07:31 am
اولوالباب کی ایمانی کیفیت

اولوالباب کی ایمانی کیفیت

07:31 am

محترم قارئین ! سورۃ آل عمران کے آخری رکوع  میں ایمان کے بنیادی چار تقاضوں یعنی ایمان،عمل صالح، تواصی بالحق اور تواصی بالصبرکی وضاحت ایک نئے انداز میں کی گئی ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور یاد کرو جب نکالا آپؐ کے رب نے تمام بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی نسل کواور ان کو گواہ بنایا خود ان کے اوپر‘ (اور سوال کیا) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟انہوں نے کہا کیوں نہیں! ہم اس پر گواہ ہیں۔مبادا تم یہ کہو قیامت کے دن کہ ہم تو اس سے غافل تھے۔‘‘(الاعراف:172)
یہ ایمان کی بنیا د ہراس شخص کے اندر موجودہے جو حضر ت آدم کی اولاد میں سے ہے ۔ لہٰذااگر انسان کی فطرت مسخ نہ ہو چکی ہو ، مسلسل گناہ کرنے سے اس کا مزاج بگڑ نہ چکا ہو اوراس کا ضمیر مردہ نہ ہوچکا ہوتو وہ غور و فکر کے ذریعے بھی اللہ تعالیٰ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ چاہے نبی یا رسول کی دعوت ا س تک نہ بھی پہنچی ہواوریہ بھی سمجھ لیجئے کہ اسی حوالے سے ہر انسان مکلف ہے ۔حضرت آدم کی اولاد میں جو بھی پیدا ہوا ہے اس کا حساب ہونا ہے ۔چاہے نبی کی دعوت اس تک پہنچی ہے یا نہیں پہنچی ۔ اس کے اندر عہد الست کی صورت میں جو ایمان موجود ہے اس کی بنیاد پر پوچھا جائے گا کہ غور وفکر کر کے اللہ تک پہنچا تھا یا نہیں اور انسان کے اندر جو اللہ نے ضمیر نامی شے رکھی ہے تاکہ جان سکے  کہ یہ حلال ہے ،یہ حرام ہے ،یہ جائز ہے یہ ناجائز ہے اس کے مطابق عمل کیا تھا یا نہیں ۔اللہ کی توحید تک پہنچا تھا یا نہیں، چنانچہ ہر شخص سے حساب تو ہونا ہے لیکن ہم سے زیادہ کڑا ہوگاا س لیے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی امت میں پیدا ہوئے ہیں ۔یہ اللہ کا خاص فضل ہے ، لیکن جن لوگوں تک کسی پیغمبر کی دعوت نہیں بھی پہنچی وہ بھی غور وفکر کے نتیجے میں اللہ تک پہنچ سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی فطرت مسخ نہ ہو چکی ہو۔ کیونکہ اللہ کی معرفت ہر انسان کے اندر موجود ہے۔   اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں :’’(نسل انسانی کا) ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔‘‘
یہی بات اس رکوع میں بھی بیان ہورہی ہے ۔’’یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے الٹ پھیر میں‘ہوش مند لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ 
 بہت اہم مقام ہے ۔ آنحضورﷺ کو بھی ان آیات سے خصوصی محبت اورلگاؤ تھا ۔ آپ ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب آپ ﷺ رات کو نماز تہجد کے لیے اٹھتے تھے تو آپ ؐ  کی زبان پر یہی آیات جاری ہوجاتی تھیں۔اس ضمن میں پہلی روایت حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے ، جسے ان آیات کا شان نزول بھی کہا جا سکتا ہے ۔ ان سے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے یہ فرمائش کی کہ اے اُم المومنین ؓ ! مجھے آپ وہ واقعہ سنائیے جو نبی اکرم ﷺ کے احوال و واقعات میں آپ کو سب سے زیادہ پیارا لگا ہو۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ایک گہرے احساس کے ساتھ یہ فرمایا کہ ’’ آنحضور ﷺ کی تو ساری ہی باتیں نہایت پیاری تھیں اور آپ ؐ  کی تو ہر ادا دل آویز تھی ، تاہم آپ  نے فرمائش کی ہے تو میں آپ کو ایک واقعہ سناتی ہوں۔ ایک شب آنحضور ﷺ میرے پاس تشریف لائے، لیکن اچانک آپ ؐ نے مجھ سے فرمایا :’’اے عائشہ ! مجھے اجازت دو ، میں اس وقت اپنے اللہ کی عبادت کرنا چاہتا ہوں ‘‘۔ میں نے عرض کیا : حضورؐ! مجھے آپ ؐ  کا قرب نہایت عزیز ہے ، لیکن جو چیز آپ ؐ کوپسند ہو وہ اس سے بھی زیادہ محبوب ہے، لہٰذا آپ ؐ کو اجازت ہے ۔ تو آپﷺ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے اور آپ ؐ پر رقت طاری ہوئی اور آپؐ روتے رہے ، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی ۔ پھر آپ ؐنے بہت طویل سجدہ کیا ، اس میں بھی گریہ طاری رہا جس کی بنا پر سجدہ گاہ تر ہو گئی اور آپ ؐ پر رقت اور گریہ کی وہی کیفیت طاری رہی ۔ حضرت بلال ؓ جب فجر کی نماز ا طلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی آنحضورﷺ کی اس کیفیت کو دیکھا تو انہوں نے عرض کیا حضور ؐ ! آپ ؐ پر یہ رقت اور یہ گریہ کیسا؟ حالانکہ اگر بالفرض آپ ؐ سے کوئی خطا اور لغزش ہو ئی بھی ہو تو اللہ تعالیٰ آپ ؐ کی تمام خطاؤں کو بخش دینے کا اعلان فرما چکا ہے ۔تو جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا  ’’ اے بلال ! میں کیوں نہ روؤں کہ آج کی شب میں میرے رب نے مجھ پر یہ آیات نازل فرمائی ہیں ۔ پھر آپ ؐنے ان آیات کی تلاوت فرمائی ۔ ‘‘
(جاری ہے)