07:37 am
مقبوضہ کشمیر، کرفیو چار ماہ جاری رہے گا:مودی

مقبوضہ کشمیر، کرفیو چار ماہ جاری رہے گا:مودی

07:37 am

٭وزیراعظم عمران خان، ایران کے بعد سعودی عرب!O مولانا فضل الرحمان کی مخالفین کو خطرناک دھمکیO مقبوضہ کشمیر:چار ماہ کے بعد امن قائم ہو گا۔مودیO جاپان، تاریخ کا بدترین طوفان، شدید بارش، 20 دریائوں میں سیلاب، 26 شہری ہلاکO آزادکشمیر: دھرنا اگلے ہفتے میںداخل بھوک ہڑتال کااعلان O نوازشریف کا شہبازشریف کو خط، لاہور میںآزادی مارچ تیار کیا جائےO سربیا، عالمی پارلیمانی یونین کا انتخاب، پاکستانی امیدوار کے مقابلے میںبھارت کو شکست۔
٭وزیراعظم عمران خان ایران اور سعودی عرب میں ثالثی کے لئے اتوار کو ایران گئے، صدر روحانی اور رہبر آئت اللہ خامنہ ای سے مذاکرات ہوئے۔ ایران کے صدر نے ظہرانہ دیا۔آج سعودی عرب جا رہے ہیں۔ عمران خان کی اس کاوش کو دونوں ملکوں کی حمائت حاصل ہے مگر اس کا کوئی مستقل حل آسان بات نہیں۔ عرب وعجم کی کش مکش سینکڑوں برسوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ ایران نے اسلام قبول کرنے کے باوجود کبھی عرب بالادستی کو قبول نہیں کیا۔ شاہ ایران نے 1970ء میں ایران کے شہر ’پرسی پولس‘ میں ایرانی شہنشائیت کی ڈھائی ہزار سالہ تقریبات منعقد کیں۔ ان میں دنیا بھر کے سربراہان مملکت شریک ہوئے۔ پاکستان کا صدر جنرل یحییٰ خان بھی گیا (شراب کے نشہ میں مدہوش بدتہذیبی، ایران کی شکائت!) سعودی عرب کے شاہ فیصل کی تجویز اور مدد سے 1974 میں لاہور میں اسرائیل کے خلاف دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی۔ تقریباً تمام مسلم ممالک کے سربراہ شریک ہوئے (کویت نے 17 قیمتی مرسیڈیز گاڑیاں بھیجیں) اس کانفرنس میں شاہ ایران نے عرب سربراہوں، خاص طور پر شاہ فیصل کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔ ایران اور عراق کی (عرب عجم) جنگ سات سال چلی، سات لاکھ افراد مارے گئے۔ جنگ بند کرانے کے لئے پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق اور اردن، شام اور ترکی کے سربراہ ایران گئے۔ (تہران میں امام خمینی کے بارہ فٹ آٹھ فٹ کے حجرے میں فرش پر بیٹھ کر مذاکرات کئے)۔ امام خمینی نے کوئی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ سات برسوں میں دونوں ملکوں کے پاس سارا اسلحہ ختم ہو گیا، بیشتر فوجی ہلاک ہو گئے تو معاشی ابتری کے باعث دونوں نے خود ہی جنگ بندی کر دی۔ (میں نے امام خمینی کا حجرہ اور جنگ میں جانیں دینے والے ایرانی فوجیوں کا کئی کلومیٹر پر پھیلا ہوا قبرستان، بہشت زہرہ دیکھا ہے۔ اس کے مرکز میں ہر وقت سرخ پانی کا بڑا فوارہ ابلتا رہتا ہے۔ ہزاروں قبروں کے سرہانے لوہے کے کھلے بکسوں میں قرآن مجید رکھے ہوئے ہیں)۔ 1981ء میں ایران کے صدر ابوالحسن بنی صدر پاکستان آئے۔ لاہور کے سٹیٹ گیسٹ ہائوس میں ان سے میں نے سوال کیا کہ عرب عجم کش مکش ختم ہونے کے کوئی امکانات ہیں؟ انہوں نے مسکرا کر کہا کہ ایسا ممکن نہیں، ایران اپنی شناخت کو کم نہیںہونے دے گا! اس کے بعد ہی ایران عراق سات سالہ جنگ شروع ہوئی۔ 1990ء کی دہائی میں ایرانی حاجیوں نے مکہ مکرمہ میں حرم کعبہ میں سعودی عرب کی بعض پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کیا اور مردہ باد کے نعرے لگائے تو آئندہ کے لئے ایرانی شہریوں کے حج پر پابندی لگا دی گئی۔ کافی عرصے کے بعد پابندی ہٹی تو چند سال پہلے حرم شریف کے باہر ایک بڑی کرین گرنے سے سینکڑوں عازمین حج جاں بحق ہو گئے ان میں اکثریت ایرانیوں کی تھی۔ یہ عرب عجم کش مکش کی سینکڑوں برس کی داستان ہے۔ جو اس وقت یمن کی جنگ اور سعودی تیل کمپنی پر راکٹوں کے حملہ کے باعث انتہا پر پہنچ چکی ہے۔ ایسے میں وزیراعظم عمران خان کا دونوں ملکوں کا دورہ کسی حد تک کشیدگی کم کرا سکتا ہے مگر کوئی مستقل حل پیدا نہیں کر سکتا۔ عمران خان نے کہا ہے کہ میں ثالثی کے لئے نہیں، دونوں ملکوںمیں کشیدگی کم کرانے کے سہولت کار کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے بھی عمران خان کو ایران کے ساتھ ثالثی کے لئے کہا ہے جب کہ  ایران نے ترکی اور کردستان کی لڑائی میں ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ ترکی کی فوج نے شام سے ملنے والے کردستانی سرحدی علاقے میں کرد باغیوں پر حملہ کیا ہے۔ ان باغیوں کو درپردہ ایران کی حمائت حاصل ہے۔ ایران نے بیک وقت یمن، شام اور لبنان میں اپنا انقلاب برآمد کر رکھا ہے۔ اس کے باعث عرب ممالک کے ساتھ دشمنی بڑھ رہی ہے۔
