07:30 am
سب ایک پیج پر ہیں ؟

سب ایک پیج پر ہیں ؟

07:30 am

پہلا منظر،2014 اگست کا مہینہ، ن لیگ کی حکومت، مولانا فضل الرحمان، اسفند یار اور محمود اچکزئی کی جماعتیں حلیف، تحریک انصاف
پہلا منظر،2014 اگست کا مہینہ، ن لیگ کی حکومت، مولانا فضل الرحمان، اسفند یار اور محمود اچکزئی کی جماعتیں حلیف، تحریک انصاف اپوزیشن میں، ڈی چوک اسلام آباد کا منظر، دو کنٹینرز اور دور تک سر ہی سر، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا دھرنا جاری ہے۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی کنٹینرز پر شعلہ بیان تقاریر، میڈیا کی دن رات کوریج، دارالحکومت مفلوج ہو چکا ہے۔ ملک بھر سے دونوں جماعتوں کی بھرپور شرکت، کارکن دن رات ڈی چوک پر موجود ہیں۔ یہ دھرنا 2013 انتخابات میں دھاندلی پر دیا گیا چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ اپنی جگہ مگر ہدف بد انتظامی، کرپشن، اقربا پروری اور دو بڑی جماعتوں کی موروثی سیاست ہے، عوام کو تبدیلی کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ میڈیا کو من چاہا مشغلہ ہاتھ آ چکا ہے، کبھی عمران خان کی للکار تو کبھی طاہر القادری کی یلغار، عوام کیلئے نظام بدلنے کا نعرہ، تبدیلی کی نوید، انقلاب کے ترانے اور مستقبل کے سہانے خواب، ہر روز جوش و خروش بڑھتا جا رہا ہے۔
 ارکان پارلیمنٹ قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے عقبی دروازوں کا استعمال کر رہے ہیں، تحریک انصاف پارلیمان کو غیر آئینی قرار دے رہی ہے تو پارلیمنٹ اجلاس کے شرکا تحریک انصاف کے دھرنے کو غیر جمہوری قوتوں کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف قوم سے خطاب کر رہے ہیں، ن لیگ رہنما شہباز شریف، اسحاق ڈار، سعد رفیق، خواجہ آصف دھرنے کو غیر آئینی و قانونی بتا رہے ہیں، وزیر داخلہ چوہدری نثار چیخ رہے ہیں کہ دھرنا قیادت معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوئے۔ حکومت کی حلیف جماعتیں دھرنے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے میں پیش پیش ہیں، مولانا فضل الرحمان، اسفند یار ولی، محمود خان اچکزئی اور دیگر پارلیمان میں پر جوش تقاریر کر رہے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان، طاہر القادری اور دیگر احتجاجی رہنما دھرنے کو جمہوری و آئینی حق قرار دے رہے ہیں۔ حکومت بتا رہی ہے کہ دھرنا عوام کے خلاف سازش ہے تو دھرنا قیادت کہہ رہی ہے کہ احتجاج عوام کے روشن مستقبل کی امید ہے، حکومت بار بار معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہی ہے تو مظاہرین اسے حقارت سے ٹھکرا رہے ہیں، حکومت گرانے اور پارلیمان توڑنے کی بات ہو رہی ہے۔ دھرنا پورے زور و شور سے جاری ہے کہیں کارکنان کیلئے دیگیں پک رہی ہیں، حلوہ پوری بن رہی ہے تو کہیں پارلیمنٹ کی چار دیواری پر قمیض شلوار سوکھ رہے ہیں، ایک طرف ۔ ہر گزرتے دن کیساتھ مظاہرین کو جوش و خروش بڑھتا جا رہا ہے۔ 
عالمی قرضوں سے نجات، لوٹی دولت کی واپسی، مہنگائی سے نجات، صاف پانی، تعلیم، صحت اور تحفظ کی گارنٹی، وی آئی پی کلچر سے چھٹکارا، عزت نفس کی باتیں، مغربی جمہوری نظام کی مثالیں، اور بھلا کیا چاہیئے پاکستانیوں کو سب کچھ تو مل رہا ہے۔ جوش و خروش بڑھتا جا رہا ہے، پولیس کی شیلنگ، مظاہرین کا پتھرائو، بالاخر پاکستان ٹیلیویژن کی عمارت بلوائیوں کی زد میں آ گئی، نشریات معطل، لاٹھی بردار مشتعل مظاہرین کا عمارت پر قبضہ، پولیس کے جوانوں پر حملہ، تاریخ بنتی رہی، پوری قوم ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرتی رہی۔ طاہر القادری نے تو 70 روز بعد ہی دھرنا ختم کر دیا تھا مگر تحریک انصاف 126 دن ڈی چوک پر کھڑی رہی، پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے سوگ میں تحریک انصاف نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ بظاہر تو اس دھرنے میں کوئی نہیں جیتا مگر لگتا ہے فریقین بہت کچھ ہار گئے۔ تبدیلی کا نعرہ عوام کے دل میں بس گیا، نئی امید، نئی توقعات، بہتر زندگی، روزگار، خوشحالی، عزت نفس اور بین الاقوامی وقار کی آس، تبدیلی، تبدیلی، تبدیلی، دھرنا دینے والے بتا رہے ہیں اسی میں عوام کی فلاح ہے، قومی خوشحالی، مضبوط معشیت اور ترقی مضمر ہے، یہ سب عوام کیلئے کیا جا رہا ہے، نظام بدلے گا، نظام بدلے گا اور نظام بدلے گا۔
دوسرا منظر،2019 اکتوبر کا مہینہ، تبدیلی آ چکی ہے، تحریک انصاف کی حکومت، ن لیگ اپوزیشن، مولانا فضل الرحمان، اسفند یار اور محمود اچکزئی کی جماعتیں حلیف، نواز شریف سمیت بیشتر اعلیٰ قیادت سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے آزادی مارچ کا اعلان، اسلام آباد میں دھرنے کے عزائم، تحریک انصاف اور اسکی حلیف جماعتیں دھرنے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے میں پیش پیش ہیں، اپوزیشن رہنما دھرنے کو جمہوری و آئینی حق قرار دے رہے ہیں۔ حکومت بتا رہی ہے کہ دھرنا عوام کے خلاف سازش ہے تو دھرنا قیادت کہہ رہی ہے کہ احتجاج عوام کے روشن مستقبل کی امید ہے۔ حکومت بار بار معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہی ہے تو مظاہرین اسے حقارت سے ٹھکرا رہے ہیں، حکومت گرانے اور پارلیمان توڑنے کی بات ہو رہی ہے۔ اپوزیشن ایک پریس کانفرنس کرتی ہے اور حکومتی رہنما جواب میں پانچ، چھ، سات پریس کانفرنسز کے ذریعے واضح کرتے ہیں کہ اپوزیشن کے دعوئوں میں کچھ دم نہیں، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید، فردوس عاشق اعوان سے  شوکت یوسفزئی،  فیاض الحسن تک اسے ملکی معیشت کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں۔ دھرنا دینے والے بتا رہے ہیں اسی میں عوام کی فلاح ہے، قومی خوشحالی، مضبوط معیشت اور ترقی مضمر ہے، یہ سب عوام کیلئے کیا جارہا ہے، نظام بدلے گا، نظام بدلے گا اور نظام بدلے گا۔
تیسرا منظر،22 کروڑ عوام، سپاٹ چہرے، پھٹی آنکھیں، خالی پیٹ، بدحالی اور بیکسی کی تصویر بنے تالیاں پیٹ رہے ہیں، 72 سالوں سے حکومتی نوٹنکی کو داد دیتے دیتے سانس پھول چکی ہے۔ نظام بدلنے کے دعوے، تبدیلی کی نوید، انقلابی ترانے اور مستقبل کے سپنے دیکھتے دیکھتے بینائی جا چکی ہے مگر گھپ اندھیرے میں کوئی تعبیر نہیں ملی، کوئی انقلاب، کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ عالمی قرضوں میں ہوشربا اضافہ، لوٹی دولت کی واپسی کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ ڈالر بساط سے باہر اور مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، پیٹرول، ڈیزل، بجلی سب مہنگا، صاف پانی، تعلیم، صحت کے وعدے سراب بن چکے ہیں۔ وی آئی پی اب وی وی آئی پی ہیں، عزت نفس سسک رہی ہے، مغرب تو دور مشرقی ممالک بھی کہیں آگے پہنچ چکے ہیں۔ اسٹیج پر 72 سال آمریت اور جمہوریت کے دھوپ چھائوں سے گزرتی تین نسلیں سوال بنی کھڑی ہیں، مفلوک الحال بائیس کروڑ عوام ادھر سے ادھر بھٹک رہے ہیں، سیاسی بساط پر ہلچل ہے، قائدین کا جوش و خروش دیدنی، ماحول نظام بدلنے کے نعروں سے گونج رہا ہے۔ سب ایک پیج پر ہیں، مطمئن نظام کونے میں کھڑا مسکرا رہا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