07:37 am
ڈینگی‘ حکومتی  وزیر اور حلوہ

ڈینگی‘ حکومتی  وزیر اور حلوہ

07:37 am

ڈینگی‘ ڈینگی‘ ڈینگی‘ ورلڈ کپ ہیرو عمران خان کے اقتدار کے پہلے سال میں ہی ڈینگی مچھروں نے پاکستان کے عوام پر ایسی یلغار کی کہ ہسپتالوں کے ہسپتال  مریضوں سے بھر گئے‘ کہا جاتا ہے کہ ملک بھر میں ڈینگی مچھر کے مریضوں کی تعداد50ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ڈھائی سو سے زائد ڈینگی مریض جاں بحق ہوچکے ہیں۔
 
مرکز میں ورلڈ کپ کے فاتح کی حکومت ہے تو وسیم اکرم پلس عثمان بزدار کا راج پنجاب پر قائم ہے جبکہ سندھ بلاول زرداری کے پیروں کے نیچے پھڑپھڑا رہا ہے‘  ڈینگی مچھر بھی نریندر مودی کی طرح انتہائی ڈھیٹ‘ ضدی اور لعنتی ہے کہ جو نہ کپتان کی بات سنتا ہے‘ نہ وسیم اکرم پلس کی اور نہ ہی بلاول زرداری کی بلکہ جہاں‘ جب بھی موقع ملتا ہے کسی بے گناہ انسان کو کاٹ کر اسے ڈینگی زدہ کر دیتا ہے۔
ڈینگی کے مریض ہی نہیں بلکہ ان کے اہل و عیال بھی ہسپتالوں میں رل رہے ہیں‘ پاکستانی عوام کے لئے ڈینگی اسی طرح ایک ناسور کی حیثیت اختیار کر چکا ہے‘ جس طرح نریندر مودی کشمیری عوام کے لئے ناسور بنا ہوا ہے جبکہ حکومت جس طرح کشمیری قوم کو نریندر مودی کے ’’مچھروں‘‘ سے نہیں بچا سکی‘ بالکل اسی طرح پاکستانی قوم کو ڈینگی مچھروں سے بچانے میں مکمل ناکام نظر آرہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اسلام آباد جس کو پاکستان کا  دارالحکومت ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے‘ اس میں ڈینگی مریضوں کی تعدادسات ہزار کے لگ بھگ ہے‘ آپ راولپنڈی کے سرکاری ہسپتالوں کو تو چھوڑئیے‘ صرف اسلام آباد کے دو بڑے  ہسپتالوں پمز اور پولی کلینک کا ہی جائزہ لیں تو تقریباً نو ہزار کے لگ بھگ ڈینگی کے پازیٹو کیسز ز سامنے آچکے ہیں۔
سنا ہے کہ پاکستان میں کوئی وزارت صحت بھی ہے  اور ہیلتھ کے دیگر ادارے بھی  قائم ہیں۔ ’’ڈینگی‘‘ شہباز شریف دور میں بھی عوام پر حملہ آور ہوا تھا لیکن شہباز شریف نے جس طرح سے ’’جن‘‘ بن کر ڈینگی کے خلاف جہاد کیا تھا وہ ریکارڈ پر موجود ہے‘ بلاشبہ شہباز شریف نے اپنی حکومتی ٹیم کے  زور پر زبردست جدوجہد کے ذریعے ڈینگی مچھروں کی یلغار پر قابو پالیا تھا۔
مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ جس طرح سے پاکستان اور وسیم اکرم پلس بزدار مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے‘ بالکل اسی طرح ڈینگی مچھر بھی ان کے  قابو سے باہر ہوگیا‘ مہنگائی نے کروڑوں انسان کو چیخنے پر مجبور کیا تو ڈینگی مچھر نے ہزاروں انسانوں کو تڑپا کر رکھ دیا‘ سینکڑوں انسان ڈینگی مچھروں کی وجہ سے قبروں کے پاتال میں اتر گئے‘ جبکہ ہزاروں ابھی بھی ہسپتالوں میں ایڑیاں رگڑنے پر مجبور ہیں۔
سوال یہ ہے کہ عمران خان سمیت کتنے وفاقی وزیر ہیں کہ جنہوں نے اسلام آباد‘ راولپنڈی یا کراچی کے ہسپتالوں میں ڈینگی مریضوں کی عیادت کی جرات کی؟ عمران خان سمیت کتنے وزیر مشیر ہیں کہ جنہوں نے ’’ڈینگی‘‘ کے خلاف عوام میں شعور پیدا کرنے کے لئے کوئی بیان دیا ہو؟
27اکتوبر یا 31اکتوبر کو مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ آزادی مارچ کے خلاف تو وفاقی وزیروں سمیت صوبائی وزراء اعلیٰ اور صوبائی وزیروں کی فوج ظفر موج صبح و شام  بیانات دے رہی ہے۔ 