٭الیکشن کمیشن کا باقاعدہ ضابطہ موجود ہے کہ کسی انتخابی حلقے میں انتخابات کے موقع پر کوئی حکومتی وزیر یا رکن اسمبلی انتخابی مہم کے دوران اس حلقے میں نہیں جائے گا وہاں سرکاری سطح پر کوئی ترقیاتی کام شروع نہیں ہو گا وغیرہ۔ اس ضابطہ کی خود وزیراعظم عمران خان نے خلاف ورزی کی۔ میانوالی میں ضمنی انتخاب کے موقع پر اس حلقے کا دورہ کیا اور تقریریں کیں۔الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کر دیا، پتہ نہیں وہ کہاں گیا؟ لاہور میں ضمنی انتخاب ہوا تو پیپلزپارٹی کے قائدین نے اس حلقے کی سرحد پر بیٹھ کر لائوڈ سپیکر کا رخ اس حلقے کی طرف کر کے طویل تقریریں کیں۔ اب بلاول زرداری نے اپنے امیدوار کی حمائت کے لئے کراچی سے لاڑکانہ کے ضمنی انتخاب کے حلقہ میں جانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر الیکشن کمیشن نے اسے ایسا نہ کرنے کا نوٹس بھیجا ہے تو بلاول نے اسے ٹھکرا دیا ہے اوور کہا ہے کہ مجھے کوئی وہاں جانے سے نہیں روک سکتا۔ پیپلزپارٹی کے پریس ریلیز میںبھی کہا گیا ہے کہ لاڑکانہ بلاول کا انتخابی حلقہ ہے۔ وہ ایم این اے کے طور پر اپنے حلقہ میں جانا چاہتے ہیں تو انہیں کیسے روکا جا سکتا ہے؟ مگر جب ملک کا وزیراعظم ہی ملک کے قانون کو توڑے گا تو دوسروںکو ایسا کرنے سے کون روک سکتا ہے! قانون کی ایسی بے حُرمتی!
٭مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ اور کرفیو کو72 دن ہو گئے ہیں۔ وہاں قید 80 لاکھ کشمیری باشندوںکی حالت زار پردنیا بھر میں احتجاج ہو رہا ہے مگر بھارتی حکومت پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی سابق پوزیشن بحال کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، مزید کہا ہے کہ وہاں امن تقریباً چار ماہ کے بعد قائم ہو گا۔اس دوران کرفیو جاری رہے گا۔
٭باہر تو جو کچھ ہو رہا ہے، ملک کے اندر حالات خطرناک رخ اختیار کر رہے ہیں۔ پختونخوا کے وزیراطلاعات شوکت یوسف زئی نے واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آزادی مارچ کو سختی سے نمٹا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ آزادی مارچ کو چھیڑا گیا تو دھمکیاں دینے والے گھروں میں بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے! اس سے قبل مولانا کے ساتھی اکرم درانی اعلان کر چکے ہیں کہ مخالفین کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جائے گا۔ ان بیانات کے کیا معنی نکلتے ہیں؟ یہی کہ کھلی خونریزی، توڑ پھوڑ، کھلی لڑائی، گھروں میں گھس کر قتل و غارت گری! پہلی بات تو یہ کہ کیا حکومت خاموشی سے تماشا دیکھے گی؟کیا فوج اور دوسرے محب ملک کی سا  لمیت کے خلاف ایسی جارحانہ کارروائیوں پر خاموش رہیں گے؟ فیس بک پر ایک تصویر بار بار آ رہی ہے کہ ایک جگہ سینکڑوں لاٹھیوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، چند افراد ان لاٹھیوں پر اپنے پرچم کا رنگ لگا رہے ہیں۔ یہ لاٹھیاں کہاں استعمال ہوں گی؟ ہر شہر میں لڑائی، خونریزی!۔ تقریباً 37 سال پہلے لاہور میں دو مختلف مذہبی مسالک کے لاٹھی بر دار رضا کاروں کے درمیان عالمگیری (شاہی) مسجد پر قبضہ کے سلسلے میںباقاعدہ محاذ آرائی ہوئی۔ مجھے مشرق اخبار میں بانسانوالہ بازار کے ایک سیٹھ کا پریس ریلیز آیا کہ ’’الحمدللہ ہم نے…کوچار ہزار ڈنڈوں کا عطیہ بھیج دیا ہے۔ اگلے روز دونوں فریقوں میں باقاعدہ لڑائی ہوئی، کچھ شدید زخمی ہسپتال پہنچ گئے۔ میرے سوال پرایک فریق کے قائد نے کہا کہ شاہ صاحب! مسلک کا کوئی مسئلہ نہیں، سرکاری گریڈوں کی ترقی پر ذاتی مسئلہ بنا ہوا تھا اسے مذہبی مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