07:35 am
ایک تھی مسلم لیگ

ایک تھی مسلم لیگ

07:35 am

٭ن لیگ نے مکمل طور پرخود کو آزادی مارچ والے مولانا فضل الرحمان کی کفالت میںدے دیا۔ ’’سپردم بتو ما یہ خویش را، تُودانی حساب کم و بیش را‘‘ یوں پاکستان بنانے والی مسلم لیگ کے نام پر زندہ ایک گروہ نے تحریک پاکستان کی روایات سے وابستگی ختم کر کے خود کو ان روایات سے وابستہ کر لیا جن کے بارے میں پاکستان کے قیام کی مخالفت کا لیبل لگا آیا ہے۔ ن لیگ کی تو ویسے ہی حیثیت اس دن سے ہی متنازع چلی آ رہی ہے جب 1986ء میں وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اسلام آباد میں ملک بھر سے مسلم لیگ کے تقریباً ڈھائی پونے تین سوا ہم عہدیداروں کا کنونشن منعقد کیا۔ جنرل ضیاء الحق محمد خان جونیجو کو نکالنا چاہتا تھا۔ اس کے اشارے پر میاں نوازشریف صرف 27 ارکان کے ساتھ بغاوت کرکے کنونشن سے نکل آئے اور پھر جنرل ضیاء الحق کے احکام کے تحت بھاری اکثریت والی جونیجو کی مسلم لیگ کے پاس چند ارکان رہ گئے اور باقی بھاگتے ہوئے ن لیگ کے قدموں میں جا بیٹھے! یہاں سے مسلم لیگ کا زوال شروع ہوا۔ اب تک اس کے گیارہ ٹکڑے ہو چکے ہیں اِن کی تفصیل چند روز پہلے دے چکاہوں۔ موجودہ ن لیگ اس وقت چار حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ الیکشن کمیشن میں شہبازشریف کا نام بطور صدر درج ہے مگر ساری قیادت عملی طور پرنوازشریف مریم نواز، کیپٹن صفدر اور اب حسین نواز کے ہاتھوں میں ہے۔ شہباز شریف کے پاس اب صرف ڈاکیہ کا کام باقی رہ گیا ہے۔ اس لیگ کو جس طرح ’’آزادی مارچ‘’ میں جے یو آئی کے ماتحت کر دیا گیا ہے اس پر شہباز شریف کے پاس صرف ایک راستہ رہ گیا ہے کہ کمر درد کے نام پر طویل قیام کے لئے لندن چلے جائیں۔ وہاں ان کی کافی جائیداد بھی ہے اور پھر پرانے وقتوںکا ساتھی اسحاق ڈار بھی موجود ہے۔ قارئین کرام! آزادی مارچ وغیرہ کے بارے میں آج صرف اتنی باتیں۔ میں اس ذکر سے تنگ آ گیا ہوں۔ آج کچھ مختلف مگر اہم باتیں ہوں گی۔
 
