07:26 am
نوشتۂ تقدیر

نوشتۂ تقدیر

07:26 am

دہلی سرکار نے اپنے صہیونی دوستوں کی پیروی کرتے ہوئے مہینے سے زائدکرفیو نافذکرکے جموں
(گزشتہ سے پیوستہ)
 دہلی سرکار نے اپنے صہیونی دوستوں کی پیروی کرتے ہوئے مہینے سے زائدکرفیو نافذکرکے جموں وکشمیر کو دوسراغزہ بناکربھوک وپیاس کے کربناک عذاب سے دوچارکررکھا ہے لیکن ہرآنے والا دن ان تمام غیرانسانی ہتھکنڈوں کوخاطرمیں نہیں لارہا۔شرائط کیاجیتنے والے عائدکیاکرتے ہیں یاہارنے والے؟ دہلی سرکارکے سرمیں طاقت کا نشہ ہی ان کی موت کاسبب بنے گا۔برہمنی سامراج خودکوسب سے بالاتر سمجھتاہے اوراس کاخیال ہے کہ صہیونی دوستوں، مغرب اور امریکاکی آشیرباد سے کشمیرکی دورافتادہ سرزمین میں بسنے والوں کے ساتھ وہ اپنامن مانا سلوک جاری رکھ کرانہیں دبالے گا اور افغانستاان سے امریکی انخلاسے قبل وہ کشمیر میں طاقت کے بل بوتے پرکوئی ایسی لیپاپوتی اوراپنے ظلم کے مکروہ چہرے کوغازہ اورلپ اسٹک کے پیچھے چھپاکرایک مرتبہ پھرمذاکرات کے نام پردھوکہ دے سکے گالیکن اب یہ ممکن نہ ہوگا۔
اقوام عالم میں اگرسب کورچشم نہیں توانہیں ادراک ہوناچاہئے کہ کشمیریوں کی سرزمین اس وقت بنیادی طورپرپاکستان سے مختلف ہے،تیسری دنیاکے ان سب ممالک سے مختلف جہاں حکمران طبقات استعماری کارندوں پرمشتمل ہیں۔وہ لوگ کہ دھن دولت اورحیوانوں ایسی آسودہ زندگی کے سوا،جن کی کوئی آرزونہیں ہوتی،جوخودکوفریب دیتے ہیں اوراپنی اقوام کوبھی اور جن کی قسمت میں کوئی بڑی کامیابی نہیں ہوتی مگرکشمیری عوام مختلف ہیں اوربرسر تحریک آزادی میں ان کے رہنما بھی۔ پیہم آزمائش میں اپنی شخصیت اورقوت انہوں نے دریافت کرلی ہے۔انہوں نے جان لیاہے کہ طاقت محض مادی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اسلحہ ہے۔قرون اولیٰ کی نشانی اورنہتاعلی گیلانی جوچائے کی ایک پیالی یاچندخشک خوبانیوں پرگزر اوقات کرتے ہوئے اپنی قوم کی رہنمائی کرتاہے،دہلی سرکارکے فوجی سے کہیں زیادہ طاقتورہے۔ وہ فوجی جوسرسے لیکرپائوں تک لوہے میں ملبوس ہے اور جس کیلئے کھانے پینے کاساراسامان سینکڑوں میل دوردہلی سے آتاہے،اس کے مقابلے میں بھوک پیاس کی پرواہ کئے بغیراپنی کسمپرسی میں علی گیلانی تحریک آزادی کیلئے جوکیلنڈرجاری کرتاہے ساری قوم اس کی اپیل پرلبیک کہتی ہوئی پروانہ واریکجہتی کاثبوت دیتی ہوئی میدان عمل میں اترتی ہے۔
یہ ایک بلندمقصد ہے جوآدمی کوبروئے کارلاتا اور بے پناہ کردیتاہے۔کشمیریوں کے سامنے آزادی کا بلندنصب العین ہے اور بھارتی افواج اس سے محروم ہیں۔ پھراس میں تعجب کیا معصوم نوجوان سنگباز کشمیریوں کے مقابلے میں حیرت انگیز وسائل کے باوجودوہ رزم آزمائی کے ولولے سے محروم ہیں۔بے مقصدیت اوربوریت کے مارے ان عساکر میں خود کشیوں کی شرح بڑھتی جارہی ہے ۔اپنی ویران زندگیوں پروہ روتے ،گریہ کرتے اور خودترحمی کے ساتھ ماتم کرتے رہتے ہیں۔ کیا72 برس سے ظلم کی بھٹی میں ڈالے گئے کشمیری عوام ،دوسرے انسانوں جیسے نہیں؟کیاامن وآزادی پران کاحق نہیں؟ کیاوہ مستحق نہیں کہ ان کے چرواہے بانسری بجائیں،ان کے شکارے ڈل جھیل میں امن وآشتی کے ساتھ رواں دواں ہوں اور ان کے آنگنوں میں بچے بے خوف ہنستے ہوں؟صدیوں سے جانے پہچانے راستوں پروہ ایک الگ اندازاوراسلوب کی زندگی گزارتے آئے ہیں،مغرور بنیا آگ وخون کی بارش سے انہیں طرزِ زندگی تبدیل کرنے پرآمادہ نہیں کرسکتاجبکہ اپنے ایقان وایمان کووہ زندگی پرترجیح دینے والے لوگ ہیں۔
کتنی ہی کشمیرکے نام پرکانفرنسیں ہوں،کتنی ہی رقوم مختص کی جائیں اورکتنے پاپڑبیلے جائیں،کشمیر کوتقسیم کرنے کی کتنی ہی سازشیں کیوں نہ کی جائیں ،کچھ حاصل نہیں ہوگا۔کشمیرایک ایسی اکائی ہے جس کاایک ایک انچ کشمیری شہدا کی امانت ہے۔کشمیرمسئلے کاصرف ایک حل ہے کہ کشمیری عوام کواپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کااختیاردیا جائے جس کاان سے اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے میں بھارت کے مقبول وزیراعظم پنڈت جواہرلال نہرو نے بڑی طاقتوں بالخصوص امریکاکو ضامن بناکرکشمیریوں سے کیاتھا۔عالمی طاقتیں جواقوام متحدہ میں کشمیریوں کے ساتھ بھارت کے اس وعدے کی ضامن ہیں،ان کی ذمہ داری ہے کہ کشمیرمیں ہونے والے مظالم کوفوری روکنے کیلئے کوئی لائحہ عمل تیارکریں اور امریکاجس نے کشمیرکے مسئلے کااقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کاوعدہ کیاتھا،اب یہ اہم ذمہ داری ان سے تقاضہ کررہی ہے کہ وہ مظلوم ومجبور کشمیریوں کوان کاحق دلانے کیلئے واضح پیش رفت کریں تاکہ اقوام عالم کواس بات کااحساس ہو کہ ٹرمپ حقوق انسانی کیلئے مخلص ہیں۔