07:32 am
گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا

گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا

07:32 am

حضرت سیدنا داتا علی ہجویری علیہ رحمۃ اللہ القوی کی ولادتِ باسعادت کم و بیش 400ھ میں افغانستان کے شہر غزنی میں ہوئی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خاندان نے غزنی کے دو محلوں جلاب و ہجویر میں رہائش اختیار فرمائی اسی لئے آپ ہجویری جلابی کہلاتے ہیں۔
سلسلہ نسب: آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت ابوالحسن، نام علی اور لقب داتا گنج بخش ہے۔ ماہر اَنساب پیر غلام دستگیر نامی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا شجرۂ نسب اس طرح بیان فرمایا ہے: ’’حضرت مخدوم علی بن سید عثمان بن سید عبدالرحمن بن سید عبداللہ (شجاع شاہ) بن سید ابوالحسن علی بن سید حسن بن سید زید بن حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم۔
 
متقی گھرانہ: انسان کو نیک اور متقی بنانے میں سب سے زیادہ موثر گھر کا ماحول ہوتا ہے کیونکہ گھر ہی وہ کارخانہ ہے جہاں نیکی، زہد و تقویٰ اور علم و عمل کے اوزار سے ایک معیاری انسان تیار ہوتا ہے اور گھریلو تربیت ہی اخلاق و کردار کو اعلیٰ بنانے میں سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والد حضرت سیدنا عثمان رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے جید عالم اور عابد و زاہد تھے۔ شاہانِ غزنیہ کے زمانے میں دُنیا کے کونے کونے سے علماء و فضلاء، شعراء اور صوفیاء غزنی میں جمع ہو گئے تھے جس کی وجہ سے غزنی علوم و فنون کا مرکز بن چکا تھا، حضرت سیدنا عثمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی یہاں ر ہائش اختیار فرمائی۔ آپ کی والدہ ماجدہ حسینی سادات سے تھیں، عابدہ و زاہدہ خاتون تھیں، اسی لئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حسنی جمال اور حسینی کمال دونوں ہی کے جامع تھے۔ حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ماموں کو زہد و تقویٰ کی بناء پر تاج الاولیاء کے لقب سے شہرت حاصل تھی، غرضیکہ آپ کا خاندان شرافت و صداقت اور علم و فضل کی وجہ سے مشہور تھا۔ 
شوقِ علم: حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے جس پاکیزہ فطرت ماں کی آغوش میں پرورش پائی، اُن کی زبان ذکر الٰہی میں مصروف اور دل جلوۂ حق سے سرشار رہتا تھا اسی لئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابتدائے عمر ہی سے بڑی محتاط اور پاکیزہ زندگی گزاری۔ آپ کو بچپن ہی سے عبادت کا شوق تھا، نیک والدین کی تربیت نے آپ کے اخلاق کو شروع ہی سے پاکیزگی کے ڈھانچے میں ڈھال دیا تھا۔ ہوش سنبھالتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو تعلیم کیلئے مکتب میں بٹھا دیا گیا۔ حروف شناسی کے بعد آپ نے قرآنِ پاک مکمل پڑھ لیا۔ 
حصولِ علم دین کیلئے سفر: پیاس پانی سے بجھ جاتی ہے لیکن علم کا پیاسا کبھی سیراب نہیں ہوتا کیونکہ یہ پیاس چشمہ علم سے فیضیاب ہو کر بڑھتی ہی چلی جاتی ہے، حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آج کل جیسی سہولیات میسر نہ ہونے کے باوجود کئی آزمائشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی علمی پیاس بجھانے کیلئے جلیل القدر ہستیوں کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان سے نہ صرف بھرپور استفادہ کیا بلکہ باطنی تربیت بھی حاصل فرمائی۔ آپ نے جتنے بھی ممالک کا سفر فرمایا، اس کا مقصد علماء و مشائخ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اکتسابِ فیض کرنا اور اپنی علمی پیاس بجھانا تھا۔ اس مقصد کیلئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے صرف خراسان کے تین سو مشائخ کی خدمت میں حاضری دی اور ان کے علم و حکمت کے پربہار گلستانوں سے گل چینی کر کے اپنا دامن بھرتے رہے۔ 
