07:33 am
مدبر مسلم لیگی نئی پارلیمانی مسلم لیگ بنائیں

مدبر مسلم لیگی نئی پارلیمانی مسلم لیگ بنائیں

07:33 am

مسلم لیگ (ن) یقینا نواز شریف کی زیر قیادت سب مسلم لیگیوں کی ملکیت سیاسی جماعت ہے مگر جس طرح اپنے حقیقی بھائی شہباز شریف (صدر) اور راجہ ظفرالحق(چیئرمین) کو چھوڑ کر اپنے انتہائی جذباتی داماد کیپٹن (ر) صفدر اعوان کو مولانا فضل الرحمان سے رابطے کا ’’امین‘‘ بنا دیا  ہے بھلا اس کا مطلب و مقصد صرف وزیراعظم عمران خان کو منصب سے الگ کرنا ہے؟ صرف پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت کا خاتمہ ہے؟ نہیں ہرگز‘ اگر ہم کیپٹن(ر) صفدر اعوان کی شخصیت کا جائزہ سنجیدگی سے لے لیں تو وہ انتہائی غیر مستحکم سیاسی اور مذہبی روئیے کا نام ہے۔ پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر وایک تحریک کی ہمنوائی کرتے رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کو  شدت پسندی کی طرف موڑ دینے کا عمل کرتے رہے ہیں مگر ان کا یہ سارا عمل اس وقت نمودار نہیں ہوا تھا جب وزیراعظم  نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی رخصتی کے سبب کر رہے تھے۔ میری نظر میں میاں نواز شریف کا سارا زور اب اس بات پر ہے کہ جنرل باجوہ کو متنازعہ بنا دیا جائے۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ میں نے سوچ سمجھ کر یہ بات لکھی ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر اعوان کو سامنے لانے اور حسین نواز کو خط لکھ کر مولانا فضل الرحمان کا مددگار بننے کے نواز شریف عمل کا دو ٹوک اصل نشانہ جنرل باجوہ ہیں۔
نواز شریف کا یہ عمل فوج کو تقسیم اور انتشار سے دوچار کرنے کا ہدف اور مقصد رکھتا ہے۔ کیا مدبر مسلم لیگی نواز شریف کے اس ہدف و مقصد‘ عمل کے ساتھی ہیں ہرگز نہیں۔شہباز شریف کے حوالے سے میرے مشاہدات و تجربات قارئین کے سامنے موجود ہیں۔ شہباز  میں اتنی طاقت ہی نہیں کہ وہ نواز شریف کے مدمقابل کھڑے ہو کر سیاست کرسکیں۔ نواز شریف شہباز پر مکمل بالادستی رکھتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ ریاستی اداروں سے صلح اور مفاہمت کی عملیت پسندی اپناتے ہیں مگر وہ آخری لمحے صرف نواز شریف کے سپاہی ہی ثابت ہو جاتے ہیں۔ میں نے گزشتہ کالموں میں ن لیگ کے مدبر مسلم لیگیوں کو راستہ دکھلایا تھا کہ وہ ’’پارلیمانی مسلم لیگ‘‘ نام  کا اپنا وجود تخلیق کرکے عمران خان کے ساتھی بن جائیں۔ یوں انہیں اقتدار ملے گا۔ عمران خان کی عدد کمزوری طاقت میں تبدیلی ہو جائے گی۔ عمران خان بلیک میل کرنے والے ساتھیوں سے دلیری سے بے نیاز ہو جائیں گے۔ ریاست اور عوام کو مضبوط حکومت کی نعمت ملے گی۔ مودی کے انڈیا کے مدمقابل نئی مضبوط و مستحکم حکومت دلیری اور جرات سے موقف اپناتی رہے گی مگر ن لیگ میں موجود مدبر مسلم لیگی ڈرتے ہیں۔ شاید وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی ذاتی پارٹی ہے  لہٰذا ان کے بغاوت کرنے کی سزا نواز شریف مریم نواز  کی طرف سے انہیں ملے گی۔ میری نظر میں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا۔ یہ سوچ لیں کہ اگر نواز شریف اور مریم  نواز ان سے کہہ دیں کہ وہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں تو کیا یہ عمل مدبر پارلیمانی مسلم لیگیوں کو قبول ہوگا؟ ہرگز نہیں بلکہ یوں تو صفحہ سیاست  سے ہی یہ سارے ممبران مٹ جائیں گے۔ 
پہلی بات کہ عمران کی حکومت ختم کرانے کے نتیجے میں فوراً انتخابات ہونے ہی نہیں ہیں۔ قومی حکومت اگر بن سکتی ہے تب بھی وزیراعظم عمران خان ہی رہیں گے۔ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے اور چوہدری نثار علی کا وزیراعلیٰ بننا تو ناممکن ہے۔ ہاں عمران عددی طورپر کمزور ہیں۔ ان کے اقتدار کو صرف اکتوبر‘ نومبر میں کچھ خطرہ ہے مگر پھر بھی عمران خان ہی بطور وزیراعظم برقرار رہیں گے۔ ایسا کرنے کی فوری ضرورت صدارتی آرڈیننس بھی پوری کر دے گا۔ اگر بغیر رکن صوبائی اسمبلی ہونے کے ایک فرد وزیراعلیٰ پنجاب چھ ماہ کے لئے آئینی طور پر مقرر ہوسکتا ہے تو عمران خان کیوں نہیں متوقع ہنگامہ خیز حالات میں بھی وزیراعظم بن سکتے؟ میں نے صرف امکانات  کے حوالے سے صورتحال لکھی ہے یہ سوچنا کہ ایک طرف مولانا کا دھرنا ہوگا۔ عمران پریشان‘ لہٰذا ان کے خلاف تحریک اعتماد لا کر انہیں بے بس کرکے مستعفی ہونے پر مجبور کیا جائے۔ ناممکن ہے یہ سب  پیپلزپارٹی دد عدد جود رکھتی ہے ایک پی پی پی  پارلیمنٹرین اور دوسری پی پی پی‘ شہباز شریف کو پارٹی کا صدر رہنے دیں جس کے چیئرمین راجہ ظفرالحق اور سیکرٹری جنرل احسن اقبال ہیں مگر ایک ’’نئی پارلیمانی مسلم لیگ‘‘ بنالیں۔ اسے الیکشن کمیشن میں رجسٹر کروالیں۔ راستہ میں نے تجویز کر دیا ہے۔  جرات اور دلیری سے اس  راستے پر چلنے  کا دلیرانہ عمل خود مسلم لیگیوں کو کرنا ہوگا۔ فی الحال ق لیگ میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں نہ ہی عوامی مسلم لیگ میں۔ ویسے بھی شیخ رشید ناقابل اعتبار ہیں۔  رائی کا پہاڑ بنا کر مبالغہ آرائی کرتے ہیں۔ وہ نقصان دہ زیادہ ہیں۔ مفید بالکل بھی نہیں جس طرح وہ ایٹمی ہتھیاروں کی باتیں کرتے رہے ہیں انہیں تو وزیر بھی نہیں رہنا چاہیے۔ 
نومبر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیعی مدت کا نوٹیفکیشن جاری ہونا ہے۔ ممکن ہے کہ آخری عشرے میں یہ نوٹیفکیشن جاری ہو جائے۔ جنرل باجوہ خالص سکارپیو ہیں۔ دوٹوک سکارپیو‘ دوسری طرف نواز شریف سخت مزاج‘ ضدی ‘اپنی بات منوانے پر ہمیشہ کمربستہ‘ ان کی بیٹی مریم بھی دوٹوک سکارپیو۔ دوسکارپیو آپس میں بہت اچھے دوست‘ ساتھی‘ اتحادی نہیں بن سکتے ۔ اب جنرل باجوہ نواز شریف مریم نواز کی ہٹ لسٹ پر سرفہرست ہیں۔ فوج میں تقسیم و انتشار واضح مقصد ہے تاکہ جنرل باجوہ منصب سے شدید دبائو اور بلیک میلنگ کے سبب خود ہی الگ ہو جائیں۔ یوں عمران خود بخود چلا جائے گا۔ نومبر میں مریم نواز بطور سکارپیو شدید غصے اور نفرت کا سراپا ہوگی جواب میں سکارپیو جنرل کیا خاموش رہے گا؟ کیا مارشل لاء لگنا چاہیے؟ ہرگز نہیں۔ مارشل لاء مسائل کا حل نہیں ہے۔  حل صرف یہ ہے کہ عمران ہی وزیراعظم رہیں۔ ان کی عددی کمزوری خود سنجیدہ مسلم لیگی پوری کر دیں۔ نئی مختصر مگر باصلاحیت افراد پر مبنی کابینہ بنے گی۔ فوج کو سیاسی دبائو سے نجات ملے گی۔ سرحدوں کا دفاع فوج کرے گی کیا مدبر اور سنجیدہ مسلم لیگی ایسا کر سکتے ہیں؟ اقتدار سامنے ہے مگر یہ اقتدار شریف خاندان سے سیاسی نجات کے ذریعے ہی میسر آسکتا ہے اگر مخلص مسلم لیگی یہ عمل کرلیں تو وہ عوام‘ ریاست‘ ملک کے بڑے محسن بن جائیں گے۔ نواز شریف و مریم نے انہیں ویسے بھی مستقبل میں ٹکٹیں نہیں دینی۔
پس تحریر: ممکنہ طور پر امرالٰہی کے سبب نومبر‘ دسمبر نظام حکومت تبدیل کرتے مہینے ہوسکتے ہیں واللہ اعلم بالصواب