07:29 am
کیا لنگر خانے بیروزگاری کا مداوا ہوسکتے ہیں ؟

کیا لنگر خانے بیروزگاری کا مداوا ہوسکتے ہیں ؟

07:29 am

گو کہ یہ نعرہ بھٹو  نے اپنی حقیقی حیات میں قوم کودیاتھا۔ روٹی ،کپڑا اور مکان یہی نعرہ وزیراعظم
گو کہ یہ نعرہ بھٹو  نے اپنی حقیقی حیات میں قوم کودیاتھا۔ روٹی ،کپڑا اور مکان یہی نعرہ وزیراعظم عمران خان نے ذرا مختلف انداز میں قوم کودیا۔ ایک کروڑ نوکریاں(یہ روٹی کاوعدہ تھا)دوسراوعدہ پچاس ہزار گھر بنانے کا تھا (یہ مکان دینے کاوعدہ )تیسراوعدہ کپڑے کاوہ کیاہی نہیں ہاں حکومت نے شیلٹر ہوم بناکر مکان چاہے وہ عارضی تھے کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی تھی ۔اب نئی مہم لنگر خانے قائم کرکے جاری کی ہے۔ سوال یہ ہے کیا ان لنگرخانوں میں تین وقت کھانے کوملے گا یا ایک وقت، دوسراسوال یہاں کھانے کو صرف اس کوہی ملے گا جس کی رسائی ان لنگر خانوں تک ممکن ہو گی یا عورتوں، بچوں کے لئے بھی ان میں کوئی انتظام کیاگیا ہے یاجوآئے چھین کرلے جائے کاطریقہ جوہماری قوم کے مزاج میں رچ بس گیاہے کیونکہ ہماری قوم میں صبرنام کی کوئی چیز نہیں ملتی۔ 
سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ آخر ان لنگر خانوں کی کیاضرورت پیش آگئی تھی جبکہ عوامی سطح پر ایدھی والے چھیپاوالے سیلانی والے اور ان سب سے بڑھ کر بحریہ ٹائون کے  دستر خوان چل ہی رہے تھے۔ آخرایسا کیا ہوا کہ حکومت کوبھی اس میدان میں آناپڑا ۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ حکومت وقت نے اعلان کیا تھا کہ حزب اختلاف اگر دھرنادینا چاہے تو حکومت انہیں کھانااور کنٹینر فراہم کرے گی چونکہ مولانا فضل الرحمان  مارچ اور دھرنے کااعلان کرچکے ہیں وہ تماتر مخالفت کے اپنی بات پرجمے ہوئے ہیں وہ اپنی مقرر کردہ تایخ پراسلام آباد پہنچیں گے  شاید حکومت نے اس لئے ہی ان لنگر خانوں کااہتمام کیاہے کہ مولانا کے دھرنے کوکسی قسم کی خوراک کی پریشانی نہ ہو اگرواقعی یہ سارا انتظام دھرنے کے لئے کیاہے تو یہ پہلا واقعہ ہوگا جس پر حکمران نے یوٹرن نہیں لیا اپنے وعدے پرقائم رہے۔
     موجودہ حالات وواقعات کے مطابق ان لنگر خانوں کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس سے بیروزگاری کے خاتمے کی بجائے بیروز گاری بڑھنے کاخدشہ ہے۔ وہ مزدور جوکہیں ملازمت نہیں کرتے روز انہ دیہاڑی پر کام کرتے ہیں  جنھیں کبھی کام ملتا ہے کبھی نہیں ملتا وہ ان لنگر خانوں کے اسیر ہوکر رہ جائیں گئے، انہیں کام ملنے کی جستجو کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ جب انہیں دونوں وقت مفت کھانے کوملنے لگے گا توان کی فکر معاش ختم ہوجائے گی۔ آخر یہ سرکاری لنگر خانے کتنے روز چلیں گے ان کے بعد ان کے عادی افراد کاکیابنے گا وہ اس وقت تک مفت کی روٹیاں توڑ نے کے عادی بن جائیں گے۔ حکمران وقت کو جس نے بھی مشورا دیا بہت سوچ سمجھ کر سازشی ذہن سے دیاہے۔ اگر حکمران وقت اس لنگر خانوں کی جگہ کوئی کارخانہ، کوئی گھریلو کام یاکاروبار کی کوئی اسکیم لاتے وہ زیادہ بہتر ہوتی سفید پوش افراد کابھرم بھی رہ جاتا اور بیروزگاری کابھی کسی حد تک ہی سہی کچھ نہ کچھ مداو ہوسکتاتھا۔  
