08:25 am
 ثالثی کے پس پردہ عزائم 

 ثالثی کے پس پردہ عزائم 

08:25 am

  ہمارے وزیراعظم ایران کے دورے پر گئے اور یہ خبر درست ثابت ہوئی کہ پاکستان ثالثی کے لیے متحرک ہے۔ اس امر میں دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ ایران سعودیہ کشیدگی خطے میں وسیع تر بربادی کا باعث بنے گی ۔ بلا شبہ پاکستان بھی اس ممکنہ بربادی سے بری طرح متاثر ہوگا ۔ موجودہ حالات میں ایران جیسے پڑوسی کا سعودی عرب جیسے اہم دوست ملک کے ساتھ جنگ میں ملوث ہونا پاکستان کو علاقائی سطح پر سفارتی اور تذویراتی پیچیدگیوں میں مبتلا کرے گا ۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ پاکستان ثالثی نہیں بلکہ سہولت کاری کر رہا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ثالثی نما سہولت کاری کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں ، پاکستان کے متعلق مثبت تاثر نمایاں ہوا ہے۔ خطے میں امن کی بحالی کے لیے دو اہم محاذوں پر پاکستان متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ طالبان، امریکہ مذاکرات میں پاکستان یہی کوشش کر رہا ہے کہ معاملات پر امن ذرائع سے حل ہوں ۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے اسباب پیچیدہ بھی ہیں اور قدیم بھی۔ بعض سادہ لوح احباب اس کشیدگی کو صرف مسلکی تناظر میں دیکھنے کے عادی ہیں ۔ اس روایتی کشیدگی کے پیچھے عرب اور فارس کا قدیم تہذیبی تفاخر بھی کارفرما رہا ہے ۔ عہدِ حاضر میں اس کشیدگی کو بھڑکانے میں عالمی طاقتوں کے درمیان جاری رسہ کشی نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 
 ایران کے ساتھ سعودی عرب کی کشیدگی میں امریکی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ محض سعودی عرب ہی نہیں بلکہ بیشتر عرب ریاستیں ایران مخالف کیمپ کا حصہ ہیں ۔ جب امریکہ اور ایران کے درمیان تنائو میں اضافہ ہوتا ہے تو عرب ریاستیں بھی اپنے قدیم حریف کے خلاف صف آرا ء دکھائی دیتی ہیں ۔ یقینا یہ حسنِ اتفاق نہیں کہ پاکستان ان تنازعات میں ثالثی نما سہولت کاری کا کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے جن میں امریکہ ایک بڑا فریق ہے۔ افغانستان میں طالبان کے ساتھ امریکہ براہ راست مذاکرات کر رہا ہے۔ ایران کے ساتھ امریکی کشیدگی کی ایک طویل تاریخ ہے۔ براہ راست ایران سے ٹکرانے کے بجائے خلیجی ریاستوں کی مدد سے علاقائی دبائو بڑھانے کی امریکی حکمت عملی تاحال بدلی نہیں ۔ عالمی سطح پر بھی مرغ ِ دست آموز ممالک پر دھونس چلا کر امریکہ نے ایران کے خلاف اچھا خاصا محاذ گرم کئے رکھا ہے، تاہم یورپی یونین کے بعض ممالک نے امریکی دبائو کے آگے سرنگوں ہونے کے بجائے ایران سے معمول کے تعلقات قائم رکھے اور معاشی پابندیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایران کی معیشت کو سہارا فراہم کرتے رہے۔ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کے معاملے میں پاکستان کو ابہام کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ماضی کی حکومتیں اس اہم معاملے پر اکثر گو مگو کی کیفیت میں مبتلا ہوتی رہی ہیں ۔ بھارت اور افغانستان سے کشیدہ تعلقات کی گتھیاں سلجھاتے سلجھاتے پاکستان اکثر ایران جیسے اہم پڑوسی ملک کو نظرانداز کرتا رہا ہے۔ بھارت اور ایران کی درمیان پائی جانے والی دو طرفہ گرمجوشی بھی اکثر پاکستان کی تشویش اور تذبذب میں اضافہ کے باعث بنتی رہی ہے۔
