08:26 am
آزادی مارچ کی منزل اسلام آباد‘ کشمیریوں کی سرینگر!

آزادی مارچ کی منزل اسلام آباد‘ کشمیریوں کی سرینگر!

08:26 am

جے یو آئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اعلان کے مطابق وہ 27اکتوبر کو آزادی مارچ کا آغاز کریں گے ، یہ مارچ 31اکتوبر کو اسلام آباد سے ٹکرائے گا۔ مولانا کے مطابق اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا مقصد عمران خان حکومت کو گھر بھیجنا ہے۔ انہوں نے اس مارچ کو 27اکتوبر کے دن شروع کرنے کا مقصد جو بیان کیا ، اس میں کشمیر کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ریکارڈ کی درستگی کے لئے یہاں 27اکتوبر کا کشمیر کی تاریخ میں اہم کردار ہے۔ آج سے سات دہائیاں قبل اسی دن بھارت نے کشمیر میں اپنی قابض فوجیں داخل کر کے ریاست کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ مقبوضہ جمو ںو کشمیر پر بھارت کے جبری قبضہ اور جارحیت کے 72سال مکمل ہونے پر بھارت نے مقبوضہ ریاست کے حصے بخرے کر دیئے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کرانے کے بجائے ریاست کو ڈی گریڈ کر دیا۔ ریاست کے ٹکڑے کرنے کے بعد انہیں اپنی غلام کالونیاں بناتے ہوئے اپنے مرکزی علاقوں کا درجہ دے دیا۔ 5اگست 2019ء کو یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا کہ اس دن بھارت نے مقبوضہ ریاست پر از سرنو حملہ کیا،لشکر کشی کی اور مزید فوج داخل کرتے ہوئے کشمیری عوام کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کھلی جنگ شروع کر دی۔ایک کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کو گھروں میں قید کر کے ان کا محاصرہ کر دیا۔کرفیو اور پابندیاں سخت کیں اور کشمیر کو دنیا کے لئے انفارمیشن بلیک ہول بنا دیا۔
دنیا میں کہیں اگرغیر مسلم آبادی کے خلاف  ایک دن بھی کرفیو اور پابندیاں لگیں تو چیخ و پکار شروع ہو جاتی ہے۔دنیا کے مختلف ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں۔ جارحیت والے ملک پر معاشی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ مگر کشمیر میں مسلم آبادی کے خلاف مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے72دن گزرنے کے باوجوددنیا بھارت پر سنجیدگی سے دبائو نہ ڈال سکی بلکہ دنیا نے منافقت سے کام لیتے ہوئے بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی جاری رکھنے کی چھوٹ دے دی۔بھارت کی کشمیریوں کے خلاف پہلی جنگ  27اکتوبر1947ء کو سرینگر ہوائی اڈے پر پہلے بھارتی فوجی دستے کے اترنے کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ جب کہ جموں و کشمیر کے عوام بیرونی جارحیت کے خلاف گزشتہ72سال یا 100 سال سے نہیں بلکہ4 صدیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے برسرپیکار ہیں۔ 1947ء سے بھارت نے اپنی  درندہ صفت افواج کے سہارے کشمیر کو اپنی کالونی میں بدل ڈالا ہے۔ آج کشمیری اپنے ہی گھر میں قید ہیں۔ قابض بھارتی فورسز جس بے دردی سے کشمیریوں کی نسل کُشی کر رہے ہیں، اس نے گزشتہ قابضین کے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔انڈیا اپنے قبضے کے حق میں جو دلائل دے رہا ہے وہ سراسر گمراہ کُن ہیں۔وہ کشمیر پر اپنے فوجی قبضے کو چار بنیادوں پر جائز قرار دیتا ہے:
اول‘مہاراجہ کشمیر کی جانب سے 26 اکتوبر 1947ء کو دستاویزِ الحاق ہند، دوم‘ 27اکتوبر 1947ء کو گورنر جنرل انڈیا لارڈ مائونٹ بیٹن کی جانب سے دستاویزِ الحاق کو تسلیم کرنا، سوئم‘ 26 اکتوبر 1947ء کو مہاراجہ کشمیر کی جانب سے لارڈ مائونٹ بیٹن کو خط جس میں بھارت سے الحاق کے بدلے بھارتی فوجی امداد کا مطالبہ اور شیخ محمد عبداللہ ریاست کی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کرنا ،چہارم‘ 27اکتوبر1947ء کو لارڈ مائونٹ بیٹن کا مہاراجہ کشمیر کو خط کہ جس میں مندرجہ بالا امداد کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا  ریاست میں معاملات کے تصفیہ اور امن و قانون کی بحالی کے بعد ریاست کے الحاق کا سوال عوام کی ریفرنس سے حل کیا جائے گا۔ یعنی بھارت کے کشمیر پر قبضہ کا سارا دارومدا ر مہاراجہ کشمیر کی الحاق ہند کی دستاویز پر ہے جس کے بارے میں بالکل عیاں ہوچکا ہے کہ وہ دستاویز یعنی دستاویز ِ الحاق جعلی ہے۔ مائونٹ بیٹن کا خط جس پر مہاراجہ نے26اکتوبر1947ء کو دستخط کئے تھے۔ وہ بھی جعلی قرار دیا گیا ہے۔ مہاراجہ 26؍اکتوبر کو سرینگر سے جموں کی 300 کلومیٹر سے زیادہ لمبی سڑک کے ذریعے سفر کر رہے تھے۔ اتنی طویل شاہراہ پر سفر کے دوران بھارت سے دستاویز الحاق کا تبادلہ کیسے ہو سکتا تھا۔ جبکہ مہاراجہ کے وزیر اعظم مُہرچند مہاجن اور کشمیر معاملات سے متعلق بھارتی سینئر افسر وی پی مینن دہلی میں تھے۔ دہلی اور عازمِ سفر مہاراجہ کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ مہرچند مہاجن اور وی پی مینن27؍ اکتوبر1947ء کی صبح10 بجے دہلی سے جموں بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوئے اور مہاراجہ کو اسی دوپہر اُن دونوں کی زبانی اپنے وزیر اعظم کے بھارت سے مذاکرات کے نتیجہ کا پتہ چلا۔27اکتوبر 1947ء کو کشمیر پر بھارتی قبضے سے متعلق غیر جانبدار قلمکاروں نے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ سٹینلے وائپر اور السٹر لیمب نے تو اس پر کھل کر بات کی ہے جبکہ سابق امریکی عہدیدار رابن رافیل نے28اکتوبر1993ء کو واضح کر دیا کہ امریکہ مہاراجہ کی دستاویز الحاق کو تسلیم نہیں کرتا اور تمام کشمیر متنازعہ ہے۔ اس کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے۔ الحاق کی دستاویز پاکستان یا اقوام متحدہ میں پیش نہیں کی گئی۔بعد ازا ں بھارت نے کہا کہ وہ گم ہوگئی ہے۔ جنیوا کی انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے ایک قرار داد کے ذریعے کہا کہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز بوگس اور جعلی ہے۔  جب گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناح نے27اکتوبر 1947ء کو پاکستانی فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کا حکم دیا تو انگریز کمانڈ انچیف لیفٹننٹ جنرل سر ڈگلس گریسی نے اُس حکم کو ماننے سے انکار کردیا۔بھارت نے کشمیر پر جعلی دستاویز کا بہانہ بناکر فوجی قبضہ کرلیا۔موجودہ کشمیری تحریک مزاحمت 1988ء  سے جاری ہے۔ کشمیری گزشتہ 30سال سے کرفیو، پابندیوں، مظاہروں، مار دھاڑ، قتل عام، نسل کشی، پیلٹ گن اور زہریلی گیسوں کو برداشت کر رہے ہیں۔گزشتہ دو ماہ سے سخت کرفیو اور پابندیوں کے شکار ہیں۔
27اکتوبر کو بھارتی جبری قبضے خلاف یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کشمیری بھی لبریشن فرنٹ کے بینر تلے فریڈم مارچ کر رہے ہیں۔مولانا کے مارچ کی منزل اسلام آباد اور کشمیریوں کی منزل سرینگر ہے۔ مولانا عمران خان حکومت اور کشمیری بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ اس لئے دونوں مارچ کے مقاصد جدا ہیں۔ ایک مارچ اقتدار اور اختیار کے لئے ہو سکتا ہے اور دوسرا ایک قوم کی آزادی کے لئے ہے۔مولانا صاحب کا مارچ کشمیری کی آزادی کے لئے نہیں ۔ اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز کشمیر بن رہا ہے۔ خیال رہے مولانا صاحب کا مارچ دنیا کی توجہ کشمیر سے ہٹانے کا باعث نہ بن جائے۔

تازہ ترین خبریں