07:28 am
سعودی سفیر اور مولانا فضل الرحمٰن ملاقات

سعودی سفیر اور مولانا فضل الرحمٰن ملاقات

07:28 am

سعودی سفیر نواف سعید المالکی کی جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن سے ہونے والی ملاقات سے
سعودی سفیر نواف سعید المالکی کی جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن سے ہونے والی ملاقات سے یار لوگوں نے یہ مطلب نکالا کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ حکومت کے معاملات طے کروانے کے لئے سعودی سفیر میدان میں آگئے۔ ہفتہ کے دن جب نواف سعید المالکی سے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے صحافیوں نے مولاناسے سوال کیا تو ان کا جواب تھا کہ حرمین شریفین سے محبت اور ان کی حفاظت کی فکر ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن ان کی سعودی سفیر سے ہونے والی ملاقات کا حکومت اور آزادی مارچ سے کوئی تعلق نہیں۔
مولانا چونکہ ایک معتبر ترین سینئر سیاستدان ہیں اس لئے ان کی اس بات کو تسلیم کیے بغیرکوئی چارہ ہی نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب پاکستان کا عظیم برادر اسلامی ملک ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور سعودی عرب کے درمیان نہایت محبت اور گہرے احترا م کا رشتہ پایا جاتاہے۔ ’’مولانا‘‘ اس سے قبل بھی دنیا کے مختلف ممالک کے بادشاہوں اور سفیروں سے میل ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ سعودی سفیر نواف سعید المالکی سے بھی ان کی یہ نہ تو پہلی ملاقات ہے اور نہ آخری ہوگی؟ لیکن ان حالات میں کہ جب پاکستان کی فضائوں میں آزادی مارچ کا چرچا ہے ’’مولانا‘‘ کارکنوں کے بپھرے ہوئے سیلاب کو لے کر اسلام آباد آنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ سعود ی سفیر  سے ہونے والی ملاقات سے اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ اس ملاقات کے بعد حکومت اور مولانا کے درمیان  معاملات طے  ہو جائیں گے تو شاید یہ سمجھنا زیادہ درست نہ ہو کیونکہ ’’مولانا‘‘ کا دعویٰ یہ ہے کہ ان کے آزادی مارچ کا مقصد الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے ساتھ ساتھ عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کاخاتمہ کرنا ہے۔
کیا سعودی عرب پاکستان میں آسمان سے باتیں کرتی ہوئی مہنگائی کم کرسکتاہے؟ کیا سعودی عرب یا کوئی دوسرا ملک پاکستان میں ہرا لیکشن میں ہونے والی  مبینہ دھاندلی کو روک سکتا ہے؟ شاید نہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب پاکستان کا محسن ملک ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان اور پاکستانی قوم کی مالی مدد کرنے میں کبھی بھی بخل سے کام نہیں لیا لیکن ہمارے حکمرانوں کی نااہلیوں اور مالی کرپشن کایہ شاخسانہ ہے کہ آج تک پاکستان کی معیشت کو استحکام حاصل نہیں ہوسکا۔
