07:35 am
اکتوبر کا مہینہ اورپاکستان کے فوجی طالع آزما

اکتوبر کا مہینہ اورپاکستان کے فوجی طالع آزما

07:35 am

اکتوبر کا مہینہ پاکستان کے لئے بڑا کڑا مہینہ رہا ہے ۔قیام پاکستان کے صرف چار سال بعد 16اکتوبر 1951ء کو ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان قتل کر دئیے گئے اور 24اکتوبر 1954ء کو گورنر جنرل غلام محمد ملک نے پہلی دستور ساز اسمبلی  جوکہ ان کے لئے درد سر بن گئی تھی ،برطرف کردی ۔ یہ سن اٹھاون کے اکتوبر کا ساتواں دن تھا جب جنرل ایوب خان کی قیادت میں فوج نے ملک کے اقتدار پر شب خون مارا اور ملک میں فوجی طالع آزمائوں کا راستہ کھول دیا جس کے ہر لمحہ خطرے کے خوف سے ملک کے عوام کو اب تک نجات نہیں مل سکی ہے۔ ایوب خان کے گیارہ سالہ فوجی حکمرانی کے بعد ملک نے دو کڑے فوجی ادوار دیکھے جس کے بعد 12اکتوبر 1999 ء کو جنرل پرویز مشرف نے طاقت کے بل پر ملک کے منتخب وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ ان چار فوجی طالع آزمائوں کا مقصد ایک لیکن  اقتدار پر قبضہ کے طریق کار مختلف تھے ۔ 
 
ایوب خان کی منفرد حیثیت تھی ، وہ فوج کے سربراہ ہوتے ہوئے کابینہ میں وزیر دفاع بھی تھے ۔ گورنر جنرل غلام محمد نے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور فوج کی حمایت کی خاطر کمانڈر انچیف ایوب خان کو کابینہ میں شامل کیا تھا۔ ایوب خان نے سیاسی عدم استحکام کا سہارا لیا جو صد ر اسکندر مرزا نے دو سال کے دوران یکے بعد دیگرے چار وزرائے  اعظم کو برطرف کر کے پیدا کیا تھا۔اسکندر مرزا کا مقصد در اصل آئندہ عام انتخابات میں اپنی نئی سیاسی جماعت  ریپلیکن کو برسر اقتدار لانا اور دوسری معیاد کے لئے صدر منتخب ہونا تھا۔اسی منصوبے کے تحت  اسکندر مرزا نے آناً فاناً سر فیروز خان نون کی حکومت کو برطرف کر کے مارشل لاء نافذ کرنے اور آئین کو منسوخ کر کے  ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ اسکندر مرزا یہ بھول گئے کہ انہوں نے اس آئین کو منسوخ کردیا جس کے تحت وہ اس عہدہ پر فائز ہوئے تھے۔ 
ایوب خان نے اسکندر مرزا کی اس فاش غلطی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مارشل لاء کے تحت اسکندر مرزا کو صدر کے عہدہ سے برطرف کر دیا کیونکہ ایک نیام میں دو تلواروں کا رہنا ممکن نہ تھا۔ اسکندر مرزا نے پہلے تو ایوب خان کو وزیر اعظم کے عہدہ کی پیش کش کی اور جب ایوب خان نے انکار کیا تو بری فوج اور بحری فوج کے افسر وں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ ایوب خان نے اسکندر مرزا کی سازش بھانپ لی اور 26اور 27اکتوبر کی درمیانی شب کو ایک فوج کے ایک دستہ کے ساتھ اپنے چار جرنیلوں کو ایوان صدر بھیجا جہاں انہوں نے اسکندر مرزا کو سوتے سے اٹھایا اور انہیں طیارہ میں بٹھا کر لندن ملک بدر کردیا۔  اسکندر مرزا نے  مارشل لاء  کے نفاذ کے ساتھ ایوب خان کو مسلح افواج کا سپریم کمانڈر مقر ر کر دیا تھا ۔ اسکندر مرزا کی ملک بدری کے بعد ایوب خان نے اپنے آپ کو فیلڈ مارشل کے عہدہ پر مقرر کر دیا۔ یہ اقدام تعجب خیز تھا کیونکہ فیلڈ مارشل کے عہدہ کے لئے ایک جنگ جیتنا لازمی ہوتا ہے  جب کہ ایوب خان نے ایک جنگ بھی نہیں جیتی تھی۔ بہرحال 1960ء میں ایوب خان نے انتخابی کالج کی بنیاد پر ریفرینڈم کرایا جس کے تحت وہ پانچ سال کے لئے صدر کے عہدہ پر فائز ہوگئے۔
یہ بھی ایک روایت ہے کہ پاکستان میں ہر فوجی دور نہایت سنگین مسائل اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ ایوب خان نے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لئے بنیادی جمہوریتوں کے نظریہ کے ذریعہ جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی مہم شروع کی جسے عوام نے قبول نہیں کیا ۔  ایوب خان کا دور صحافت کی آزادی کے لئے مہلک ثابت ہوا اور اسی زمانہ سے میڈیا کو بیڑیوں میں جکڑنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایوب خان کے اعلیٰ مشیروں، الطاف گوہر اور ایف آر خان کے مشورہ پر پاکستان کے اخبارات پر تسلط کا سلسلہ پاکستان ٹائمز اور امروز کو حکومت کی تحویل میں لینے سے شروع ہوا اور دوسرے اخبارات کو حکومت کی بیڑیوں میں جکڑنے کے لئے پریس ٹرسٹ کا قیام عمل میں آیا۔ 
