خلاف سخت بیان دیا۔ اس سے پھر گرما گرمی پیدا ہو گئی ہے۔
٭چین کے صدر جی پنگ گزشتہ روز دو دن کے دورے پر جنوبی بھارت کے تامل ناڈو کے شہر بھاگلم پور پہنچے تو ہوائی اڈے پر بھارتی صدر یا وزیراعظم مودی کی بجائے تامل ناڈو کے گورنر بنواری لال نے خیر مقدم کیا۔ رہائش گاہ پر پہنچنے کے بعد وزیراعظم مودی سے ڈھائی گھنٹے مذاکرات کئے ان میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ ان مذاکرات کو غیر رسمی قرار دے کر ان کا باقاعدہ اعلامیہ جاری نہیں کیا صرف اتنا کہا گیا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے تجارت کے فروغ اور دہشت گردی کے انسداد کے لئے ایک دوسرے سے تعاون پر اتفاق کیا ہے۔
٭کشمیر میں کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی گولہ باری کا سلسلہ متعدد مقامات پر پھیل گیا ہے۔ گزشتہ روز بھارتی فائرنگ سے ایک 10 سالہ بچہ شہید اور 16 افراد زخمی ہو گئے۔ وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں بھارتی سفارت خانہ کو ایک اور شکائت درج کرا دی ہے۔ دوسری طرف بھارتی حکومت الٹا پاکستان پر سخت الزامات لگا رہی ہے۔ گزشتہ روز بھارت کی وزارت داخلہ کا ایک بیان جاری ہوا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ پچھلے دو ماہ میں پاکستان کی فوج نے کنٹرول لائن کی چھ سو خلاف ورزیاں کیں اور جنگی  ضابطوںکو نظر انداز کر کے عام ہلکی فائرنگ کی بجائے بھاری گولے برسائے جا رہے ہیں۔ بھارتی بیان کے مطابق اس سال، اب تک پاکستانی فوج کی فائرنگ سے 31 بھارتی فوجی ہلاک اور بے شمار زخمی ہو چکے ہیں اور یہ کہ ان تمام واقعات کے بارے میںپاکستانی سفارت خانے کو باقاعدہ مراسلے بھیجے جا چکے ہیں۔
٭ایک خبر: مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کو روکنے کے لئے حکومت نے اب تک سرعام کوئی کارروائی نہیں کی تاہم مولانا کی پارٹی کے اہم رہنمائوں اور زیر اثر مدارس کی انتظامیہ اور طلبا کی تعداد وغیرہ کی فہرست بنانے کا کام شروع ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان مدارس کو سیاست سے دور رہنے کی ہدایات جاری کی جانے والی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مدارس کے طلبا اگر قومی شناختی کارڈ بنواتے ہیں تو انہیں سیاست میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔ سرکاری ذرائع نے اس موقف کو اس بنا پرغلط قرار دیا ہے کہ شناختی کارڈ تو تمام سرکاری ملازمین کے پاس بھی ہوتا ہے مگر انہیں سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ان ذرائع کے مطابق طلبا کو سیاست میں وقت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
٭صدر عارف علوی اپنی اہلیہ کے ساتھ پاکستان اور سری لنکا کا میچ دیکھنے کے لئے لاہور آئے توان کی آمد و رفت کے سلسلے میں لاہور چھائونی اور شہر کی بڑی سڑکیں دیر تک مکمل طور پر بند رکھی گئیں۔ ان پر عام شہریوں کی ٹریفک روک دی گئی اور خاص پروٹوکول کے لئے پولیس کو ہدایات جاری کی گئیں کہ ہر پولیس اہلکار صاف ستھری وردی پہن کر آئے گا، جوتے پالش کئے ہوئے ہوں، واسکٹ بہت صاف ستھری اور چمک رہی ہو؟ ایک چھتری اور پانی کی بوتل بھی ساتھ ہو اور یہ کہ کسی جگہ دو یا زیادہ اہلکار اکٹھے نہیں ہوں گے بلکہ الگ فاصلے پر کھڑے ہوں گے! یہ اسلامی جمہوریہ نام کے ایک ملک کے حکمرانوں کے کروفر کی ایک مثال ہے۔ ستم یہ کہ صدر مملکت نے ایئرپورٹ سے سٹیڈیم اور وہیں سے واپس ایئرپورٹ جانا تھا مگر پولیس نے دوسری طرف ایئرپورٹ سے گورنر ہائوس تک مال روڈ بھی بند کئے رکھی! صرف ایک حکمران اور اس کی اہلیہ کے لئے شہر کے لاکھوں افراد کو گھنٹوں عذاب میں مبتلا رہنا پڑا! مگر یہ نئی بات نہیں۔ تمام سابق صدر اور وزیراعظم بھی اسی شان و شوکت اور اپنے اقتدار کی نمائش کی ہوس اورخبط میں مبتلا رہتے تھے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف، یوسف رضا گیلانی، صدر رفیق تارڑ لاہور کے رہنے والے تھے۔ انہیں اسلام آباد میں رہتے ہوئے لاہور میں گھر خاص طور پر شاہانہ پروٹوکول کی نمائش کی یاد بہت ستاتی رہتی تھی۔ نوازشریف نے تو راستے میں رک کر باغ جناح میں تین گھنٹے کرکٹ بھی کھیلنا ہوتی تھی۔ (چوکے چھکے کھانے والے خاص بائولر لائے جاتے تھے)۔ البتہ لاہور میں رہنے والا ایک بالکل درویش قسم کا وزیراعظم بھی آیا۔ اس کا نام ملک معراج خالد تھا۔ وزیراعظم بن کر کسی پروٹوکول کے بغیر ریگل چوک کے نزدیک لکشمی مینشن کالونی میں اپنے فلیٹ میں آ گئے۔ ان کی بیگم ہاتھ میں سبزی کی ٹوکری اٹھائے سبزی کی ایک دکان کی طرف نکلی ہوئی تھیں۔ ملک صاحب انہیں ڈھونڈنے نکل پڑے۔ ابھی گھر پر آنے والے پروٹوکول والے بھی بیگم صاحب کی تلاش میںنکلے ہوئے تھے۔ ملک صاحب بھی پیدل سڑک پر آ گئے۔ ریگل چوک میںگورنرحامد کی گاڑی گزرنے والی تھی۔ سڑک بند تھی۔ ملک صاحب ہجوم میں پھنس گئے۔ گورنر انہیں ڈھونڈ رہا تھا۔ فون پر پوچھا کہ ملک صاحب! آپ لاہور آئے ہیں، کہاں ہیں؟ جواب دیا کہ ریگل چوک میں تمہارے پروٹوکول میںپھنسا کھڑا ہوں! گورنر گھبرا گیا مگر کہنے لگا کہ فوری طور پر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ آئی جی کو حکم دے رہا ہوں کہ آپ کو تلاش کیا جائے۔ دوسری طرف پروٹوکول والے بیڈن روڈ پر سبزی کی دکان پر بیگم صاحبہ کے پاس پہنچے، وہ سبزی مہنگی ہونے پر دکاندار سے ناراض ہو رہی تھیں۔ پروٹوکول والوں نے انہیں شاندار گاڑی پیش کی۔ لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔ بیگم صاحبہ نے جواب دیا، ملک صاحب وزیراعظم ہوں گے، میرا اس بات سے کیا تعلق؟ جس طرح آئی ہوں اسی طرح واپس جائوں گی۔ وہ پیدل چل پڑیں۔ پروٹوکول کا سارا عملہ بھی پیچھے پیدل چل پڑا۔

تازہ ترین خبریں