07:25 am
ایرا ن سعودیہ میں مطلوب مفاہمت اور طویل مدتی کشمیری جہاد

ایرا ن سعودیہ میں مطلوب مفاہمت اور طویل مدتی کشمیری جہاد

07:25 am

خدا کرے کہ ایران اور سعودیہ میں مفاہمت اور ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم و قبول کرنے
خدا کرے کہ ایران اور سعودیہ میں مفاہمت اور ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم و قبول کرنے کی نئی صلاحیت اور تدبر و فراست بھی سچ مچ پیدا ہو جائے۔ ماشاء اللہ پاکستان کو سہولت میسر رہی ہے کہ وہ ماضی میں بھی ایران اور سعودیہ میں مفاہمت کی کوششیں کرتا تھا جبکہ اب یہ سہولت نئے انداز میں وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران او ر سعودیہ کے ذریعے میسر ہے کہ پاکستان دونوں قریبی مسلمان ممالک میں بطور سہولت کار مفاہمت اور صلح کی کوششیں کر ے اور فرمان الٰہی کی روشنی میں د ونوں کو ایک دوسرے کے دشمن کی بجائے دوست، ہمدرد، مددگار بن کر رہنے پر آمادہ کرسکے۔ 
آرامکو پر حملہ ہماری نظر میں  صرف امریکی و اسرائیلی صلاحیت تھی عملاً بھی انہوں نے ہی آرامکو پر حملہ کیا تاکہ سعودیہ و ایران میں جنگ سے گریٹر اسرائیل کا قیام مزید آسان بنایا جاسکے اور کچھ نہیں تو نیتن یاہو کی سیاست میں  طاقت اور اقتدار کا جلوہ نمودار ہوسکے۔ اس حملے کا مقصد امریکہ حاصل کرچکا ہے مزید یہ کہ سعودیہ کو بھی امریکہ کا مزید محتاج  بنایا جاسکے۔ امریکہ تین ہزار فوجی اور اسلحہ بھیج کر یہ مقصد  بھی حاصل کرچکا ہے، اس کا خرچہ سعودیہ دے گا۔ سعودیہ کو کھلے دل سے تسلیم کرلینا چاہیے کہ ایران کو اپنا تیل فروخت کرنے کی سہولت اور آزادی سعودیہ کی طرح میسر ہونی چاہیے۔ ایران زمینی حقیقت ہے جبکہ ایران کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ سعودیہ اور اس کا نظام بادشاہت بھی زمینی حقیقت ہے۔ آل سعود اسی طرح زمینی حقیقت  ہیں جس طرح ایران میں ایرانی انقلابی ولایت فقیہ بادشاہت ایک زمینی حقیقت ہے۔ ماضی میں خلیجی  عربوں نے اپنی عسکری طاقت کو  بنایا ہی نہیں تھا اس کی یہ سزا ہے کہ کویت جنگ سے آج تک عرب امریکی عسکری چھتری کے محتاج بنے رہے ہیں مگر ساتھ ہی یرغمال بھی بن گئے ہیں۔ اب عربوں کو اپنی عسکری طاقت کی نئی تعمیر اور تکمیل کرنی چاہیے مگر یہ کام ایران مخالف نہیں بلکہ عرب تحفظ اور بقاء کے لئے ہونا چاہیے کہ گریٹر اسرائیل ایرانی سرزمین پر نہیں بلکہ عرب سرزمین پر بن رہا ہے اس نکتے کو اگر سعودیہ بھی سمجھ جائے تو اس کی سلامتی و جغرافیائی تحفظ کی یہ فوری اور بنیادی شدید ضرورت ہے۔ گریٹر اسرائیل میں ایرانی سرزمین نہیں بلکہ سعودی جغرافیئے کو شامل کرنے کے صیہونی منصوبے موجود رہے ہیں اور سعودیہ کے جغرافیئے کو ریزہ ریزہ کرکے خلیجی ریاستوں کی طرح نہایت کمزور، مختصر، نامکمل بنا دینا امریکی ڈیپ اسٹیٹس اور یورپی حکمت عملی کے طویل مدتی وہ راز ہیں جو اب راز نہیں ہیں۔ اگر ایرانی اور عرب مسلمان دور اندیش اور مدبر ہو جائیں تو اپنے مزید تباہ ہوتے مستقبل کو باہمی رواداری، تحمل، برداشت سے نئے سرے سے محفوظ کرسکتے ہیں۔ ہم ایرانی صدر حسن روحانی، وزیر خارجہ جواد ظریف اور سعودی ولی عہد کے باہمی مفاہمت اور مذاکرات کی طرف میلان کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان ایران و سعودیہ مفاہمت کے جس ناممکن کام کو ممکن بنانے میں مصرو ف ہیں پاکستانی قوم کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ عمران خان کو کامیاب کرے (آمین ) اچھی بات یہ کہ ایران نے جدہ کے قریب اپنے تیل بردار جہاز پر تخریب کاری میںسعودیہ کے ملوث نہ ہونے کا بیان جاری کر دیا ہے۔