ایوب خان کے دور میں ملک کو دو جدا یونٹوں میں تقسیم کیا گیا ، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان جس میں سارے صوبے زبردستی ضم کر دیئے گئے۔ یوں ملک میں دو یونٹوں کے قیام کا مقصد  در اصل ملک کو دو لخت کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اسی زمانہ میں یہ حقیقت آشکار ہوگئی تھی کہ فوج ، مشرقی پاکستان کی اکیاون فی صد کی اکثریت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھی اور فوج اور دوسرے سرکاری اداروں میں پچاس فی صد حصہ دینے کے لئے  بھی آمادہ  نہیں تھی۔ 
ایوب خان کے بعد یحییٰ خان کو اقتدار کے حصول کے لئے کوئی زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی کیونکہ وہ ایوب خان کے زمانہ ہی میں فوج کے سربراہ کے عہدہ پر فائز ہو چکے تھے ۔ ایوب خان نے جب اپنے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی لہر ابھرتے دیکھی تو انہوں نے مستعفی ٰ ہو کر راہ فرار اختیار کی اور اقتدار یحییٰ خان کے حوالے کر دیا ۔ 
یحییٰ خان کا دو سالہ دور پاکستان کی تاریخ میںبے حد مختصر لیکن سیاہ ترین دور قرار دیا جائے گا۔بلا شبہ دسمبر 1970 ء کے عام انتخابات منصفانہ تھے لیکن ان انتخابات میں عوام نے جو فیصلہ دیا تھا اسے سراسر مسترد کردیا گیا نتیجہ یہ کہ مشرقی پاکستان میں عوامی بغاوت بھڑک اٹھی جسے فوج کی طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کی گئی ۔ ہندوستان نے اس صورت حال کا بھر پور فایدہ اٹھایا اور بنگلہ دیش کی تحریک کی حمایت کے لئے عوامی لیگ اور مکتی باہنی کی مدد کی اور آخر کار مشرقی پاکستان پر حملہ کردیا اور ملک دو لخت ہوگیا۔ پاکستان اتنے سنگین المیہ سے گذر گیا لیکن کسی کا احتساب نہیں ہوا۔ کسی کے خلاف ملک کے ٹوٹنے کے الزام میں مقدمہ نہیں چلا اور نہ کسی کوفوجی شکست کا مورد الزام ٹھہرا کر سزا دی گئی ۔ 
(جاری ہے)
میں نے جولائی 1973ء میں لندن میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ایک طویل انٹرویو  میں نے ان سے پوچھا تھا کہ ملک جب دو لخت ہوا تو اس وقت ملک کے صدر اور فوج کے سربراہ یحییٰ خان تھے ۔ اتنے بڑے المیہ کی ذمہ داری پر آپ نے  ان کے خلاف کوئی مقدمہ کیوں نہیں چلایا  ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے صاف صاف الفاظ میں خبردار کیا تھا کہ یحییٰ خان کے خلاف کوئی مقدمہ اور کوئی کارروائی نہ کی جائے کیونکہ انہوں نے چین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات استوار کرنے میں اہم رول ادا کیا تھا اور امریکہ ان کا احسان مند ہے۔ اگست 1980ء میں اپنے انتقال تک یحییٰ خان راولپنڈی میں اپنے گھر میں برائے نام نظر بند رہے ۔
تیسرے فوجی حکمران جنرل ضیاء  الحق نے  عام انتخابات میں بڑے پیمانہ پر دھاندلی کے خلاف ملک گیر تحریک کے نتیجہ میں اور تحریک میں شامل نو جماعتوں کے اتحاد اور بھٹو کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔  بھٹو کی حکومت کو برطرف کرنے کے بعد انہوں نے نوے روز کے اندر اندر عام انتخابات کرانے کا پیمان کیا تھا لیکن وہ اس پر قائم نہیں رہے اور جب مایوس عوام نے جنرل ضیاء  کا وعدہ پورا نہ ہونے پر فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کی راہ اختیار کی تو اسے طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کی گئی۔
بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے جنرل ضیا ء کے اقدام کے خلاف بیگم نصرت بھٹو نے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا جس پر عدالت نے نظریہ ضرورت کی بنیاد پر جنرل ضیاء  کے اقدام کو قانونی قرار دیا ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد جنرل ضیاء  نے بے دھڑک صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ 
 اپریل 1978ء میں احمد رضا قصوری کے والد کے قتل کے الزام میں ذوالفقار علی کی پھانسی کے بعد ملک میں جب عام انتخابات کے مطالبہ نے زور پکڑا تو جنرل ضیاء  نے صدر کے عہدہ پر برقرار رہنے کے لئے 1984ء میں ایک ریفرینڈم کرایا لیکن صرف دس فیصد ووٹرز نے اس میں حصہ لیا اور یوں یہ ریفرینڈم کامیاب نہیں رہا اس کے بعد جنرل ضیاء  نے غیر جماعتی بنیاد پر انتخاب کرائے اور پارلیمنٹ مجلس شوریٰ کہلائی گئی۔ اس دور میں اسلامی مملکت کے قیام کے لیے بعض سخت قوانین کے نفاذ کی کوشش کی گئی جس میں کامیابی نہ ہوئی ۔ بیشتر صحافیوں کو شکایت ہے کہ اس دور میں ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک رو ا رکھا گیا۔ 
