08:27 am
کوئی نوکری نہیں،400 محکمے بند

کوئی نوکری نہیں،400 محکمے بند

08:27 am

٭بہت سی خبریں۔ مختصرمختصر: کراچی: وفاقی اُردو یونیورسٹی کے 78 سالہ وائس چانسلر الطاف حسین پر ایک طلبا تنظیم کا حملہ، وائس چانسلر کو گریبان سے پکڑ کر گالیاں، دھکا دے کرزمین پر گرا دیا۔ وائس چانسلر بے ہوش ہو گئے۔ ان کے عملہ کو بھی زدوکوب کیا گیا۔ اس خبر پر افسوس، صد افسوس !کے سوا اور کیا کہا جائے؟ معاشرہ پستی کی آخری گہرائی تک پہنچ گیا۔ خود کو طالب علم کہنے والے بدبخت افراد کی نرم سے نرم سزا بھی انہیں چوراہوں پر کوڑے ہونی چاہئے۔
 
٭اسلام آباد پر قبضہ کے لئے ’آزادی مارچ‘ کے نام پر ہزاروں ڈنڈا بردار افراد کی باوردی فوجی تربیت اور مشقیں، مولانا فضل الرحمان کو بالکل فوجی انداز میں گارڈ آف آنر، سلامی، مارچ پاسٹ گزشتہ اعلان کے مطابق 30  ہزار باوردی مسلح رضا کار اسلام آباد کا گھیرائو کریں گے،30 ہزار رضا کار ریزرو فورس کے طور پر موجود رہیں گے۔ اسلام آباد کے گھیرائو کو روکنے والوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جائے گا۔ مخالفین کو گھروں میں گھس کر مارا جائے گا۔ اسلام آباد پر حملہ آور لشکرکی تعداد 15 لاکھ بتائی گئی ہے۔ آزادی مارچ کا آغاز کراچی سے ہو گا۔ بوڑھے لوگ ٹرین سے، نوجوان سڑک سے (30 گھنٹے کا سفر) اسلام آباد جائیں گے۔ پنجاب کی حکومت نے انہیں روکنے کا اعلان کررکھا ہے۔ آزادی مارچ کی مسلح فورس کے بارے میں آئین میں واضح ہدایات موجود ہے۔
Oآئین دفعہ 149- اے، ذیلی شق نمبر4: کسی صوبے میں بدامنی، ملک کی مالی حالت یا ملکی سلامتی کے خلاف سرگرمیو ںکو روکنے کے لئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔
O دفعہ 256: ملک میں کوئی ایسی تنظیم نہیں بنائی جائے گی جو فوج کی طرح کارروائی کر سکتی ہو، ایسی تنظیم کو غیر آئینی قرار دیا جائے گا۔ (اقوام متحدہ ایف اے ٹی ایف ایسی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے چکی ہیں)
٭31 اکتوبر کو آزادی مارچ ہو گا۔ اسی تاریخ کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات بھی ہوں گے۔ بار کی انتظامیہ نے انتخابات ملتوی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
٭انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پیپلزپارٹی کے رہبر آصف زرداری کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں، مجاز ادارے سے رجوع کیا جائے۔ آصف زرداری کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے درخواست میں کہا ہے کہ زیرحراست ملزم کو دل کی تکلیف ہے اور شوگر اک دم نیچے چلی جاتی ہے۔ جیل سے ہسپتال تک ڈیڑھ گھنٹے کا فاصلہ ہے، اس دوران کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ فاضل عدالت میں پہلے درخواست دی گئی تھی کہ آصف زرداری کو سابق صدر کی حیثیت سے جیل میں ایئرکنڈیشنر، ریفریجریٹر، ٹیلی ویژن اور اخبارات فراہم کئے جائیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ انتظامات حکومت کی بجائے ملزم خود ذاتی طور پر کر سکتا ہے۔ آصف زرداری کے خلاف 35 ارب روپے جعلی اکائونٹس کے ذریعے بیرون ملک سمگل کرنے کے الزامات ہیں۔
٭’’حکومت کوئی نوکری نہیں دے سکتی، اس کے برعکس 400 محکمے بند کئے جا رہے ہیں‘‘۔ فواد چودھری! فواد چودھری کو حکومت کی ترجمانی کا کوئی اختیار حاصل نہیں مگر انہوں نے از خود یہ اختیارات سنبھال رکھے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ حکومت کوئی نوکری نہیں دے سکتی اس نے یہ کام شروع کیا تو معیشت بیٹھ جائے گی۔ اس سوال پر کہ عمران خاں ایک کروڑ نوکریوں کا اعلان کر چکے ہیں۔ فواد چودھری نے کہا کہ نوکریاں نجی ادارے دے سکتے ہیں، حکومت کچھ نہیں کر سکتی! فواد چودھری کے اس بیان پر عوام میں سخت ری ایکشن پیدا ہوا ہے۔ کمالیہ سے ایک  قاری محمد اسلم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے خلاف بھارت یا کسی اندرونی ملک دشمن کو کسی کارروائی کی ضرورت نہیں، فواد چودھری جیسے خود کش بم بار ہی کافی ہیں۔ ایک قاری نے فواد چودھری کو ٹرمپ نمبر2 قرار دیا ہے!
٭برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کا پوتا شہزادہ ولیم اور ان کی بیوی شہزادی کیٹ مڈلٹن آج کل پاکستان کا خوش گوار دورہ کر رہے ہیں۔ انہیں اس بنا پر پاکستان میں زبردست مقبولیت حاصل ہو رہی ہے کہ دونوں میاں بیوی پاکستانی لباس پہن رہے ہیں۔ شہزادی کیٹ مڈلٹن تو مسلسل پاکستانی شلوار قمیض اور دوپٹہ میں ملبوس دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ روز شہزادہ ولیم  نے سبز رنگ کی خوبصورت اچکن پہنی ہوئی تھی جب کہ شہزادی مڈلٹن نے پاکستان کے پرچم کی سبز رنگ کی قمیض اور سفید رنگ کا پاجامہ پہن رکھا تھا۔ شاہی جوڑے کا ضروری پروٹوکول اپنی جگہ مگر وہ جہاں بھی جاتے ہیں، لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں۔ گزشتہ روز لڑکیوں کے ایک سکول میں چھوٹے چھوٹے بچوں سے ساتھ بے تکلفانہ باتیں کیں۔ لندن کے ایک خبر رساں ادارے نے شاہی جوڑے کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستانی کھانوں کے چٹخارے کا مزا ضرور لیں۔ پاکستان کا مغل پلائو، بریانی، پکوڑے، نہاری، سری پائے، سیخ کباب، چپل کباب، حلیم ضرور کھائیں۔ اس کے بعد گجریلا، میٹھی لسی ضروری ہے۔ یہ مشورہ دلچسپ ہے مگر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ شاہی جوڑے کو صرف وہ خوراک کھانے کی ہدائت ہے جو ان کے ساتھ لندن سے آئی ہے۔ اس خوراک کو تیار کرنے کے لئے ایک شاہی باورچی بھی ساتھ آیا ہے۔ انگلینڈ کی کرکٹ اور ہاکی ٹیمیں بھی اپنی خوراک اورباورچی ساتھ لے کر جاتی ہیں۔ امریکی افراد کو ایسی کوئی ہدایات نہیں دی جاتیں، وہ مزے سے پکوڑے اور مرچوں والے کباب کھاتے پھرتے ہیں۔
٭بھارتی وزیراعظم مودی نے پھر اعلان کیا ہے کہ پاکستان کو جانے والے دریائوں کا پانی روک کر اسے ہریانہ کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ ہریانہ میں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ اس پانی پر ہریانہ کا حق ہے، پاکستان 70 سال سے ناجائز استعمال کر رہا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں دریائوں کے پانی کی تقسیم پر سخت محاذ آرائی شروع ہو چکی ہے اس تنازع پر ایک بار دونوں صوبوں میں پولیس کی سطح پر باقاعدہ لڑائی بھی ہو چکی ہے۔ ہریانہ کو اعتراض ہے کہ پنجاب دریائے بیاس اور اس کے معاون دریائوں کا سارا پانی لے جاتا ہے اس سے ہریانہ میں قحط پڑ گیا ہے۔ پنجاب کی حکومت نے ہریانہ کو پانی دینے سے قطعی انکار کر دیا ہے۔
٭رحیم یار خاں: پولیس کے تشدد سے اے ٹی ایم کی چوری کا ملزم صلاح الدین جاں بحق ہو گیا تھا۔ فرانزک رپورٹ اور دوسری تحقیقاتی رپورٹوں میں واضح طور پر صلاح الدین پر شدید تشدد کی نشان دہی کی جا چکی ہے۔ اس معاملہ پر میڈیا میں بہت شور مچا، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بھی سخت کارروائی کا اعلان کیا۔ کچھ پولیس اہلکار تبدیل کئے گئے، چند ایک کے خلاف مقدمہ بھی دائرہوا…اور… اور اب چالان ہوا ہے کہ جاں بحق ہونے والے صلاح الدین کے والد نے اپنے بیٹے کا قتل معاف کر دیا ہے۔اس بارے میں عدالت کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔
قارئین کرام کی اطلاع کے لئے دو نجی فریقوں میں کسی شخص کے قتل پر دیت کے بھاری معاوضہ پر صلح ہو سکتی ہے مگر ریاست قتل کے کسی کیس میں فریق ہو تو اس میں صلح نہیں ہو سکتی۔ صلاح الدین کے کیس میں ریاست ایک فریق کی حیثیت رکھتی ہے۔ واضح طور پر اس کیس میں پولیس کو بچانے کے لئے مقتول کے والد اور خاندان پر جس قسم کا دھمکیوں والا دبائو ڈالا گیا ہو گا اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ والد کو صرف یہ کہہ دیا گیا ہے کہ اس کے علاقے میں سڑک کی مرمت کر دی جائے گی! یہ کیسی دیت ہے؟ سڑک کی مرمت ویسے ہی ریاست کی ذمہ داری ہے اس کا ایک غریب شخص کے وحشیانہ قتل کی دیت سے کیا تعلق ہے؟ سو! ایسے ساکنان آباد بستی! ایک اور خاک نشین کا خون خاک کا رزق بن گیا! اور مزید اطلاع یہ کہ رحیم یار خاں کے جن پولیس افسروں اور اہلکاروں کو معطل کیا گیا تھا انہیں انہی عہدوں پر بحال کیا جا رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ کے نام والے ملک میں عدل اور انصاف!