نواز شریف اور زرداری سے تنگ آئے  عوام نے عمران خان کی شکل میں نجات   دھندہ ڈھونڈا تھا ، لیکن عمران خان کا ایک سالہ اقتدار عوام کو ضروریات زندگی سے ’’نجات‘‘  دلانے کا سبب بن گیا، اب خدشہ یہ ہے کہ اگر عمران خان کی حکومت مزید ایک دو سال قائم رہی تو پاکستان کی عوام جوق در جوق زندگی کے عذاب سے ’’نجات‘‘ پانا شروع ہو جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ وزیراعظم ہینڈ سم ہے، ارے بھائی اگر یہ ہینڈ سم ہے جس کو اس کی ضرورت ہے وہ اپنے ساتھ لے جائے۔ پاکستانی قوم کے منہ سے دو وقت کے نوالے چھیننے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے 15 ملین مارچ کرکے کروڑوں مذہبی لوگوں میں زبردست تحرک پیدا کر دیا ہے۔ مولانا نے اپنے ملین مارچ میں کی جانے والی تقریروں میں عوام کو خوبصورت خواب دکھائے ہیں اور 27 اکتوبر یا31 اکتوبر کو ہونے والے آزادی مارچ کے ثمرات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ناموس رسالتؐ، ختم نبوتؐ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پاکستان سے مہنگائی کا بھی خاتمہ ہوگا اور جمعیت علماء اسلام کے ایک رہنما مفتی کفایت اللہ تو ٹی وی پروگرامز میں یہ دعویٰ بڑے دھڑلے سے کررہے ہیں کہ صرف ایک سال  کے لئے اگر مولانا وزیراعظم بن گئے تو نہ صرف ملکی معیشت بہتر ہو جائے گی بلکہ ہم کشمیر بھی آزاد کروالیں گے۔
اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو ، میری ’’مولانا‘‘ کی خدمت میں گزارش ہوگی کہ وہ ٹی وی پروگرامز میں شریک ہونے والے جمعیت کے رہنمائوں کو یہ ہدایت ضرور دیں کہ وہ پروگراموں میں وہی دعوے کریں کہ جن پر بعد میں عمل بھی کیا جاسکے‘ عوام پہلے ہی سیاستدانوں اور آمروں کے بڑے بڑے دعوے سن‘ سن کر عاجز آچکے ہیں‘ یاد رکھیے ’’جمعیت‘‘ ن لیگ یا پیپلزپارٹی کی طرح کی ’’ سیاسی‘‘ جماعت نہیں ہے نہ ہی یہ ایم کیو ایم یا اے این پی یا تحریک انصاف ہے‘ بلکہ ’’جمعیت‘‘ پاکستان کے علماء کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تصور ہوتی ہے اور یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ چاہے مجبوراً ہی سہی‘ مگر الیکٹرانک چینلز کو اپنے ٹاک شوز میں جمعیت علماء اسلام کے مولوی صاحبان کو بلانا پڑ رہا ہے‘ ناظرین بھی ’’جمعیت‘‘ کے لیڈر علماء کی باتیں بڑی دلچسپی سے سنتے ہیں‘ اس لئے پروگراموں میں آسمان سے تارے توڑنے کے دعوئوں کی بجائے زمینی حقائق سے مطابقت رکھتی ہوئی باتیں عوام کو سکون فراہم کرتی  ہیں۔
میں یہ نہیں لکھ رہا کہ سعودی عرب مولانا اور حکومت کے درمیان کسی پل کا کردار ادا کرنے جارہا ہے لیکن اگر سعودی سفیر کی ایسی کوئی کوشش ہے بھی تو ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ اس لئے کہ پاکستان کو اس  وقت جن خوفناک حالات کا سامنا ہے‘ ان حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان اندرونی طور پر امن اور استحکام سے مالا مال ہو۔
یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ مولاناپاک فوج سمیت سیکورٹی کے تمام اداروں کے احترام کی بات کر رہے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی جمعیت علماء اسلام کے دیگر رہنما بھی بار‘ بار یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ہمارا کسی سیکورٹی کے ادارے سے کوئی ٹکرائو نہیں ہے۔ ’’مولانا‘‘ کی سیکورٹی اداروں کے احترام کے حوالے سے یہ حکمت عملی نہایت مناسب ہے‘ اس کی وجہ سے نچلی سطح پر کارکنوں میں اداروں کے احترام کے حوالے سے نہایت مثبت پیغام جارہا ہے‘ جو لوگ آزادی مارچ کو آڑ بنا کر ملک میں خون خرابے کی افواہیں پھیلا رہے ہیں وہ سب کے سب جھوٹے اور دروغ گوہیں۔ ’’مولانا‘‘ کی سوچ‘ فکر‘ نظرئیے اور گفتگو سے ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ الحمدللہ
 

تازہ ترین خبریں