07:31 am
               جرم ثابت ہے!

               جرم ثابت ہے!

07:31 am

یہ مان لیا کہ وزیر اعظم عمران خان ملک کو کرپشن سے پاک کرنا چاہتے ہیں ،یقینا اس ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بدعنوانی ،رشوت ستانی،اقربا پروری اور دولت کا چند ہاتھوں تک محدود ہونا ہے ،لا قانونیت،ناانصافی،معاشرتی بے راہ روی ،ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت کا ارتکازاداروں کے افراد تو کیا پورے پورے ادارے تک خرید لینے کی رسم یہاں موجود ہے،اور ان سب باتوں سے خاص وعام سبھی آگاہ ہیں ،ملکی خزانے پر شب خون مارنے کا عمل رواں ہے ،عدالتیں بکتی صاف نظر آتی ہیں ،ججز کی ہوسِ زر سے کوئی نا آشنا نہیں۔
 
جب یہ سب کچھ ،سب پر عیاں ہے ،تو عمران خان کی آنکھوں کے سامنے ایسا کون سا آہنی پردہ ہے جو انہیں اپنے اردگرد دیکھنے نہیں دیتا،وہ تو اپنے پہلوئوں میں بیٹھے ،اپنے آس پاس گھومتے ان کرداروں تک کو نہیں دیکھ سکتے جو ان کی ناکامیوں اور نا مرادیوں کے جال بُن رہے ہیں،عمران خان جزاو سزا کے بس خوابوں ہی میں غلطاں ہیں ،ان خوبوں کی تعبیر کے راستے میں کانٹے بچھانے والوں پر ایک عام آدمی بھی آنکھیں بند کرکے انگلی رکھ سکتا ،مگر عمران خان کے وہم و گمان سے بھی یہ اوجھل لگتے ہیں۔
کون ہیں جو انہیں مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کی راہ میں حائل ہیں ؟ لگتا ہے کوئی اور نہیں یہ خود ہیں ،ان کے اندر ایک  خوف بکل مارے بیٹھا ہے ،یہ کہ انہوں نے کسی اپنے کی کمزور رگ پر ہاتھ رکھا تو وہ ان کی ساری کمزوریوں کو طشت از بام  کر دے گا،وہ سارے جو حمام میں ننگے ہیں ،وہ عمران خان کے لباس  کے سب داغوں کو بھی خوب سے جانتے ہیں ،وہ  خبر رکھتے ہیں کہ وزیر اعظم کی ناک تلے کون کیا کر رہا ہے۔
ایوان اقتدار کی غلام گردشوں میں جو ڈرامے ہورہے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں ،سب ڈنکے کی چوٹ پر اپنا کردار پورے انہماک اور بے دردی سے ادا کر رہے ہیں،کسی کو کوئی ڈر نہیں ،ان کے راہ بدلنے کی کہانیاں بھی ڈھکی چھپی نہیں ، وہ جو ارمان لے کر عمران خان کے قافلے میں شامل ہوئے تھے ،ان سب ارمانوں ہی کو پورا کرنے کی سعیء پیہم میں مبتلا ہیں ، سب کے سامنے سب کچھ ہو رہا ہے ،مگر محسوس وزیر اعظم تک نہیں کررہے۔
یہ کیسے اور کیوں کر ہو سکتا ہے ؟ کیا ان کا اپنی ہی آنکھوں پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے؟ اگر یہ حادثہ جاں پر گزر گیا ہے تو چپکے سے خلعت شاہی اتار دینی چاہئے۔ حاکم وہ ہوتا ہے جس کے وجود پر محکوموں کے دکھ دستکیں دیتے رہتے ہوں ،اس کو رعایا کے دکھ جاننے کے لئے کسی روحانی  پیشوائی کی ضرورت نہ ہو،یہ قصے کہانیوں کا دور نہیں ،حقائق پر گہری نظر رکھنے کا زمانہ ہے ،کب تک کوئی پندو نصائح کے  رجسٹر تیار کرکے حضورِ شاہ میں پیش کرتا ہے۔