08:27 am
پاک برطانیہ اچھوتی دوستی اور حکومتی سائنس

پاک برطانیہ اچھوتی دوستی اور حکومتی سائنس

08:27 am

واہ‘ واہ ‘ کیا کہنے شہزادہ ولیم کے ’’ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان سے اچھوتی دوستی میں بندھے ہیں‘ یقینا ہم گھر آئے مہمانوں کی لفظوں میں بیان کردہ ’’ دوستی‘‘ کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے ان کی خدمت میں گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ کاش اس  اچھوتی دوستی سے مقبوضہ کشمیر کے ایک کرور سے زائد مظلوم و مقہور انسان بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
برصغیر سے برطانیہ کی ’’محبت‘‘ بڑی پرانی ہے اور کشمیری تو آج تک اس والہانہ ’’محبت‘‘ کا مزہ کرفیو‘ گولیوں اور تشدد کی شکل میں چکھ رہے ہیں‘ بلاشبہ برطانیہ پاکستانی حکومتوں اور  پاکستانی سیاست دان کا گارڈ فادر ہے‘ ذرا سوچئیے کہ اگر برطانیہ کی پاکستان سے محبت نہ ہوتی تو ہمارے بے چارے حکمران اپنا اور اپنے اہل و عیال کا علاج کروانے کہاں جاتے؟ ہمارے سیاست دان‘ حکمران اور سینئر بیورو کریٹ عوام کی خدمت کرکے تھک کر چور ہو جاتے ہیں۔ ذرا سوچئیے کہ اگر برطانیہ کی محبت پاکستان کے ساتھ نہ ہوتی تو یہ تھکے ہوئے حکمران‘ بیورو کریٹ اور بے چارے سیاست دان اپنی تھکن اتارنے کہاں کا رخ کرتے؟ سرے محلوں سے لے کر عبدالرحمان ملک‘ فیصل واوڑا کے محلوں تک‘ پرویز مشرف کے فلیٹس سے لے کر نواز شریف کے فلیٹس تک۔ اگر برطانیہ اپنی سرزمین پر یہ سب خرید و فروخت کی اجازت دیتا ہے تو یہ اچھوتی دوستی کا ہی کرشمہ ہے‘ پرانی باتوں پر چوہدری شجاعت حسین سے لے کر مٹی ڈال دیتے ہیں‘ یہ الطاف حسین سے لے کر حسن‘ حسین نواز اور اسحاق ڈار اچھوتی دوستی ہی کی زندہ مثال ہیں‘ پاکستان کی عدالتوں کو یہ کس نے حق دیا کہ وہ لندن کے معزز شہریوں کو پکارتی پھریں؟ میں ملکہ وکٹوریا کی بجائے لیڈی ڈیانا سے شروع کرنا چاہتا ہوں‘ شہزادہ ولیم کی طرح وہ بھی  پاکستان  تشریف لائیں تو تب عمران خان صرف کرکٹر کے طور پر جانے جاتے تھے۔
شہزادہ  ولیم کی خوش قسمتی ہے کہ آج وہی عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بن چکے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ لیڈی ڈیانا کو تب بادشاہی مسجد کا دورہ بھی کروایا گیا تھا‘ اس وقت کے بادشاہی مسجد کے امام مرحوم مولانا عبدالقادر آزاد نے لیڈی ڈیانا کو قرآن مقدس کا نسخہ ہدئیے میں عطا کیا تھا‘ یہ ہدیہ پیش کرنے پر مولانا آزاد کو تنقید کاسامنا بھی کرنا پڑا۔  آج نہ لیڈی ڈیانا اس دنیا میں زندہ ہیں اور نہ ہی مولانا آزاد‘ ہاں البتہ شہزادہ ولیم اور عمران خان ’’اچھوتی دوستی‘‘ کو دوام بخشنے کی کوششیں ضرور کر رہے ہیں۔
پاکستانی عوام کو اچھا لگا کہ شہزادی کیٹ میڈلٹن نے مشرقی عورتوں والا لباس زیب تن کیا‘ اس کو لے کر سوشل میڈیا پر خوب ہاہا کارمچی‘ وہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ والیاںنجانے کہاں گم ہوگئیں؟ شہزادی کو اس مشرقی لباس میں دیکھ کر انہیں شرم تو آئی ہوگی؟ اگر انہیں واقعی شرم محسوس ہو رہی ہے تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ جینز کی پھٹی ہوئی پینٹیں اور نامکمل شرٹس خاکروبوں کے حوالے کر دیں تاکہ وہ اس سے صفائی کا کام لے سکیں۔