 قرآن و سنت کی روشنی میں عمل ’’جہاد‘ صرف اسلحے کے ساتھ جنگی قتال کا نام نہیں ہے بلکہ اکثر اور دائمی جہاد تو عدم تشدد کا نام ہے۔ پہلا عمل ’’جہاد‘‘ تو عدم تشدد کے ذریعے ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ کیا صلح حدیبیہ کا عمل عدم تشدد پر مبنی طویل جہاد نہیں تھا؟ مکہ اور طائف میں توحیدی نبویؐ موقف صبرو استقامت، عدم تشدد، مثبت و تعمیری، تبلیغ میں مضمر نہیں تھا؟ آپؐ کا سامنا مشرکین اور کفار سے تھا مگر آپ نے مشرکین و کفار میں رہ کر اپنے موقف توحید ، عقیدے، نبوت کی تبلیغ اور بھرپور پذیرائی کے لئے ہی عدم تشدد اور امن کا راستہ اپنایا تھا۔ یہ نبویؐ راستہ ہی وزیراعظم عمران خان کے سامنے رہنا چاہیے اور وہ جذباتی بھائی جو ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے جنگ  مسلط کرتی فضا اور ماحول تخلیق کرنے میں مصروف رہے ہیں وہ دو ٹوک غلط ہیں۔
وزیراعظم کا موجودہ طریقہ اور کشمیر کے حوالے سے انداز بالکل درست  عمل ہے اور اس کی دلیل صلح حدیبیہ کا عدم تشدد  پر مبنی عمل ہے۔ عدم تشدد، امن  و سلامتی کی دعوت پر مبنی رویئے ہی ’’نفع‘‘ ہیں کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا موقف بھرپور اور مدلل طور پر پیش کیا تو اس کا ہی اثر ہے کہ امریکی سیاست و صحافت میں  ماشاء اللہ کھل کر مقبوضہ کشمیر میں موجود مودی مظالم پر واضح بات ہو رہی ہے۔ میری نظر میں ایٹمی جنگ کی خواہش کرنا احمقانہ بات ہے۔ ایٹمی ہتھیار صرف دفاعی سامان ہے۔
مودی سرکاری ہندتوا، بی جے پی ہوس اقتدار میں مسلمانوں اور مسیحیوں کی واضح دشمن ہے۔  وہ جنگ اگر چاہتی ہے تو پاکستان کو عدم تشدد کے عالمی پرچار کے ذریعے اس مسلط جنگ کو ناممکن لازماً بنانا   ہوگا۔ کم از کم 28 مارچ2020 ء تک اس کے بعد خود بھارت میں جنوبی ہندوستان کی سرکش ہوتی آزادی کی تحریکیں خود بھارت کیلئے  اندرونی شدید پریشانی بن رہی ہیں ۔ ان شاء اللہ۔ لہٰذا پاکستان کو بھارت کے سامنے مفاہمت کے عمل کو نتیجہ خیز اور ثمر آور بنانے کی جدوجہد مسلسل جاری رکھنی چاہیے کہ یہ بھی تو مودی کی بہت بڑی شکست ہوگی اور پاکستانی بہت بڑی کامیابی۔ کیا مودی کے لئے یہ پریشانی نہیں کہ سعودیہ و ایران دونوں ہی پاکستان پر بھرپور اعتماد کررہے ہیں باہمی اختلاف کے خاتمے کے لئے۔
پس تحریر: اگر پاکستان نے صرف صبروتحمل اور عدم تشدد کا راستہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنائے رکھا، عالمی میڈیا اور فورم پر ثابت کرتا رہا کہ وہ امن کا داعی، انسانیت کی فلاح و بہبود کا پیامبر ہے۔ پاکستان اسلامی ملک کے طور پر برصغیر کو جنگ بلکہ ایٹمی جنگ سے محفوظ بنانا چاہتا ہے تو مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ، مسئلہ وہی صورتحال اختیار کرے گا جو صلح حدیبیہ میں مدینہ کے کمزور مسلمانوں کا مقدمہ تھا۔ صرف چھ آٹھ مہینے انتظار کرلیں تو انشاء اللہ5 اگست کا مودی اقدام جنوبی ہندوستان کی علیحدگی کا بھی راستہ استوار کرے گا۔ غزوۃالہند کے حوالے بہت سے اینکر پرسنز اور کالم نگار بالکل غلط موقف اور فضا تخلیق کررہے ہیں۔شاہ ولی اللہ تو کسی غزو ۃ الہند کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے جبکہ ان کو برصغیر میں بہت جنگ و جدل، خون بھی نظر آتا تھا۔ اس کے باوجود وہ غزوۃ الہند کا وہ انداز ہرگز نہیں دیکھتے تھے جو  بعض نگار مسلسل پیش کررہے ہیں۔
 

تازہ ترین خبریں