عام لوگوں کے دیکھنے کو دو آنکھیں ہوتی ہیں ،مگر حاکم کی تین،ایک وجدان کی آنکھ ،چین کے نقشوں کو مقصود بنانا ہے تو چینی اقوال بڑی تعداد میں اردو زبان میں مل جاتے ہیں ،جن میں دانش کے بے پناہ موتی بکھرے ہوئے ملتے ہیں ،اس  بارے حدیث کا مفہوم بھی ہے کہ ’’ اچھی بات جہاں سے ملے لے لو یہ مسلمان کی گم شدہ میراث ہے‘‘ یہ بتانا لکھنے والوں پر ہی واجب و مستحب نہیں ، آپکی اپنی ذہنی اُپج پر بھی واجب ہے ،اپنے اندر جھانکیں ،اپنے ارد گرد توجہ فرمائیں،وزیر اعظم! سارے سانپ آپ ہی کے دودھ پر پل رہے ہیں ۔ کون سا وزیر ،مشیر اور صاحبِ اختیار ہے جو اپنے اختیارات کا بے جا استعمال نہیں کر رہا۔آپ حمام کے باہر کھڑے آوازے لگا رہے ہیں اور حمام کے اندر موجود ننگے تن  قہقہے لگا رہے ہیں ،آپ کی بے بسی اور لاچاری پر ،یہ بے بسی اور لاچاری نہیں تو کیا ہے ،چور گھر کے اندر ہیں اور چور چور کی صدائیں باہر لگائی جارہی ہیں ۔
یہ بجا کہ نظام کے بدلنے کے لئے تیرہ مہینے کافی نہیں ،مگر نظام بدلنے سے پہلے نظام چلانے والوں کے مزاج بدلنے پڑتے ہیں ،آپ نے نعرے تو نظام بدلنے کے لگائے مگر اس کام کے لئے جو لوگ چنے وہ سارے پیش پا افتادہ ،آزمائے اور بار بار کھنگالے ہوئے ہیں ،عام کی بددعائوں سے بھرے دامنوں والے ،وہ عوام کے زخم کیا سیئیں گے جن کے اپنے دامن بدعنوانیوں سے تار تار ہیں۔وقت اپنی بساط لپیٹتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ، حالات کے تیور بھی بدلتے محسوس ہورہے ہیں ، تاہم ابھی بھی تیرہ ماہ کی کارکردگی کے نوحے سنانے کی بجائے،اگلے تیرہ ماہ کی امید’’وہ‘‘ اگر بندھا دیں تو عملی اقدام کے لئے پر عزم ہوجائیں ، اپنی آستینوں میں چھپے سانپوں کی سر کوبی کا سودہ اپنے اندر سما لیں ،وہ جن سے تیرہ ماہ آپ نے چشم پوشی برتی،ان کی بے اعتدالیوں پر پردے ڈالے رکھے،ان ہی کو عبرت نگاہ بنا دیں ،ان کی معافی تلافی کے سارے در بند کر دیں ۔
کیا ان کے جرم کا یہی ثبوت کافی نہیں کہ انہوں  نے قومی خزانے سے فقط اجرتیں ہی نہیں ، بے پناہ مراعات بھی لیں ۔ ان کی مراعات کے بوجھ ہی نے بجلی،گیس،آٹا،چینی اور گھی مہنگا کرنے پر آپ کو مجبور کیا ،انہوں نے میرٹ کی دھجیاں بکھیریں ،جس کی وجہ سے نالائق لوگوں کی فوج ظفر موج اداروں کا حصہ بنی ،لائق اور ہونہار نوجوان ڈگریاں بغل میں دبائے مارے مارے پھرتے ہیں ،اور کیا ثبوت چاہئے ان کے خلاف کیا یہی جرائم کافی نہیں ؟
ان ہی سے آپ کی جیلیں بھر جائیں گی ، یہ پولیس میں ہوں ،ترقیاتی اداروں میں،عدلیہ میں ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں ، ایف بی آر میں ہوں ، اسمبلیوں میں ہوں ،آپ کے حلقہ ارادت میں ہوں یا میدان صحافت میں،سب کا جرم ثابت ہے۔