 یہاں یہ پہلو ضرور ذہن میں رکھا جائے کہ پاکستان کی امریکہ کے ساتھ ماضی کی قربت بھی ایران کے لیے کوئی پسندیدہ بات نہیں رہی۔ بالکل ایسے ہی پاکستان کی سعودی عرب سے روایتی قربت وگرمجوشی بھی ایران کی پریشانیوں میں اضافے کا سبب بنی رہی ہے۔ یکا یک پاکستان کی جانب سے مصالحتی کردار کی پیشکش نے دنیا کو چونکا ڈالا ہے۔ انتہائی جارحانہ عزائم کے حامل ممالک میں صلح کی کاوش کوئی آسان بات نہیں ۔ نتائج جو بھی نکلیں ؟ فی الحال دنیا پر یہ پہلو آشکار ہو چکا ہے کہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے تمام فریقین پاکستا ن پر بھروسے کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ازلی دشمن بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے من گھڑت الزامات کا موثر توڑ ہو رہا ہے۔ آنے والے ایام میں پاکستان کو سفارتی احتیاط کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا ۔ طے میں امن کی کوشش کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا لازم ہے کہ کہیں فریقین کی نگاہوں میں پاکستان کی غیرجانبداری متاثر نہ ہوجائے۔
 جس معاملے یا تنازعے میں امریکہ فریق ہو اس میں خیر پر شر کا امکان غالب ہوتا ہے۔ صلح کی کاوش بظاہر ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم ایسا نہ ہو کہ آنے والے دنوں میں پاکستان پر امریکہ کی وکالت یا معاونت کا دھبا لگ جائے۔ دفتر خارجہ کی سطح پر یہ غور و خوض کیا جانا چاہیے کہ کیا امریکہ کی ایران بارے پالیسی تبدیل ہو رہی ہے ؟ کیا سعودی عرب نے ایران کے متعلق اپنے روایتی موقف میں لچک پیدا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ کیا ایران بھی امریکہ اور سعودی عرب کے حوالے سے کشیدگی پر امن کو ترجیح دینے کا ارادہ کر چکا ہے؟ یہ جاننا بھی بے حد ضروری ہے کہ پاکستان سے مصالحانہ کردار کی فرمائش کے پیچھے کیا عزائم کار فرما ہیں ؟ یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ افغانستان اور ایران کے معاملے میں پاکستان سے معاونت طلب کرنے والا امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکشیں بھی کر رہا ہے۔ 
خطے میں شطرنج کی بساط بچھی ہے۔ امریکہ نے بھارت پر دست شفقت رکھا ہوا ہے جو کہ پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ۔ افغانستان اور ایران ہمارے برادر پڑوسی ملک ہیں لیکن دونوں ہی بھارت کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔ سعودی عرب کی ایران سے کشیدگی اور امریکہ سے قربت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ بھارت سے سعودی عرب کے گہرے مراسم کوئی راز نہیں ۔ حیرت انگیز طور پر اس مرتبہ ایران نے واضح الفاظ میں کشمیر کے مسئلے پر بھارت کی مذمت واضح الفاظ میں کی ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے ایسی واضح مذمت سامنے نہیں آئی ۔ مصالحت کے میدان میں فریقین کے عزائم پر نگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنے قومی مفادات کو پیشِ نظر رکھنا لازم ہے۔ ماضی میں امریکہ بہادر کے اشارے پر اٹھائے گئے اکثر اقدامات کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔ احتیاط کا تقاضہ ہے کہ مصالحت کرواتے ہوئے پاکستان پر امریکہ کی معاونت کا دھبا نہ لگنے پائے۔ اس پہلو پر غور کیا جانا چاہیے کہ آخر آج کل امریکہ بہادر کے سر پر ثالثی کا بھوت کیوں سوار ہے؟