جنرل ضیاء  کے دور کا کارنامہ افغانستان میں سوویت تسلط کے خلاف جہادیوں کی جنگ اور اس میں کامیابی قرار دیا جاتا ہے  لیکن ان کے معترضیں کی دلیل ہے کہ افغانستان سے سوویت یونین کی پسپائی میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کے مقصد میں تو کامیابی ہوئی لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہوئے انہیں قابل تعریف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسلحہ کی فراوانی، منشیات کی تجارت میں بے پناہ اضافہ اور ٹرانسپورٹ اور جائیدادوں پر افغانوں کے قبضہ سے جو مسائل پیدا ہوئے ان کو جنرل ضیا کے دور سے وابستہ کیا جاتاہے۔
جنرل مشرف کا اقتدار پر قبضہ کا پس منظر ، ذاتی نوعیت کا ہے ۔ کولمبو سے وطن واپس آتے ہوئے پرواز کے دوران انہیں جب علم ہوا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں فوج کے  سربراہ کے عہدہ سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو انہوں نے نواز شریف کے اس اقدام کو ناکام بنانے کے لیے وطن واپسی سے پہلے ہی اپنے معتمد جرنیلوں کو نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کارروائی کرنے کی ہدایت کر دی تھی ۔ 12 اکتوبر کو وطن واپس آتے ہی جنرل مشرف نے نواز شریف کو جنہوں نے ایک سال قبل اکتوبر 1998ء میں فوج کا سربراہ مقرر کیا تھا برطرف کر کے انہیں گرفتار کر لیا  اور انہیں سعودی عرب جلا وطن کر دیا۔ اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد جنرل مشرف نے  ایمرجنسی نافذ کر دی اور آئین کو معطل کر کے خود ملک کے چیف ایگزیٹو کا عہدہ سنبھال لیا جس کے بعد لوگوں کی جلد جمہوریت کے جانب روانگی کی امید ختم ہوگئی ۔ جنرل مشرف نے آئین میں ترمیم کی اور ججوں کے حلف میں تبدیلی کر کے فوج سے وفاداری کی شق شامل کی ۔ پھر 2001ء میں خود صد ر کا عہدہ سنبھال لیا۔ 
جنرل مشرف کا دور نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں بھر پور ساتھ دینے اور افغانستان میں امریکہ کی جنگ میں حصہ لینے کے اقدام کی وجہ سے یاد رہے گا جس کے نتیجہ میں پاکستان کے چوبیس ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے اور پاکستان کو زبردست مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہی نہیں اس کے بعد خود پاکستان کو بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ۔ 2002 ء میں جنرل مشرف متنازعہ ریفرنڈم میں پانچ سال کے لئے صدر مقرر ہوئے۔ 
جنرل مشرف نے 2007 ء میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف ریفرینس دائر کرنے کا فیصلہ کیا جس کے خلاف  ملک گیر  وکلاء کی تحریک شروع ہوئی اس سے گھبرا کر جنرل مشرف نے ایمرجنسی نافذ کر دی اور آئین معطل کر دیا متعدد ججوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا  ۔ لیکن وکلا ء کی تحریک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر گئی اور آخر کا ر جنرل مشرف کو پسپائی اختیار کرنی پڑی ۔ 2008ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد جنرل مشرف کے زوال کے نمایاں اشار ے نظر آنے شروع ہو گئے اور پیپلز پارٹی اور نواز شریف کے اشتراک سے جنرل مشرف کے مواخذے کی تحریک تیز تر ہوگئی جس کے نتیجے میں جنرل مشرف کو صدر کے عہدہ سے مستعفی ٰ ہونے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا اور یوں ان کا نو سالہ دور ختم ہوا اور وہ لندن  چلے گئے۔ جہاں انہوں نے اپنی پارٹی قائم کی اور 2013ء میں وطن واپس آکر سیاست میں قسمت آزمانے کی کوشش کی لیکن عدالت نے انہیں نا اہل قرار دے دیا۔ 2014ء میںنواز شریف کی حکومت نے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ دائرکیا لیکن ان کے دبئی فرار ہونے کی وجہ سے اس مقدمہ کی سماعت مکمل نہیں ہو سکی ہے۔ 
بہر حال یہ ذکر تھا اکتوبر کے مہینہ کا جو پاکستان میں فوجی طالع آزمائوں کے عروج اور زوال سے عبارت ہے ۔ یہ مہینہ بھی اکتوبر کا ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اسلام آباد یلغار کی خبریں ہیں۔ خدا خیر کرے۔