07:34 am
منی لانڈرنگ اور پاکستان کی اقتصادیات 

منی لانڈرنگ اور پاکستان کی اقتصادیات 

07:34 am

اس حقیقت سے پاکستان کے تمام باشعورافراد واقف ہیں کہ سیاست دانوں ، بیوروکریسی اور تاجروں  میں سے بعض افراد نے پاکستان کا پیسہ خفیہ طور پر پاکستان سے باہر بھیجا جس کی وجہ سے پاکستان اس وقت اقتصادی بحران کا شکار ہوگیاہے۔ جن سیاست دانوں نے منی لانڈرنگ کی ہے ان میں مبینہ طور پر میاں نواز شریف ، شہباز شریف اور آصف زرداری کے علاوہ دیگر سیاست دان بھی شامل ہیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت میاں نواز شریف اور آصف زرداری جیلوں میں بند ہیں اور پس دیوار زنداں بیٹھ کر ملک و ملت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ ابھی تک ان دونوں سے ناجائز طور پر کمائی ہوئی دولت واپس نہیں لی گئی ہے حالانکہ اس وقت حکومت وقت اس ضمن میں بہت کوششیں کر رہی ہے لیکن ابھی تک اس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ان عناصر کی دولت سوئٹزر لینڈ ، بحرین، لندن، دبئی، ابو ظہبی اور امریکہ کے بینکوں میں رکھی ہوئی ہے لیکن ان ممالک نے اس ناجائز دولت کو پاکستان کو واپس بھیجنے میں تعاون نہیں کیا ہے  اسی لئے یہ ناجائز دولت ہنوز باہر کے ملکوں میں جمع ہے‘ مزید براں ان کرپٹ سیاست دانوں نے باہر کے ملکوں میں جائیدادیں بھی بنائی ہوئی ہیں جن کا تذکرہ اخبارات میں تسلسل کے ساتھ آتا رہتا ہے ۔ 
عمران خان خود کہتے ہیں کہ ان کرپٹ عناصر کی ناجائز دولت کو پاکستان میں لانا ایک بہت مشکل کام ہے‘ کیونکہ اس ناجائز دولت کی واپسی میں ان ممالک کے قوانین رکاوٹ کا سبب بن رہے ہیں‘ تاہم عالمی قوانین کی روشنی میں اگر یہ ممالک پاکستان کی حکومت کے ساتھ تعاون کریں تو یہ دولت با آسانی پاکستان واپس آسکتی ہے لیکن جیسا کہ میں نے اوپرسطور میں لکھا ہے کہ یہ ممالک منی لانڈرنگ کے اس پیسے کو اپنے لئے سود کی صورت میں استعمال کر رہے ہیں اور اپنی معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں چنانچہ منی لانڈرنگ کی وجہ سے پاکستان کی اقتصادیات پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوئے ہیں یہاں تک کہ پاکستان کو اپنے مالی معاملات کو احسن طریقے سے چلانا مشکل نظر آرہا ہے۔
 دوسری طرف اس صورتحال کے پیش نظر عوام غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں۔ دراصل منی لانڈرنگ کی رقم پاکستان کاوہ سرمایہ ہے جو کرپشن کے ذریعے باہر منتقل کیا گیا ہے۔ اس ناجائز منتقلی میں کرپٹ عناصر کی مدد حاصل کی گئی ہے جن میں خواتین بھی شامل ہیںجن کو اس ’’سروس‘‘کا باقاعدہ معاوضہ دیا جاتا تھا ۔ پاکستان کے مختلف ایئر پورٹس پر موجود قانون کے بعض محافظ بھی اس غیر قانونی کاموں میں شراکت دار ہیں انہی کی مدد سے منی لانڈرنگ کی جاتی ہے۔ پاکستان میں منی لانڈرنگ کو روکنے کے لئے کئی قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کیا جا تا جو عناصر اس کام میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ انہیں قرار واقعی سزا بھی نہیں ملتی ہے بلکہ وہ عدالتوں سے با آسانی ضمانت لے کر باہر آجاتے ہیں اور دوبارہ بڑے جوش و خروش سے اس دھندے کو شروع کر دیتے ہیں ۔ پاکستان میں چونکہ قانون کی گرفت بہت کمزور ہے بلکہ جان بوجھ کر قانون کو کمزور رکھا گیا ہے جس سے جرائم پیشہ عناصر پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس موقع پر یہاں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا قومی اسمبلی میں اس بیان کا تذکرہ نہایت ہی ضروری ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’پاکستانیوں کا 22ملین ڈالر روپیہ بیرون ملک کے بینکوں میں رکھا ہوا ہے جس کو ہماری حکومت واپس لا کر دم لے گی۔‘‘اس کے بعد جو کچھ بھی ہو ا وہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ ایک محتاط انداذے کے مطابق پاکستان سے ہر سال دس بلین ڈالر رقم غیر قانونی ذرائع سے باہر بھیجی جاتی ہے اگر اس ناجائز پیسے کی ترسیل کو موثر حکمت عملی سے روک لیا جائے تو اس رقم پر ٹیکس کی صورت میں پاکستان کو ایک بہت بڑی رقم حاصل ہو سکتی ہے جس کے پاکستان کی معیشت پر بڑے اچھے اثرات مرتب ہونگے۔ چنانچہ منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دیگر کرپشن کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کمزور و بدحال ہو ئی ہے جس کا ہم آج مشاہدہ کر رہے ہیں اس کرپشن کے اثرات پاکستان کے سیکورٹی اداروں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں آرمی چیف جناب قمر جاوید باجوہ نے تاجروں اور صنعت کاروں سے اپنی طویل ملاقات میں یہی کہا تھا کہ اگر کسی ملک کی اقتصادیات کمزور ہو جاتی ہے تو اس کے براہ راست اثرات اس ملک کی سیکورٹی پر بھی پڑتے ہیں اس کرپشن کی وجہ سے پاکستان کنگال ہو گیا ہے‘ اگر بروقت دوست ممالک مثلاً سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، چین مالی تعاون نہ کرتے تو پاکستان بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے سلسلے میں ڈیفالٹ ہو سکتا تھا لیکن اب حالات میں بتدریج بہتری آرہی ہے تاہم اس بہتری میں خاصا وقت لگے گا جس کے لئے قوم کو صبر کرنا پڑے گا۔
اس موقع پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت حال کے پیش نظر ایماندار اور پاکستان دوست سرمایہ دار وں کا کیا رویہ ہونا چاہئے‘ یقینا ایسے تمام سرمایہ دار اور دولت مندوں کو چاہئے کہ اپنا سرمایہ اگر باہر رکھا ہوا ہے تو اسے پاکستان واپس لانا چاہئے تاکہ صنعت سازی کی صورت میں عوام کو روزگار مل سکے۔ حکومت وقت کا یہ خیال ہے کہ تعمیراتی صنعت کو فروغ ملنا چاہئے کیونکہ اس کے ذریعے جہاں ہائوسنگ کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو وہیں غریب محنت کشوں کو بھی روزگار کے ذرائع میسر ہو سکتے ہیں نیز تعمیراتی صنعت سے کئی چھوٹی بڑی صنعتیں وابستہ ہیں جن  کے شروع ہونے سے ملک کی اقتصادیات پر انتہائی مثبت نتائج مرتب ہونگے۔
 اس کے علاوہ حکومت کو بر آمدات کے فروغ کے سلسلے میں بھی خاطرخواہ توجہ دینی چاہئے کیونکہ برآمدات ہی وہ شعبہ ہے جس کے ذریعے بعض ملکوں نے مثلاً چین، جنوبی کوریا، ملائیشیاء  اور سنگا پور نے بے مثال ترقی کی ہے پاکستان ہر چند کے وسائل سے مالا مال ملک ہے لیکن ہمارے ایکسپورٹرز نہ صرف سست واقع ہوئے ہیں بلکہ وہ اپنے اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کا ستعمال بھی نہیں کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پروڈکٹ کا معیار دیگر ممالک کی پراڈکٹ کے مقابلے میں گرا ہوا ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان جس کو برآمدکنندگان کی مدد کے لئے قائم کیا گیا‘ تقریباً غیر فعال ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی ایکسپورٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے ۔ پاکستان کے سفارتخانوں میں موجود کمرشل کونسلرز دلجمعی سے پاکستان کی ایکسپورٹ کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہے ہیں‘ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ جس کی وجہ سے پاکستان کی بر آمدات نہیں بڑھ رہی ہیں اس لئے وزارت تجارت کو ایسے کمرشل کونسلرز کو واپس بلا لینا چاہئے جو ان ملکوں میں پاکستان کا کام کرنے کی بجائے ذاتی مفادات کے لئے کام کر رہے ہیں۔
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر کسی ملک کے عوام غریب ہیں ، محروم ہیں اور انہیں دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل بن جاتا ہے تو یہ بات یاد رکھئے وہ ملک کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا۔در اصل خلق خدا کو محروم رکھ کے خدا کو خوش نہیں کیا جا سکتا، ذرا سوچئے۔