07:30 am
اولوالباب کی ایمانی کیفیت

اولوالباب کی ایمانی کیفیت

07:30 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
دوسر ی حدیث بخاری شریف کی ہے ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنھا،جو آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ تھیں ،کے گھررات گزاری ۔نبی اکرم ﷺ جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپﷺ نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا سے گفتگو کی پھر سوگئے اور پھر آخری تہائی رات باقی رہ گئی توآپ ﷺ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے یہ آیات تلاوت کیںپھر کھڑے ہوئے، مسواک کر کے وضو کیا اور  نماز تہجد پڑھی ۔حضر ت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کی آواز سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں ۔ پھر مسجد میں تشریف لاکر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی ۔‘‘
اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان آیات میں ایسی کیا خاص بات تھی : ’’یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے الٹ پھیر میں‘ہوش مند لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ 
 جب کوئی انسان کائنات کی نشانیوں پر اندر غور کرتا ہے تو وہ اپنے رب کی معرفت کے قریب ہو جاتا ہے۔قرآن مجید سے ایک راہنمائی اور بھی ملتی ہے کہ انسان کا مزاج اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ وہ چالیس سال کے قریب جب پہنچتا ہے تووہ غور کرنے پر مجبور ہوتاہے ، کہ میں ہوں کون؟ یہ کیا سلسلہ ہے ؟یہ موت وحیات کیا ہے؟ مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ ظاہر ہے ہر شخص کو یہ پتا ہے کہ مرنا تو ہے ۔  اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر خیر وشر کا شعور بھی رکھا ہے۔ یونیورسل moral lawsاندر موجود ہیں اور اندر اللہ کی معرفت بھی ہے ۔لہٰذ اجو سلیم الفطرت لوگ ہوتے ہیں وہ غوروفکر کے نتیجے میں اللہ تک پہنچ جاتے ہیں ۔
 ’’جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں‘ کھڑے بھی‘ بیٹھے بھی اور اپنے پہلوئوں پر بھی‘ اور مزید غور و فکر کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں۔‘‘ 
ہمارے لیے تو اللہ تعالیٰ نے پنج وقتہ نما ز کا نظام دے دیا ہے کہ ایک رب ہے اس کے سامنے حاضر ہو جائو، پھر اپنے ایمانیات کو تازہ کرو۔اصل میں یہ نماز تحفہ ہے۔انسان دنیا کے مشاغل کے اندر گم ہوجاتا ہے اورآخرت کاخیال اورجو اصل حقائق ہیں وہ نظر وں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ۔پھر دوبارہ یاد کرانے کے لیے یہ تحفہ اللہ نے عطا فرمایا ۔ لیکن جن لوگوں کو یہ تحفہ نصیب نہیں ہوا ، انہیں کسی پیغمبر کی دعوت  نہیں پہنچی وہ بھی جب کائنات میں غور وفکر کرتے ہیں تو بالآخر اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ اس کا ئنات کا نظام خود بخود نہیں چل رہا بلکہ کوئی ہے جو اس کو چلا رہا ہے ، کر رہا ہے ۔ سورج ، زمین ، چاند، ستارے اپنے وقت پر چل رہے ہیں۔یہ کائنات اتنی منظم ہے اور اتنی وسیع ہے ۔ ضرور کوئی قوت ایسی ہے جو اس کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے ورنہ اس کا نظام درہم برہم ہو جائے ۔ انسان اس غوروفکر کے نتیجے میںکہتا ہے کہ ’’اے ہمارے ربّ! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد توپیدا نہیں کیاہے۔‘‘ 
اس غوروفکر کے نتیجے میں ایک تو اللہ تک پہنچ جاتا ہے اور پھر اس نتیجے پر بھی پہنچ جاتا ہے کہ یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا ۔انسان کو پیدا کیا ہے تو اس کا ایک مقصد ہے اور وہ جو کچھ کر رہا ہے اس کا ایک دن محاسبہ ہونے والا ہے ۔یہ جودنیا کے اندر ظلم ہے ، جو غریب آدمی ہے اس کا کوئی پرسان حال نہیںہے اورجس کے پاس پاور  ہے وہ اس کا غلط استعمال کرتا ہے،لوگوں کے حقوق غصب کرتا ہے ۔ایک طبقہ سارے وسائل پر قابض ہے اور دوسرے وہ ہیں جن کو دووقت کی روٹی میسر نہیں ہے ۔یہ کیا نظام ہے ؟چنانچہ جب بندہ غور کرتا ہے تو اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ کوئی امتحان ہے جس کا بالآخر نتیجہ نکلناہے ۔ ہر ایک کے اعمال کا حساب ہونا ہے ۔ظالموں کو ان کے کیے کی سزا ملے گی اور مظلوموں کے ساتھ انصاف ہو گا ۔کچھ ایسے بھی ہیں جو دنیا میں رہتے ہوئے بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن اس دن کے خوف سے باز رہے ، ان کو بھی تو کچھ ایوارڈ ملے گا ضرور۔اس احساس کے ساتھ ہی پھر دل میں اس دن کا خوف بھی پیدا ہوگا اور بندہ رب سے دعا کرے گا کہ  ’’تو پاک ہے (اس سے کہ کوئی عبث کام کرے)‘ پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا!‘‘ 
یہ ایمان باللہ سے ایمان بالآخرت تک عقلی سفر ہے اور ایسے لوگ جو یہاں تک اپنا سفر طے کرچکے ہوں ان تک جب نبی کی آواز پہنچتی ہے تو وہ لپک کر قبول کرلیتے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس سارے پراسس سے گزر چکے تھے ۔جب  اللہ کے رسول ﷺ نے دعوت دی تو ایک لحظہ کا بھی توقف نہیں کیافورا ًایمان لے آئے۔اسی طریقے سے عرب معاشرے میں ہی حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ ،جو عشرہ مبشرہ کے صحابہ میں سے ہیں،ان کے والد زید کا اگر چہ آغاز وحی سے پہلے انتقال ہو گیا،لیکن ان کے بارے میں یہ بات بہت معروف تھی کہ وہ موحد تھے۔ انہوں نے کبھی کسی بت کے آگے سجدہ نہیں کیا،بلکہ بیت اللہ کے پردے پکڑ پکڑ کراللہ سے دعائیں کرتے تھے کہ پروردگار میں صرف تجھے پوجنا چاہتا ہوں مجھے نہیں معلوم کہ کیسے پوجوں ۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں