07:34 am
ایران‘ سعودی ثالثی یا سہولت کاری مشن

ایران‘ سعودی ثالثی یا سہولت کاری مشن

07:34 am

وزیراعظم عمران خان آج کل ایران‘ سعودی عرب ثالثی مشن پر گامزن ہیں‘ وہ پہلے ایران گئے‘ جہاں انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی سمیت دیگر ایرانی قائدین سے ملاقاتیں کیں۔
 
صدر روحانی نے عمران خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان اور ایران کو پڑوسی دوست ممالک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران مل کر خطے کے استحکام کے لئے کام کر سکتے ہیں۔ یقینا یہ بات درست ہے کہ اگر ایران اور پاکستان دل سے ایک دوسرے کی دوستی تسلیم کرتے ہوئے خطے کے امن کے لئے کردار ادا کریں تو ’’کیا نریندر مودی اور کیا اس کی بڑھکیں‘‘؟ یعنی ’’کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ‘‘ لیکن ایک طالب علم کی حیثیت سے وزیراعظم عمران خان اور صدر حسن روحانی سے میرا سوال ہے کہ آخر غلطی کہاں موجود ہے کہ ایران اور پاکستان پڑوسی ملک ہونے کے باوجود سرد مہری کا شکار بنے رہے‘ سرحدیں ملنے کے باوجود ایرانی پاسداران انقلاب کے جنرل باقری کو پاکستان کو دھمکیاں دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو یہ کیوں کہنا پڑا کہ ہمارے 20سیکورٹی اہلکاروں کو شہید کرنے والے ایران چلے گئے؟
دونوں طرف کے عوام کو بتایا جائے کہ آخر ان کا قصور کیا ہے؟  انہیں ایک دوسرے سے دور کرنے کے لئے سازشیں کیوں کی جاتی ہیں؟ ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ خاکسار اپنے وزیراعظم کے ساتھ ساتھ ایران کے صدر حسن روحانی کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کو  اپنی اپنی سرحدات کے اندر اپنا مشن اور اپنی آئیڈیالوجی کو محدود رکھنے کی ضرورت ہے‘ نظریہ پاکستان کو ایران پر مسلط کرنے کی کوشش کرنا غلط ہے‘ اسی طرح ایرانی انقلاب کو پاکستان میں لانچ کرنے کی کوئی بھی کوشش درست نہیں  ’’دوستی‘‘ کا مطلب سیاست یا فقہ کے نام پر ایک دوسرے کے ممالک میں مداخلت کرنا نہیں ہے بلکہ ’’دوستی‘‘ کا حق تو یہ ہے کہ اگر ہنوو و یہود اور نصاریٰ ایران پر حملہ آور ہونے کی کوشش کریں تو پاکستان ان کی دامے‘ درمے‘ سخنے مدد پر کمربستہ ہو جائے اور اگر ہنود و یہود اور نصاریٰ کا ہدف پاکستان ہے تو ایران‘ پاکستان کی مدد کے لئے سینہ سپر ہو جائے‘ رہ گئے ایران‘ سعودی اختلافات کی تو یہ کوئی نئے نہیں ہیں بلکہ اس کی تاریخ تقریباً چودہ سو سال پرانی ہے‘ عدل و انصاف کے شہنشاہ خلیفہ دوئم حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں ایران فتح ہوا تھا‘ پھر سیدنا فاروق اعظمؓ پر حملہ کرکے انہیں شہید کرنے ولا موذی ابوفیروزلولو بھی ایرانی مجوسی تھا۔
تب سے لے کر یمن کی جنگ تک خون کی ندیاں بہتی رہیں‘ لاشوں کے انبار لگتے رہے اور نفرتیں پروان چڑھتی رہیں‘ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ  وزیراعظم عمران خان یا دنیا کا کوئی دوسرا حکمران ان اختلافات کو ختم کرسکے گا؟ اس کا جواب نفی میں ہے‘ ایران ہو یا سعودی عرب دونوں طرف کے حکمرانوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’’جنگ‘‘ مسائل کا حل نہیں بلکہ لامتناہی مسائل کی پیدائش کا سبب بنتی ہے‘ آج سعودی عرب ترقی کی جس  معراج کو چھو رہا ہے۔ خدانخواستہ اگر اس کی کل کلاں کو ایران سے جنگ شروع ہوتی ہے تو کیا یہ ’’ترقی‘‘ بربادی کی کھائیوں میں نہیں جا گرے گی؟ یا جو امریکہ اپنے ہزاروں فوجی سعودی عرب کی حفاظت کے نام پر وقف کر چکا ہے کیا وہ یہ سب کچھ سعودی عرب کی محبت میں مفت کر رہا ہے؟
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب پر لگنے والے قدامت پسندی کے الزامات کو دھونے کے لئے پچھلے کچھ عرصہ سے جو اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس پر اسلام پسند حلقوں میں بحث جاری ہے۔ مثلاً سعودی عرب میں مغرب کی طرز پر عورتوں کو آزادی‘ نائٹ کلب‘ ڈانس کلب وغیرہ وغیرہ‘ اس خاکسار نے اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا‘ لیکن ان اور ان جیسے دیگر  کئی سیکولر اقدامات کے حوالے سے خبریں ضرور پڑھیں‘ ان خبروں کی بنیاد پر ہی میرا یہ تاثر ہے کہ سعودی عرب‘ ایران سے جنگ کی طرف کبھی نہیں جائے گا‘ جنگ نہ کرنے کے حوالے سے دونوں طرف یعنی ایران اور سعودی عرب کے حکومتی حلقوں میں یکساں رحجان موجود ہے‘ جوکہ ایک مثبت اور خوشگو ار ’’رحجان‘‘ ہے۔
جس طرح ایران کو پاکستان اور پاکستان کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے‘ بالکل اسی طرح سعودی عرب کو ایران اور ایران کو سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں بھی کسی قسم کی مداخلت سے مکمل گریز کرنا چاہیے۔
مقامات مقدسہ کی وجہ سے سعودی عرب دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں سب سے ممتاز مقام رکھتا ہے‘ حرمین  شریفین سے میرے سمیت ہر مسلمان کی غیر مشروط محبت ہے اور تاقیامت رہے گی‘ یہ سوچ گمراہی پر مبنی ہے کہ ریاض‘ جدہ یا دمام پر ہونے والے حملوں سے حرمین شریفین متاثر نہیں ہوتے‘ اس سوچ کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے‘ وزیراعظم عمران خان دورہ ایران کے بعد ثالثی مشن کو لے کر سعودی عرب پہنچ چکے ہیں‘ میری دعا ہے کہ ان کا ’’ثالثی کا  کاسہ‘‘ ’’خیر‘‘ سے لبالب ہو جائے‘ اور ان کا یہ ’’ثالثی‘‘ مشن جس کو وہ ’’سہولت کاری‘‘ بتاتے ہیں نواز شریف کے ثالثی مشن کی طرح ناکام  نہ ہو۔
میاں نواز شریف بھی سال  2016ء میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ہمراہ پہلے سعودی عرب اور پھر ایران کے دورے پر پہنچے تھے۔ اس وقت بھی میڈیا میں شور یہی تھا کہ ایران اور سعودی عرب میں مصالحت ہو جائیگی مگر پھر یہ سارا مشن نشتند‘ گفتن‘ برخاستند تک ہی محدود رہا‘ اگر اس مرتبہ ثالثی یا سہولت کاری مشن کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے تو یہ مسلم امہ کے لئے خوش کن خبر ہوگی۔