گزشتہ روز ق لیگ سے پیپلزپارٹی اور پھر پیپلزپارٹی کو داغ مفارقت دے کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والی‘ وزیراعظم کی معاون برائے اطلاعات فردوس عاشق فرماتی ہیں کہ ’’فضل الرحمن کا اسلام سے تعلق ہے نہ سیاست سے انہیں حلوے کی  جدھر خوشبو آتی ہے اس جانب منہ موڑ لیتے ہیں‘ کے پی کے کے صوبائی وزراء آزادی مارچ والوں کو مقدمات قائم کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘‘
وہ آزادی مارچ کہ جو ابھی 15دن کی دوری پہ ہے اس کے خلاف تو حکومتی وزراء گرج برس رہے ہیں لیکن وہ ڈینگی مچھر کہ جن کی یلغار کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی ہسپتالوں اور گھروں میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ ان ڈینگی مچھروں سے نجات کے حوالے سے کوئی وزیر بیان دینے کے لئے بھی تیار نہیں‘ ایک طرف ڈینگی مچھر‘ دوسری طرف خوفناک مہنگائی اور اس پر مستزاد یہ کہ حکومتی وزراء کے مزاج سے پھڑکتے ہوئے بیانات یہ ہے  وہ صورت حال کہ جس کی وجہ سے عمران خان حکومت کے خلاف عوامی غصہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔
کوئی فردوس بی بی سے پوچھے کہ اگر مولانا فضل الرحمن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے تو کیا‘ فیصل واوڈا‘ گنڈا پوری‘ زلفی بخاری‘ فواد چوہدری‘ شیریں مزاری‘ زرتاج گل اینڈ کمپنی کاکتنا  تعلق اسلام سے ہے؟
سنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنسوں اور تقریروں کو بلیک آئوٹ کرنے کے لئے الیکٹرونک میڈیا پر دبائو ڈالا جارہا ہے لیکن ’’مولانا‘‘ کے چہرے کے اطمینان کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ جیسے انہیں ان پابندیوں کی ذرا برابر بھی فکر نہیں تو کیوں؟ شاید حکومتی وزیروں کو بھی ’’مولانا‘‘ اپنی ٹیم کا ہی حصہ سمجھے ہوئے ہیں کیونکہ آزادی مارچ کی جیسی تشہیر عمران خان کے وفاقی اور صوبائی وزیر کر سکتے ہیں‘ کسی دوسرے کے بس میں کہاں؟ یعنی
ہم کو سِتم عزیز ہےستمگر کو ہم عزیز
نامہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں تو
رہ گئی بات ’’حلوے‘‘ کی خوشبو کی‘ گنڈہ پوری مشہور زمانہ بوتل اور کوکین کی بدبو سے حلوے کی خوشبو کروڑ درجہ  بہتر ہے‘ مجھے گزشتہ روز جے یو آئی کے ایک سینئر رہنما کا فون آیا ان کا کہنا تھا کہ فردوس عاشق اعوان کا شکریہ کہ انہوں نے مولانا کے حوالے سے حلوے کی خوشبو کی بات ہے۔ ’’حلوہ‘‘ نہ صرف حلال‘ میٹھا بلکہ رسول اللہﷺ کی پسند بھی تھا‘ مطلب یہ کہ’’ دشمن‘‘ بھی یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ ’’مولانا‘‘ حلال حرام میں تمیز روا رکھنے کے عادی ہیں‘ یعنی  نہ سگریٹ‘ نہ پان‘ نہ بیڑی‘ نہ گٹکا‘ نہ شراب‘ نہ ہیروئن‘ نہ چرس اور نہ ہی ’’کوکین‘‘ جس طرح ’’مولانا‘‘ کا دامن مالی کرپشن سے پاک ہے‘ ویسے ہی ہر قسم کے نشے سے بھی وہ بری الذمہ ہیں۔میں نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ حلوہ صرف کھاتے ہی ہیں یا کھلاتے بھی ہیں‘ ان کا جواب تھا کہ ہم سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ فردوس بی بی سمیت عمران خان کے تمام حکومتی وزیروں کی حلوے کی دعوت کی جائے‘ آخر وہ بے چارے آزادی مارچ کی دل کھول کر تشہیر بھی تو کر رہے ہیں؟