07:31 am
کوئی نہیں…اب کوئی نہیں…

کوئی نہیں…اب کوئی نہیں…

07:31 am

خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں بغداد میں ایک درویش رہتے تھے، ان درویش کا نام بہلول دانا تھا۔
خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں بغداد میں ایک درویش رہتے تھے، ان درویش کا نام بہلول دانا تھا۔بہلول دانا بیک وقت ایک فلاسفر اور ایک تارک الدنیا درویش تھے ۔ان کا کوئی گھر ،کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ وہ عموماً شہر میں ننگے پائوں پھرتے تھے اور جس جگہ تھک جاتے وہیںڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب لکھا ہے کہ یہ اللہ کی تجلیات اور عشق میں مستغرق اور گم رہتے تھے اور اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے تھے اور جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اللہ کے بہت بڑے ولی کامل تھے ۔ ان کا ا صل نام وہب بن عمرو تھا۔مجذوب کی تعریف دارلافتا اہلسنت میں یوں تحریر ہے۔’’مجذوب اللہ کے عشق میں مستغرق لوگ ہوتے ہیں، ان لوگوں کا اللہ کے ساتھ کیا راز وابستہ ہوتاہے اس کا پتہ لگانا انتہائی مشکل کام ہے، نیز یہ لوگ اللہ کے عشق میں غرق ہوتے ہیں، چنانچہ کبھی کبھار بظاہر خلاف شرع قول یا فعل ان سے سرزد ہوجاتا ہے۔، لیکن کسی دوسرے کو اس بات کی طرف کان نہیں دھرنا چاہیے، اور نہ ہی اس کی ترویج و اشاعت کرنی چاہیے، یہ لوگ اللہ کے ایسے محبوب ہوتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کی ٹیڑھی سیدھی ہربات کو پسند کرتا ہے، ہمیں ان کے پوشیدہ حالات کا علم نہیں ہے، اس لیے اس سلسلہ میں کوئی لب کشائی نہ کرنی چاہیے۔‘‘ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
ایک دن بہلول دریا کے کنارے بیٹھے ساحل کی گیلی ریت کو اپنے سامنے جمع کر کے اس کی ڈھیریاں بنا رہے تھے اور ملکہ زبیدہ اپنے محل کے جھروکے سے بڑے انہماک سے ان کو یہ کام کرتے دیکھ رہی تھی، وہ مٹی کی ڈھیری بناتے اور پھر اپنے ہاتھ سے ہی اس کو مسمار کر دیتے ملکہ جھروکے سے اتر کر اپنی سہیلیوں کے ہمراہ دریا کے کنارے آ گئی اور بہلول سے پوچھا کیا کر رہے ہو بہلول؟بہلول نے ادائے بے نیازی سے کہا جنت کے محل بنا رہا ہوں ،ملکہ نے سوال کیا اگر کوئی تم سے یہ محل خریدنا چاہے تو کیا تم کو اس کو فروخت کرو گے ؟بہلول نے کہا ہاں ہاں!کیوں نہیں۔ میں بناتا بھی ہوں اور فروخت بھی کرتا ہوںتو بتائو ایک محل کی قیمت کیا ہے؟ ملکہ کے سوال کرتے ہی بہلول نے بے ساختہ کہا تین درہم ،ملکہ زبیدہ نے اسی وقت اپنی کنیزوں کو حکم دیا کہ بہلول کو تین درہم ادا کئے جائیں اوریہ درہم ادا کردئیے گئے۔یہ تمام واقعہ ملکہ نے اپنے شوہر خلیفہ ہارون الرشید کو بتایا۔خلیفہ نے اس واقعہ کو مذاق میں ٹال دیا۔رات کو جب ہارون الرشیدسوئے تو انہوں نے خواب میں جنت کے مناظر دیکھے ، آبشاریں، مرغزاریں اور پھل پھول وغیرہ دیکھنے کے علاوہ بڑے اونچے اونچے خوبصورت محلات بھی دیکھے، ایک سرخ یاقوت کے بنے ہوئے محل پر انہوں نے زبیدہ کا نام لکھا ہوا دیکھا۔ ہارون الرشیدنے سوچا کہ میں دیکھوں تو سہی کیوں کہ یہ میری بیوی کا گھر ہے۔ وہ محل میں داخل ہونے کیلئے جیسے ہی دروازے پر پہنچے تو ایک دربان نے انہیں روک لیا۔ ہارون الرشیدکہنے لگے ، اس پر تو میری بیوی کا نام لکھا ہوا ہے، اس لئے مجھے اندرجانا ہے، دربان نے کہا نہیں، یہاں کا دستور الگ ہے، جس کا نام ہوتا ہے اسی کو اندر جانے کی اجازت ہوتی ہے، کسی اور کو اجازت نہیں ہوتی، لہٰذا آپ کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ جب دربان نے ہارون الرشید کو پیچھے ہٹایا تو ان کی آنکھ کھل گئی۔
