08:24 am
اولوالباب کی ایمانی کیفیت

اولوالباب کی ایمانی کیفیت

08:24 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ ایمان باللہ سے ایمان بالآخرت تک عقلی سفر ہے اور ایسے لوگ جو یہاں تک اپنا سفر طے کرچکے ہوں ان تک جب نبی کی آواز پہنچتی ہے تو وہ لپک کر قبول کرلیتے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس سارے پراسس سے گزر چکے تھے ۔جب  اللہ کے رسول ﷺ نے دعوت دی تو ایک لحظہ کا بھی توقف نہیں کیافورا ًایمان لے آئے۔اسی طریقے سے عرب معاشرے میں ہی حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ ،جو عشرہ مبشرہ کے صحابہ میں سے ہیں،ان کے والد زید کا اگر چہ آغاز وحی سے پہلے انتقال ہو گیا،لیکن ان کے بارے میں یہ بات بہت معروف تھی کہ وہ موحد تھے۔ انہوں نے کبھی کسی بت کے آگے سجدہ نہیں کیا،بلکہ بیت اللہ کے پردے پکڑ پکڑ کراللہ سے دعائیں کرتے تھے کہ پروردگار میں صرف تجھے پوجنا چاہتا ہوں مجھے نہیں معلوم کہ کیسے پوجوں ۔
 ’’اے ہمارے ربّ! جس کو تو نے داخل کر دیا آگ میں بے شک اس کو تو نے رسوا کر دیا۔‘‘ یعنی اصل رسوائی وہ ہے ،دنیا کا معاملہ توعارضی ہے ۔
 ’’اور ظالموں کے لیے کو ئی مددگار نہیں ہوں گے۔اے ہمارے ربّ! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا‘ جو ایمان کی ندا لگا رہا تھا کہ ایمان لائو اپنے ربّ پر‘ تو ہم ایمان لے آئے۔‘اے ہمارے ربّ‘ ہمارے گناہ بخش دے!‘ اور ہماری برائیاں ہم سے دور کر دے!‘ اور ہمیں وفات‘ دیجیو اپنے نیکوکار(اور وفادار) بندوں کے ساتھ۔‘‘ 
 ظاہر ہے اس زمانے میں یہ ندا دینے والے رسول یا نبی ہی ہوتے تھے ۔وہ ندا سننے کے بعد ان کے اندر کی کیفیت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو وہ فوراً ایمان لے آتے ہیں اور پھر اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس سے پہلے اگر ہم سے کوئی خطائیں ہوئی ہیں تومعاف فرما دے ۔استغفار تو بندے کو ہر وقت کرنا چاہیئے کیونکہ مسلسل استغفار کرنا بندگی کی علامت ہے ۔نبی اکرم ﷺ کے بارے میں ذکر آتا ہے وہ خود فرماتے ہیں کہ میں روزانہ دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ استعفار کرتے دن بھر دعوت کا کام کرتے اور راتوں کو رب کے حضور کھڑے ہو جاتے ۔یہ ایسی مشقت تھی کہ ہم اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ، لیکن پھر بھی یہ احساس کہ شاید کوئی کمی رہ گئی ہے کہ یہ لو گ ایمان نہیں لارہے۔مکہ کے تیرہ برسوں میں مشکل سے دوسو لوگ ایمان لائے ،حالانکہ کئی ہزار کی آبادی تھی۔چنانچہ آپ فکر مند تھے کہ شائد کوئی کمی رہ گئی ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے حالانکہ آپ ؐ معصوم عن الخطاء ہیں ۔اسی طرح ایک سلیم الفطرت انسان ایمان لانے کے بعد رب سے دعا کرتا ہے ۔
 اے ہمارے رب‘ ہمیں بخش وہ سب کچھ جس کا تو نے وعدہ کیا ہے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے سے‘اور ہمیں رسوا نہ  کرنا، قیامت کے دن ’یقینا تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا۔تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی‘کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے کسی عمل کو ضائع کرنے والا نہیں ہوں‘ خواہ وہ مردہو یا عورت تم سب ایک دوسرے ہی میں سے ہو۔‘‘ 
مرد ہویا عورت انسانیت ہی کا ایک حصہ ہیں ۔وہ تو صرف اللہ تعالیٰ نے ان کو دوحصوںمیں بنادیا ہے۔ اس کی اپنی ایک خاص مصلحت ہے۔ لیکن شرف انسانیت میں سب برابر ہیں ۔ایک مرد جو نیکی کا کام مرکر رہا ہے وہ کام اگر عورت کرتی ہے تو اس کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ مرد کو ملے گا ۔یہ نہیں کہ وہ اس معاملے میں کسی اعتبارسے کم تر ہے ۔البتہ اس کو ایک اعتبارسے مرد کے تابع کیا گیا ہے اور وہ ہے گھر کا ادارہ ۔گھر کے ادارے میں سربراہ مرد ہے۔کیونکہ اگر گھر کے سربراہ دونوں ہوں گے توپھر کئی طرح کے فساد معاشرے میں جنم لیںگے  ’’سو جنہوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکال دیے گئے‘‘ 
چونکہ یہ مدنی سورت ہے۔لہٰذا اس سے پہلے جو مسلمانوں نے مکہ میں سخت وقت گزارہ تھا اس کے حوالے سے فرمایا۔ ’’اور جنہیں میری راہ میں ایذائیںپہنچائی گئیں اور جنہوں نے (میری راہ میں) جنگ کی اور جانیں بھی دے دیں میں لازماً اُن سے اُن کی برائیوں کو دور کر دوں گا اور لازماً داخل کروں گا انہیں ان باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔اور یہ بدلہ ہو گا اللہ کی طرف سے۔ اور بہترین بدلہ تو اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