٭جناب آصف جیلانی بہت محترم باعلم شخصیت ہیں۔ طویل عرصہ حکومتی انتظامی معاملات سے وابستہ رہے۔ ان کے پاس بہت سی اہم یادداشتیں ہیں جنہیں وہ کبھی کبھی رقم کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز روزنامہ اوصاف میں بہت معلوماتی کالم لکھا ہے میں اس بارے میں بڑے احترام کے ساتھ کچھ گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ جناب جیلانی صاحب نے لکھا ہے کہ چار جرنیلوں نے ایوان صدر کراچی میں مارشل لا لگانے والے صدر سکندر مرزا سے استعفا لیا تھا۔ مختلف تاریخی تحریروں کے حوالے سے میری معلومات یہ ہیں کہ جنرل ایوب خان کے دبائو پر سکندر مرزا نے ملک میں مارشل لا لگا کر آئین کو منسوخ کر دیا تھا۔ جیسا جیلانی صاحب نے لکھا ہے کہ سکندر مرزا کا صدرکا عہدہ بھی ساتھ ہی منسوخ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایوان صدر میں ان کا رہنا غیر اصولی بات تھی۔ وہ سازشی انسان تھے۔ جنرل ایوب خان نے آزادانہ کام کرنے کے لئے انہیں فارغ کرنا ضروری سمجھا۔ اس نے دو جرنیلوں بختیار رانا، اور اعظم خان کو ایوان صدر سے سکندر مرزا کو نکالنے بھیجا (محترم جیلانی صاحب نے چار جرنیلوں کی بات لکھی ہے)۔ دونوں جرنیل رات گئے ایوان صدر گئے۔ ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ جنرل ایوب خان نے ایوان صدر کے مین گیٹ پر اپنے بیٹے کیپٹن گوہرایوب کو سکیورٹی انچارج مقرر کیا ہوا تھا۔ ان دونوں جرنیلوں نے گوہر ایوب سے اس کا پستول لیا اور اندر جا کر صدرکی رہائش گاہ کو اوپر جانے والی سیڑھیوں کے نیچے گھنٹی بجائی۔ سکندر مرزا شب خوابی کے لباس میں نیچے آیا۔ ان جرنیلوں کو دیکھ کر ساری بات سمجھ گیا۔ پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے، جنرل بختیار رانا نے ایک کاغذ دیا کہ یہ آپ کا استعفا ہے، اس پر دستخط کر دیں۔ سکندر مرزا نے بے بسی کے عالم میں دستخط کر دیئے اورپوچھا کہ کیا مجھے اب گرفتار کیا جائے گا۔ جنرل بختیار نے کہا کہ نہیں، گرفتار نہیں کیا جائے گا، آپ فوری طور پر ابھی ایوان صدر کو چھوڑ دیں گے، کوئی سامان ساتھ نہیں جائے گا، آپ کو پاکستان سے باہر بھیجا جا رہا ہے۔ لندن میں آپ کی رہائش کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ ہم یہاں انتظار کر رہے ہیں۔ سکندر مرزا اوپر گیا۔ سیڑھیوں کے آخر میں بیگم ناہید سکندر مرزا کھڑی تھی۔ اس نے پوچھا کیا بات ہے؟ سکندر مرزا نے کہا میں نے استعفا دے دیا ہے۔ ناہید سکندر مرزا زور سے چیخی! یہ تم نے کیا کیا! اس پر نیچے ایک زوردار تھپڑ کی آواز آئی اور ناہید خاموش ہو گئی۔ ان دونوں میاں بیوی کو کوئی سامان لینے کی اجازت نہ دی گئی۔ ایک گرم اوور کوٹ اور چند کپڑوں کے ساتھ پہلے کوئٹہ اور پھر لندن پہنچا دیا گیا۔ یہ باتیں خود گوہر ایوب صاحب سے زائد ایوان صدر میں اے پی پی کے خصوصی نمائندہ سید شبیر شاہ سے سنی ہیں۔ کتابوں میں موجود ہیں۔
ایک بات اور، جناب جیلانی صاحب نے لکھا ہے کہ سکندر مرزا نے ایوب خان کو وزیراعظم کا عہدہ پیش کیا جسے ایوب خان نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ایسا نہیں ہوا۔ ایوب خان سیاسی معاملات نمٹانے کے لئے وزیراعظم بن گئے۔ سرکاری ریکارڈ میں پاکستان کے وزرائے اعظم کی فہرست میں جنرل ایوب خان کا نام بھی شامل ہے۔ البتہ یہ عہدہ صرف 19 روز قائم رہا۔ 28 اکتوبر کو ایوب خان نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا اور یہ عہدہ ختم ہو گیا۔ جناب جیلانی صاحب نے فرمایا ہے کہ ایوب خان نے اپنے دور میں پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے وزیراعظم چودھری محمد علی نے 1956ء میں پاکستان کا پہلا آئین تیار کیا۔ اس میں ملک کو دو وحدتوں مغربی اور مشرقی پاکستان میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ یہ وحدتیں ایوب خان نے گیارہ سالہ اقتدار کے دوران قائم رکھیں۔ مشرقی پاکستان تو پہلے ہی ایک صوبہ تھا۔ مغربی پاکستان کے چار صوبوں کو ملا کر ایک صوبہ بنا دیا گیا تھا۔ اس وحدت کو جنرل یحییٰ خان نے مارشل کے ذریعے ختم کر کے چاروں صوبے بحال کر دیئے تھے۔ محترم جیلانی صاحب سے ایک بار پھر معذرت!
٭ایک خبر: ابوظہبی کے باشندے ہزاع المنصوری کو زمین سے سینکڑوں کلو میٹر دور خلائی جہاز میں چار روز رہنے کا اتفاق ہوا۔ اس نے خلا سے خانہ کعبہ کی بے حد خوبصورت تصویریں اتار کر نیچے بھیجیں۔ ہزاع خلا سے واپس آیا تو ابوظہبی کے ہوائی اڈے پر اس کا شاہانہ استقبال کیا گیا۔ عرب امارات کے ولی عہد  نے خود استقبال کیا۔ ہزاع نے گھر پہنچتے ہی والدہ کی قدم بوسی کی۔ دنیا کی ہر طرح ماں کی طرح ہزاع کی ماں نے بھی اسے لپٹایا اور بحفاظت واپس آنے پر مسرت کا اظہار کیا۔ ماں نے بتایا کہ ہزاع جتنے دن خلا میں رہا، وہ نہیں سوئی، مسلسل جاگتی اور بیٹے کی بحفاظت واپسی کی دعائیں مانگتی رہی۔ قارئین محترم! ماں کیا چیز ہے۔ اس کی عظمت کیا ہے! اس کے بیان کے لئے دنیا بھر کی تمام زبانوں کے تمام الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ ماں کے بارے میں بہت سے ادیبوں ،  شاعروں نے بہت کچھ کہا ہے۔ گزشتہ روز مجھے فیس بک پر حیدرآباد دکن (بھارت) میں ایک ادبی محفل میں ماں کے بارے میں ایک بزرگ شاعر محمد اسماعیل ابن شیخ الفضل کی زبانی ماں کے بارے میں مختلف شاعروں کا کلام سننے کا اتفاق ہوا۔شیخ محمد اسماعیل نے ماں کی بے کراں عظمت اور فضیلت پر الگ الگ بہت سے اشعار اور قطعات اتنی دل سوزی کے ساتھ سنائے کہ حاضرین کی آنکھیں بار بار چھلک جاتی رہیں۔ (میرا اپنا بھی یہی حال تھا)۔ افسوس کہ میں ان شعروں کو محفوظ نہیں کر سکا۔ قارئین محترم ماں کے بارے میں راولپنڈی کی معروف شاعرہ طلعت عروبہ نورین کا ایک شعر بہت مشہور ہوا کہ ’’جس دن میں ماں بنی، اس دن سے مجھ کو، اچھی لگی لگنے میری ماں اور زیادہ!‘‘ کچھ دوسرے اشعار ’’دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں، کبھی دعا نہیںمانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے‘‘ افتخار عارف ’’کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکان آئی، میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی… ’’اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے، ماں بہت غصے میںہو تو رو دیتی ہے‘‘ …’’چلتی پھرتی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے، میں نے جنت تو نہیں دیکھی، ماں دیکھی ہے‘‘ …’’خدا نے اک صفت دنیا میں ہرعورت کو بخشی ہے، ماں پاگل بھی ہو جائے تو بیٹے یاد رہتے ہیں‘‘ ۔