برطانیہ سے تشریف لائے ہوئے شاہی جوڑے کی ایک ایسی تصویر بھی اخبارات کی زینت بنی ہے کہ جس میں شہزادی کے دائیں جانب عمران خان اور بائیں جانب شہزاد ولیم خوشگوار موڈ میں نظر آرہے ہیں لیکن بائیں جانب ہی ہمارے ملتانی شاہ محمود قریشی شہزادے کے کندھوں سے متصل نظر آنے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ ان کے چہرے کی مسکراہٹ چھپائے  نہیں چھپتی‘ شاید چہرے پہ آئی ہوئی یہ شدید مسکراہٹ شاہی جوڑے کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ شہزادہ ولیم کے بڑوں اور شاہ محمود قریشی کے بڑوں کی تقریباً سوا سو سالہ پرانی‘ اچھوتی دوستیوں کا پورا برصغیر گواہ ہے‘ ہم تو پیپسی اور کوک کو بھی کالی قرار دیکر پرے اور سیون اپ کو گوری یعنی سفید بوتل سمجھ کر پینے کے عادی ہیں۔
تحریک انصاف کی فردوس عاشق اعوان بی بی نے بھی کیا خوب فرمایا ہے کہ ’’برطانوی شاہی جوڑے کی آمد نئے اور روشن پاکستان کی آئینہ دار ہے‘‘ جی‘ جی‘ بالکل ٹھیک‘ عمران خان کے ریاست مدینہ کے ویژن کی روشنی کی آئینہ دار ‘ آج ایک ’’اچھوتا‘‘ جملہ زیر قلم آگیا کہ غلامی درختوں پہ نہیں اُگتی‘ بلکہ غلامہ ذہنیت رکھنے والوں کے الفاظ ہی غلامی پسند کرتے ہیں‘ اگر یقین نہ آئے تو ’’شاہی جوڑے اور روشن پاکستان‘‘ کو ضرب دیکھ کر نتیجہ خود نکال لیں۔
میری پاکستان کے دورے پر تشریف لائے ہوئے شاہی جوڑے کی خدمت میں گزارش ہے کہ یہاں سے ’’میرا جسم‘ میری مرضی والیوں‘‘ سمیت بعض ’’ورجینا‘‘ ماڈل مولوی زادے گوروں کے دیس کے ویزوں کے حصول کے لئے اپنا حسب‘ نسب‘ شکلیں اور نظریات سب کچھ گروی رکھنے پر آمادہ ہیں‘ خدا کے لئے انہیں بھی واپس جاتے ہوئے ساتھ ہی لے جائیں تاکہ پاکستانی قوم ان کے شر سے محفوظ رہ سکے۔
تحریک انصاف کے دوست مجھ سے ناراض رہتے ہیں کہ میں ان کی حکومت کی تعریف نہیں کرتا‘ آج لگے ہاتھوں ان کی ناراضگی کو بھی دور  کئے دیتے ہیں‘ سیکولر طعنے دیتے نہیں تھکتے کہ دینی مدارس نے نہ سائنس اور نہ سائنسدان کسی کی بھی قدر نہیں کی‘ اس بات پر کسی آئندہ کالم  میں بحث کریں گے‘ ابھی حکومت کی نئی سائنس پر بات کرلیتے ہیں‘ مشہور زمانہ وزیر سائنس فواد چوہدری فرماتے ہیں کہ ’’نوکریوں کے لئے حکومت کی طرف مت دیکھیں...نوکریاں حکومت نہیں پرائیویٹ سیکٹر دیتا ہے ‘ چار سو محکمے بند کر  رہے ہیں۔‘‘
اس حکومتی سائنس کو بیان کرنے پر مشہور زمانہ  فواد چوہدری کی تعریف نہ کرنا بخل کے مترادف ہوگا‘ اب پاکستانی ’’یوتھ‘‘ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکومت سے نوکریوں کے حصول کے لئے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ  کو زیادہ سے زیادہ کامیاب بنائے‘ ویسے آزادی مارچ سے صرف 14دن قبل اس طرح  کا بیان دے کر جو ’’مولانا‘‘ کی مدد کی ہے اس پر ’’مولانا‘‘ کو فواد چوہدری کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

تازہ ترین خبریں