اگر اس لنگر خانے پرخرچ ہونے والی رقم کاحساب کیاجائے تو روز کاخرچہ لاکھوں نہیں کروڑوں میں آئے گا یہ رقم بے روزگاروں کوبطور قرضہ حسنہ بھی دی جاسکتی تھی کیونکہ روز کھانے پرخرچ ہونے والی رقم کی واپسی کی بھی کوئی سبیل نہیں اگر قرض حسنہ لینے والے ایمان داری سے کام کرکے کامیابی حاصل کرلیتے ہیں وہ اپنے ذمہ قرضہ کی رقم واپس کرنے لگیں تویہ سلسلہ تادیر قائم رہ سکتاتھا لیکن فی حال تو ایسا محسوس ہورہاہے کہ کوئی توہے جو پس پردہ رہ کر حکمرانوں کو گھر بھیجناچاہ رہاہے۔ جوں جوں دھرنے کی تاریخ قریب آرہی ہے دونوں طرف کے لہجوں میں سختی آرہی ہے۔ ایسا دیکھائی دے رہاہے کہ کچھ نادیدہ قوتیں جلتی پر تیل ڈالنے کوتیار ہیں۔ ملک پہلے ہی معاشی بحران کاشکار ہے مہنگائی نے عام آدمی کی کمرتوڑ کررکھ دی ہے ایسے میں  کسی بھی قسم کے احتجاج کو فساد فی سبیل اللہ میں تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔  اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ملک گیر سطح پر شورش شروع ہوجائے۔
 دشمن پہلے ہی تاک میں ہے۔ کشمیر کی حمایت نے بھارت اور اس کے فوری سرپرست خدائی فوج دارامریکہ بہادر کو مداخلت کاموقع نہ مل جا ئے۔ حکومت چومکھی لڑنے کی اہل نظر نہیں آتی کیو نکہ خود انحصاری کاکہیں دور دور تک پتہ نہیں ہے۔ دست سوال دراز تھا، دست سوال دراز ہے، شاہد تادیر دراز رہے، لنگر خانوں کا قیام یقینا اچھا اقدام ہے لیکن تب جب ملک اس قابل ہو اگر ان لنگر خانوں پر خرچ ہونے والی رقم کو مہنگائی کم کرنے پر خرچ کیا جاتا تو حکومت کے حق میں بہتر رہتا۔اس سے مثبت اثرات مرتب ہوتے۔ حز ب اختلاف کی زبان بھی بند رہتی عوام کوبھی اطمینان ملتااحتجاجی مہم جوئی بھی شاید اس طرح نہ ہوتی کیونکہ لنگر خانے تو ملک میں جگہ جگہ پہلے ہی کام کررہے ہیں۔ جولوگ یہ نیک کام کررہے ہیں انہیں ہی کرنے دیاجائے تو بہترہے۔ 
سرکار وہ کام کرے جو اس کو کرنے چاہئیں۔ بے روز گاری کے خاتمے کے لئے سرمایہ کاروں کو، صنعت کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جائے تاکہ ملک میں صنعتیں جوبند ہورہی ہیں وہ چل سکیں، مزدوروں کومزدوری مل سکے۔ اگر سرمایہ کاروں کو سہولیات دی جائیں تو دیکھتے ہی دیکھتے بیروزگار ی کاخاتمہ ممکن ہے۔ تاجر، دوکاندار سب کے سب پریشان کے جارہے ہیں جس سے نہ صرف بیروزگار ی میں اضافہ ہورہاہے، وطن عزیز بے چینی ،عدم اعتماد کاشکار بھی ہورہاہے کیونکہ ہرقسم کاسرمایہ کار اپنے سر مائے کاتحفظ چاہتاہے۔ اگر سرمایہ کاروں کوان کے سرماے کے تحفظ کایقین دلادیاجائے تونہ صر ف ملکی بلکہ غیر ملکی سرمائے کوبھی آنے کاراستہ مل سکے گا۔ جب گھر کے چراغ ہی بجھائے جارہے ہوں تو ایسے میں کون اپناچراغ لاکر نئی جگہ جلائے گا ۔ اللہ ہمارے منصوبہ سازوں کو وطن سے محبت کے جذبے عطاکرے تاکہ  بروقت ملک کی فلاح وبہبود کے بہتر سے بہتر منصوبے بناسکیں ۔
 

تازہ ترین خبریں