07:47 am
 نیا منظر نامہ اور قومی مفاد

 نیا منظر نامہ اور قومی مفاد

07:47 am

  عالمی بساط پر ایک نیا منظرنامہ تشکیل پا رہا ہے۔بظاہر ابتدائی آثار مثبت ہیں۔پاکستان کی معاونت سے ایران اورسعودی عرب کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے بھرپورکاوش کی جارہی ہے۔کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں بلکہ علی الاعلان اعلیٰ ترین سطح پر روابط جاری ہیں۔پاکستانی وزیراعظم پہلے تہران تشریف لے گئے اور پھر مختصر وقفے کے بعد ریاض میںسعودی قیادت سے ملاقات کی۔یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔مذاکرات یا ثالثی کی حالیہ رفتاراور اعلیٰ سطحی روابط اس امرکاثبوت ہیں کہ فریقین پوری سنجیدگی سے اس مثبت عمل میں شریک ہیں۔یہ حقیقت بھی علی الا علان سامنے آچکی ہے بلکہ ہمارے وزیراعظم نے خود فرمایا کہ ثالثی میں معاونت کی خواہش امریکہ نے ظاہر کی تھی۔ایران اورسعودی عرب نے پاکستان کے اس کردارکو بخوشی تسلیم کیا ہے۔
 
 عالمی برادری میں اس پیش رفت سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔یہ بھی ثابت ہوا کہ مسلم ممالک پاکستان کو ایک معتبردوست گردانتے ہیں گو کہ مذاکرات اورثالثی کا عمل طویل اورپیچیدہ ہو گا لیکن ایک امر طے ہے کہ متحارب فریقین کے درمیان فوری جنگ چھڑنے کے امکانات معدوم ہوجائیں گے۔ابتدائی مراحل میں یہ ایک بڑی اہم کامیابی ہے۔گذشتہ تحریر میں امریکی کردار اور دیگر عالمی قوتوں کی منفی روش کا تذکرہ ہوچکا۔اب بات آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کے مفادات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔بلاشبہ اس وقت پاکستان کے لیے مقبوضہ کشمیر میں جنم لیتا انسانی المیہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔اس تنازعے کے پس پردہ بھارت کے پاکستان مخالف جارحانہ عزائم تیزی سے بے نقاب ہوتے جا رہے ہیں ۔اقوام متحدہ کی قراراداوں کی روشنی میںکشمیریوںکو استصواب رائے کا حق دینے تک محدود نہیں رہی بلکہ بھارت اب کھل کر آزا د جموں کشمیر پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
 بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کئی مرتبہ پاکستان پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دی ہیں ۔ زہر اگلتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع نے پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔اپنی عادت سے مجبور بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت بھی گاہے بگاہے پاکستان پر زمینی اور فضائی حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔بھارت جیسے جارحیت پسندملک کے اہم ترین ریاستی عہدیدار پاکستان کے خلاف جو لب ولہجہ اختیار کر رہے ہیں اُسے قطعاً نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔بلاشبہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں وزیر اعظم صاحب نے بھارت کے جارحانہ عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے درست انداز اپنایا تھا۔اس موقع پر یہ بات اہم ہے کہ کیااس تقریر کے بعد دفتر خارجہ سفارتی محاذ پر وہ رفتار اور حکمت عملی برقرار رکھ پا رہا ہے یا روایتی سست روی اور معنی خیز ابہام کا شکار ہے؟یہ وقت ہے کہ پاکستان عالمی برادری میں اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک سے سفارتی روابط کے ذریعے بھارت سے سر اُٹھاتے خدشات و خطرات کا بھر پور تذکرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سمیت افغانستان کی سرزمین سے را کی سر پرستی میں کی جانے والی بدترین دہشت گردی کا مقدمہ لڑے۔
 جب امریکہ بہادر پاکستان سے افغانستان اور مشرق وسطیٰ جیسے حساس بحرانوں میں معاونت طلب کر رہا ہے تو پھر پاکستان کی جانب سے بھی کشمیر یوں کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن مدد و معاونت کا مطالبہ سامنے رکھاجانا چاہئے۔اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپس نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت کو فی الفور معاملات درست کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس سے زیادہ اہم پیش رفت یہ ہے کہ کشمیریوں کے مقدمات اور شکایات کی شنوائی کے لیے آزاد ٹریبیونلز کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے۔اس موقع پر پاکستان کو سفارتی محاذ پر غیر معمولی تحرک کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔روایتی بیانات اور مذمتوں سے بات نہیں بنے گی۔بھارت کے جارحانہ عزائم کا توڑ کرنے کے لیے پورے انہماک سے ہر محاذ پر جدوجہد درکار ہے۔عالمی اور علاقائی تنازعات میں معاونت طلب کرنے والے ممالک کو کھلے الفاظ میں یہ بیان کر دیا جائے کہ پاکستان کی اپنی سلامتی ہر چیز پر مقدم ہے۔
 یہ ممکن نہیں کہ ایک جانب پاکستان امن کے قیام کے لیے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ثالثی میں معاونت بھی کرتا رہے اور دوسری جانب امریکہ کا اسٹریٹجک پارٹنر افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کا خنجر پاکستان کے پہلو میں پیوست کئے رکھے۔ ایران اور سعودی عرب کے بھارت سے دو طرفہ تعلقات یا معاشی مفادات سے پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں لیکن جب مشرق وسطیٰ کے دواہم متحارب فریق پاکستان سے انتہائی حساس تنازعات میں معاونت طلب کر رہے ہیں تو پھر پاکستان بھی اپنی سلامتی کے لیے ان ممالک سے معاونت طلب کرنے کا حق رکھتا ہے۔عالمی سطح پر پاکستان امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کر رہاہے۔پاکستان کا یہ نیا مثبت اور تعمیری کردار بھارت کے تمام جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈے کی نفی کر رہاہے۔کشمیر کی دن بدن بگڑتی صورتحال اور پاکستان کا تیزی سے بہتر ہوتا تاثر بھارت کی تلملاہٹ میں اضافہ کر رہاہے۔ نئے منظر نامے میں پاکستان کے فیصلہ سازوں کو ملکی مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھنا چاہئے۔