سلسلہ طریقت: بزرگانِ دین کا معمول رہا ہے کہ دُنیا و آخرت میں کامیابی کیلئے کسی مرشد کامل سے شرفِ بیعت ضرور حاصل فرمایا کرتے یوں ظاہر کی تعمیر کیساتھ باطن کی ترقی کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا۔ حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ خواجہ ابوالفضل محمدبن حسن ختلی جنیدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مرید تھے۔ آپ کا شجرۂ طریقت 9واسطوں سے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ علیہ تک پہنچتا ہے۔ 
سیروسیاحت: اللہ والوں کی زیارت اور مزاراتِ اولیاء سے استفادہ کی غرض سے سفر کی صعوبتیں برداشت کرنا ایسا مجاہدہ ہے جو مشاہدے کی دولت سے نوازتا ہے۔ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ مجاہدہ بھی حد کمال کو پہنچا دیا، تقریباً تمام عالم اسلام کی سیاحت اور وقت کے اعاظم مشائخ و صوفیہ سے اکتسابِ فیض کیا۔ آپ نے شام، عراق، بغداد، آذربائیجان، طبرستان، کرمان، خراسان، ماوراء النہر اور ترکستان وغیرہ کا سفر فرما کر بزرگوں سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔
شب و روز کے معمولات: حضرت سیدنا داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دن میں تدریس فرماتے اور رات میں حق کے متلاشی افراد کو تلقین فرماتے جس کی بدولت ہزاروں بے علم فیضانِ علم سے سیراب ہو کر عالم اور ہزاروں کفار مسلمان ہوئے، ہزاروں گمراہ راہِ راست پر آئے، ہزاروں دیوانے دولت عقل اور دانشوری سے سرفراز ہوئے، ہزاروں ناقص کامل ہوئے، دُور دُور سے علماء و مشائخ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں آ کر اپنے من کی مراد پاتے۔
آپ کی تصانیف: اللہ عزوجل نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو علومِ ظاہری اور باطنی سے نوازا تھا اور دین اسلام کے بہت سے اسرار و رموز کا علم بھی عطا فرمایا تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حصولِ علم کیلئے جو سفر اختیار فرمائے ان سے آپ کو کثیر مشاہدات حاصل ہوئے۔ آپ نے مخلوقِ خدا کی خیرخواہی کیلئے کئی گرانقدر کتب تصنیف فرمائیں جن کے نام یے ہیں: منہاج الدین، دیوان، اسرار الخرق والمؤنات، کتاب البیان لاہل العیان، بحرالقلوب، الرعایۃ بحقوق اللہ، کتاب فنا و بقاء، شرح کلامِ منصور مگر افسوس! فی زمانہ آپ کی کتابوں میں سے صرف کشف المحجوب ہی بآسانی دستیاب ہے۔ آپ نے عربی اشعار پر مشتمل ایک مکمل دیوان مرتتب فرمایا تھا جسے ایک شخص نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مانگ کر لے لیا اور اس کو اپنے نام سے منسوب کر لیا، ولی کامل کی ایسی دل آزاری کے سبب وہ بے ایمان ہو کر مرا، چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے برے خاتمے کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: وہ شخص جو میرا دیوان لے گیا تھا بے ایمان دُنیا سے گیا۔
آپ کا وصالِ پرملال اکثر تذکرہ نگاروں کے نزدیک 20صفر المظفر 465ھ کو ہوا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزارِ منبع انوار و تجلیات مرکز الاولیاء لاہور میں بھاٹی دروازے کے بیرونی حصے میں ہے، اسی مناسبت سے لاہور کو مرکز الاولیاء اور داتانگر بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کے فیضان کا اندازہ اس بات سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ سلطان الہند حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز معین الدین سید حسن چشتی سنجری اجمیری علیہ رحمۃ اللہ القوی بھی ایک عرصے تک آپ کے دربار میں مقیم رہے اور منبع فیض سے گوہر مراد حاصل کرتے رہے، پھر جب رخصت ہونے لگے تو اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں فرمایا
گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما