07:47 am
وقت کابے لگام گھوڑا

وقت کابے لگام گھوڑا

07:47 am

ہونی ہوکررہتی ہے،جوپیشانی میں ہے،اسے پیش آناہے۔جوکاتب تقدیرنے لکھاہے اسے پور ا ہو نا ہے۔خیریاشر،برایابھلا،جوکچھ بھی آنے والے ایک پل کے پردے میں چھپاہے،پل گزرتے ہی سامنے آجانا ہے۔اگلے پل کے پیچھے کیا چھپاہے،کیاسامنے آئے گا۔پچھلے پل کاتسلسل یااس کے بالکل برعکس۔کون جانے،کس کومعلوم؟انسان کے بس میں کب کچھ ہے؟ جو کچھ ہے سلطان کے بس میں ہے جورحمان ورحیم بھی ہے،قہار وجبار،لیکن کیاواقعی ایساہے؟کیاکوئی کاٹھی نہیں جووقت کے بے لگام گھوڑے پرڈالی جا سکے۔ کوئی لگام نہیں جواس گھوڑے کامنہ موڑدے؟کیاکوئی چابک نہیں جو اس  اڑیل کوصحیح سمت میں رواں رکھ سکے؟کیا کوئی رکاب نہیں جوسوارکوسواری کی پیٹھ سے چپکاسکے،اسے اوند ھے  منہ گرنے سے بچاسکے؟
نہیں ایسانہیں ہے،رب رحمان نے انسان کوسمجھایاکہ ہونی ہوکررہتی ہے جوپیشانی میں ہے اسے پیش آناہے۔کاتب تقدیرنے لکھاہے اسے پوراہوناہے لیکن ہونی کیا ہے،پیش کیا آنا ہے،کاتب تقدیرنے کیالکھاہے،سوائے اس کے کہ جوکچھ تم نے اپنے ہاتھوں سے کمایاہے۔اس نے راستے دکھائے ہیں،بھلائی اوربرائی کے راستے۔ اس نے توسمجھایاہے،ہم نے الہام کیاہے،برائی کابھی،بھلائی کابھی۔اس نے توبارباریاددلایا ہے،اس نے تووعدہ کیاہے(وہ کسی عمل کرنے والے کاعمل ضائع نہیں کرتا)اورپھراس نے کہاہے تول لیا جائے گا تمہاراہرعمل اچھایابرا،چھوٹا یابڑا اورفیصلہ کردیاجائے گا تمہارے فلاح یاخسارے کا۔اس نے انسان کومتنبہ کیاہے۔
وقت کی قسم تمام انسان خسارے میں ہیںاوریہ بھی بتایاہے کہ اس خسارے سے کیسے بچاجائے۔اس نے وقت کامنہ زورگھوڑاہی تخلیق نہیں کیا،اس نے کاٹھی بھی دی ہے،لگام بھی،چابک بھی دی ہے،رکاب بھی۔ ایمان کی کاٹھی،عمل صالح کی لگام۔تواصی حق کی چابک اورتواصی صبرکی رکاب۔تاریخ سے پوچھ کر دیکھئے ۔کون ہے جس نے وقت کے بے لگام گھوڑے کوقابوکرنے کیلئے ان اجزاء کواستعمال کیاہواورناکام رہاہو۔کون ہے جس نے ان اجزاء سے دامن چھڑایاہواورکامیاب ہواہو۔
 ہمارامعاملہ عجیب ہے۔ہماراحال یہ ہے کہ ’’تمنابرق کی رکھتاہوں اورافسوس حاصل کا‘‘۔ سمجھانے والے سمجھاتے رہ جائیں۔راہ دکھانے والے راہ دکھاتے رہ جائیں۔ہم کسی کی کب سنتے ہیں۔ہم کہ عقل کل ٹھہرے،کب کسی کی مانتے ہیں۔ہم اللہ کومانتے ہیں لیکن نہ اس کے دین کومانتے ہیں نہ یوم الدین سے ڈرتے ہیں۔ہم قرآن کی تلاوت کرتے ہیں لیکن اس سے ہدایت نہیں لیتے۔ہم نبی کریمﷺ سے محبت کرتے ہیں لیکن ان کی اطاعت نہیں کرتے۔زندگی ہم فرعونوں کی طرح گزارتے ہیں لیکن عاقبت موسیٰؑ کی مانگتے ہیں۔ہم اپنے آپ کواعتدال پسند،روشن خیال اورجمہوریت کا شیدائی کہتے نہیں تھکتے لیکن اپنے رویوں میں انتہاپسندی، تاریک خیالی اورآمریت کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ کہیں اقتدارکا سنگھاسن نہ ڈول جائے۔اقتدارقائم رکھنے کا خاندانی رازبزرگوں سے سیکھاکہ باپ دادانے بھی اطاعت میں زندگی گزاری،جس کسی نے حق کی طرف توجہ دلائی اس کوزنداں کی تاریکی میں پھینک دوکہ اس کاعلاج یہی ہے!
کشمیرمیں مسلمانوں کی اکثریت تودین حق کی مرہونِ منت ہے،اس کواقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش توان حق کی قوتوں سے جنگ کے مترادف ہے۔اس کے سامنے بھلاپہلے کون ٹھہراہے۔وہ تواپنے بندوں کویاددلاتاہے اورہم ضرورتمہیں خوف وخطرہ،فاقہ کشی،جان ومال کے نقصانات اورآمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے،ان حالات میں جوصبرکریں اور جب کوئی مصیبت آن پڑے، تو کہیں کہ،ہم اللہ ہی کے ہیں اوراللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کرجاناہے،انہیں خوشخبری دے دو،ان پران کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی،اس کی رحمت ان پرسایہ کرے گی اورایسے ہی لوگ راست روہیں۔ اس کھلی خوشخبری کے بعدبھلاکوئی حق پرست کیسے ان زندانوں سے ڈر سکتاہے!
(جاری ہے)