بیدار ہونے پر فوراً خیال آیا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ بہلول کی دعا زبیدہ کے حق میں اللہ رب العزت کے ہاں قبول ہوگئی، وہ ساری رات اسی افسوس میں کروٹیں بدلتے رہے۔چنانچہ وہ اگلی شام کو بہلول کو تلاش کرتے ہوئے اِدھر ادھر دیکھ رہے تھے کہ اچانک انہوں نے دیکھا کہ بہلول ایک جگہ بیٹھے اسی طرح مکان بنا رہے ہیں، ہارون الرشید نے السلام وعلیکم کہا، بہلول نے جواب دیا وعلیکم السلام، ہارون الرشیدنے پوچھا، کیا کررہے ہیں؟ بہلول نے کہا، جنت کے محل بنا رہا ہوں۔ ہارون الرشیدنے پوچھا ۔ بیچو گے ؟تو بہلول نے کہا ہاں ہاں!کیوں نہیں۔ میں بناتا بھی ہوں اور فروخت بھی کرتا ہوں۔
تو بتائو ایک محل کی قیمت کیا ہے؟بہلول نے بے ساختہ کہا تیری پوری سلطنت۔ہارون الرشیدنے کہا ، اتنی قیمت تو میں نہیں دے سکتا، کل تو آپ تین درہم کے بدلے دے رہے تھے اور آج پوری سلطنت مانگ رہے ہیں؟ بہلول دانا نے کہا، خلیفہ! کل بن دیکھے معاملہ تھا اور آج تم محل دیکھ کر آئے ہو۔ خلیفہ یہ سن کر گھٹنوں کے بل بہلول دانا کے سامنے مایوس ہوکر بیٹھ گئے  اور کہا حضرت آپ مجھ سے میری ساری سلطنت لے لیں اور مجھے ایک محل دے دیں۔ جب بہلول دانا نے خلیفہ کی عاجزی دیکھی تو کہا کہ میں تمہاری اس سلطنت کا کیا کروں گا؟ اس دنیا کی محبت تو بہت سے گناہوں کی جڑ ہے۔جائو اپنی سلطنت اپنے پاس رکھو ۔اس محل کو بھی تمہارے لئے تین درہم میں فروخت کرتا ہوں۔
عہد ہارون کے صاحب کمال بزرگ بہلول داناتھے۔ 188ھ میںسفرِحج کے دوران میں خلیفہ ہارون کی کوفے میں ان سے ملاقات ہوئی جس کا ذکر امام ابن کثیر نے بھی کیا ہے۔ بہلول نے ہارون کو جو نصیحتیں کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ فرض کرلے کہ تو ساری دنیا کا بادشاہ بن گیا ہے اور لوگ تیرے مطیع ہوگئے ہیں، تو پھر کیا ہوگا۔ کیا کل قبر کا پیٹ تیرا ٹھکانہ نہ ہوگا؟ پھر لوگ یکے بعد دیگرے تجھ پر مٹھیوں سے مٹی ڈالیں گے۔ بغداد میں بہلول دانا کے مزار کے ایک گوشے کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں سکھ مذہب کے بانی گرونانک نے چلہ کاٹا تھا۔
عباسی خلفا میں سے ہارون کے بیٹے مامون الرشید اور معتصم باللہ بہت مشہور ہوئے۔ مامون نے بغداد میں بیت الحکمت قائم کیا جہاں یونانی اور سنسکرت کی کتابوں کے تراجم ہوتے تھے۔ اس کا جاںنشین معتصم باللہ اس قدر اسلامی حمیت سے سرشار تھا کہ جب عیسائیوں نے ملطیہ(ترکی) کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کیے اور ایک ہاشمیہ خاتون نے وامعتصما کہہ کر فریاد کی تو معتصم نے فوراً کوچ کا حکم دیا۔ آرمینیا سے سپہ سالار افشین کا لشکر چلا آیا۔ انہوں نے نہ صرف مظلوم مسلمان عیسائیوں کی قید سے چھڑائے بلکہ قیصر روم کی جائے پیدائش عموریہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ محمد بن قاسم کی فتح سندھ کے بعد کسی مسلمان خاتون کی فریاد پر جہادی یلغار کا یہ دوسرا بڑا واقعہ تھا۔ تاریخ کے اوراق پر محفوظ یہ دلچسپ اور عبرت آموز واقعات اُمتِ مسلمہ کا اثاثہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج اپنے بزرگوں کی دانائی کے واقعات اپنی نسل نو کو بتلائے جائیں کیونکہ جو قومیں اپنے اسلاف کے کردار کو بُھول جاتی ہیں وہ قعرِ مذلت میں گر جاتی ہیں۔ جنت کے محل تو آج بھی تعمیر ہو رہے ہیں  اور فروخت بھی ہو رہے ہیں مگر افسوس کہ اب نہ کوئی بہلول دانا دِکھائی دیتا ہے  اور نہ ہی ملکہ زبیدہ جیسی خریدار نظر آتی ہے۔ نہ ہی کسی سربراہِ ریاست کو خلیفہ ہارون رشید جیسے خواب دِکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی کوئی اُن خوابوں کی تعبیر بتانے والا میسر ہوتا ہے۔ عورتیں تو آج بھی کشمیر کی دھرتی پر محمد بن قاسم اور معتصم باللہ کو آوازیں دے رہی ہیںمگر نہ کوئی سننے والا موجود ہے اور نہ ہی لشکر کشی کرنے کی ہمت اور شجاعت رکھنے والا کوئی مردِ خدا نظر آتا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں