07:48 am
نیکی کی حقیقت

نیکی کی حقیقت

07:48 am

محترم قارئین !انسان اور حیوان میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کا شعور دیا ہے۔انسان نے کوئی نیکی کا کام کیا ہو تو اندر سے تسلی ملتی ہے اورضمیر مطمئن رہتا ہے لیکن اگر کوئی گناہ کیا یا کسی کا حق مارا تو اندر سے ضمیر ملامت کرتا ہے۔گویااندر کوئی شے ہے جو pinchکرتی ہے اور بعض اوقات یہ pinchاتنی شدید ہوتی ہے کہ کچھ لوگ تو اپنی اصلاح کرلیتے ہیں اور بعض تو خود کشی کرلیتے ہیں۔یہ دوسری بات ہے کہ کوئی شخص برائی کرتا رہے اور ضمیر کی آواز کوبھی کچلتا رہے تو ضمیر بھی آہستہ آہستہ مردہ ہوجاتا ہے اور پھر وہ سٹیج آجاتی ہے جس کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہے کہ :
 ’’اللہ نے مہر کر دی ہے اُن کے دلوں پر اور اُن کے کانوں پر۔‘‘(البقرہ۔۷)لیکن بنیادی طور پر نیکی کاکوئی نہ کوئی تصور ہر انسان میں موجود ہے۔ کسی کے نزدیک خدمت خلق اصل نیکی ہے،کوئی عبادات کو اصل سمجھتا ہے اور کوئی صدقہ و خیرات کو ہی نیکی سمجھتا ہے اور پھر یہ بھی انسان کی ایک مجبور ی ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی خلش کو دور کرنے کے لیے بھی کسی نہ کسی نیکی کا اہتمام کرتا ہے۔کبھی کوئی انسان غلط کام کرتا رہتا ہے  لیکن ساتھ اپنے ضمیر کو مطمئن رکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی  نیکی کا کام کردیتا ہے  لیکن نیکی کا اصل تصور کیا ہے ؟حقیقت ِ نیکی کیا ہے،اس حوالے سے سورۃ البقرہ کی آیت 177میں تفصیل سے راہنمائی دی گئی ہے۔اسی لیے اسے آیۃ البر بھی کہتے ہیں اور یہ بڑی تفصیلی آیت ہے۔گزشتہ جمعہ سے ہم نے اس آیت کے مطالعہ کا آغاز کیا تھا۔آج ان شاء اللہ اس کا مزید مطالعہ کریں گے۔فرمایا : ’’نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر دو‘‘
دراصل یہ آیت تحویل قبلہ کے موقع پر نازل ہوئی تھی جب یہودی یہ پروپیگنڈا کر رہے تھے کہ اگر موجودہ قبلہ صحیح ہے تو اس کا مطلب ہے جتنا عرصہ مسلمانوں نے قبلۂ اول کی طرف رخ کر کے نمازیں پڑھی ہیں وہ سب ضائع گئیں۔یہود کے اس پروپیگنڈے سے کچے ایمان والے اور نومسلم سوچ میں پڑ گئے تھے لیکن اس آیت میں انہیں تسلی دی گئی کہ بے شک قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا نیکی ہے لیکن یہ کل نیکی نہیں ہے بلکہ نیکی کا ایک جز ہے۔ قبلہ کی طرف رخ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نماز کی ادائیگی کے معاملے میں مسلمانوں میں ایک ڈسپلن ہو۔ سب کا رخ ایک ہی طرف ہو ۔
ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود 
قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں!
ویسے تو ہر طرف اللہ ہی ہے ۔جیسے قرآن میں ارشاد ہوا :’’ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رُخ کرتاہے‘‘ (البقرہ۔۱۴۸)
جتنی بھی جہتیں ہیں سب اللہ کی ہیں۔ایک اعتبارسے جہاں بھی ہم سجدہ کریں گے وہ اللہ کے لیے ہی ہوگا ۔ بنیادی طور پر نماز کا حاصل یہ ہے کہ : ’’ اور نماز قائم رکھو میری یاد کے لیے۔‘‘(طہٰ:14)
نماز کی اصل روح اللہ سے لو لگانا ہے لیکن نیکی کا ایک ظاہری پیکر بھی ہوتا ہے۔ہمیں اللہ سے لو لگانی ہے تو لولگانے کے لیے ہمیں طریقہ بھی بتادیا گیاکہ آئیڈیل نماز وہ ہے۔اس کی ایک شکل ہے۔اس میں قیام،رکوع،سجدہ، قعدہ وغیرہ ہیں چنانچہ جب نماز کی ایک شکل معین کردی گئی ہے تو اس کی اپنی اہمیت ہے۔اس کو followکرنا چاہیے لیکن وہ شکل ہی کُل نیکی نہیں ہے بلکہ نیکی کا ایک جزو ہے۔’’بلکہ نیکی تو اُس کی ہے، جو ایمان لائے اللہ پر، یومِ آخرت پر، فرشتوں پر، کتاب پر اور نبیوں پر۔‘‘ 
نیکی کی اس بحث میں پہلی شے جو لائی گئی وہ یہ ہے کہ نیک شخص وہ ہے جو صاحب ایمان ہے۔ایمان بھی کون سا؟ صرف یہ نہیں کہ بس اللہ کو ماننے والا ہو بلکہ ایمانیات کی جو تفصیل یہاں بیان ہوئی ہے اس کے مطابق ا س کا ایمان ہو۔بنیادی ایمانیات تین ہیں۔ایک اعتبارسے دیکھا جائے تو اصل ایمان اللہ پر ایمان ہے لیکن اللہ پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جونمائندے زمین پر بھیجے ہیں ان پر بھی ایمان ہو لیکن ایمان بالرسالت کا مطلب یہ ہے کہ آج اللہ کے جس رسول کا دور ہے،جس کو followکرنے کا اللہ نے حکم پوری انسانیت کو دیا ہے،اُس رسول ﷺ پر ایمان لایا جائے۔سابقہ نبیوں پر جس کا ایمان ہو لیکن آخری رسول ﷺ پر ایمان نہ ہو تو اس کا ایمان مکمل نہیں ہے۔آج کے نبی اور رسول محمد رسول ﷺ ہیں۔اس کے بعد اللہ نے اپنے نمائندوں کے ذریعے جو پیغام دیا ہے اس پر بھی ایمان ہو۔وہ پیغا م کیا ہے؟اصل میں یہ دنیا اصل زندگی نہیں ہے،یہ امتحانی وقفہ ہے۔اصل زندگی آخرت کی ہے۔رسولوں کے ذریعے جو اہم ترین پیغام دیا گیاوہ آخرت کا دیا گیا۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہی دنیا ہے۔بس یہاں موج میلہ کر لو،یہاں کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا لو۔اللہ نے نعمتیں دی ہیں اورروکا نہیں ہے لیکن مقصود ہمیں آزمانا ہے۔یہ مہلت عمر آزمائش ہے۔ ہم نے اس مہلت سے فائدہ اُٹھا کر اپنے آپ کو جہنم کے عذاب سے بچانے کی فکر کرنی ہے۔موت پریہ مہلت ختم ہوجائے گی پھر تو صرف رزلٹ آنا ہے اور پھر آخری انجام ہے چنانچہ آخرت پر بھی ایمان ہو ۔ ایمان بالرسالت میں فرشتے اور کتاب بھی شامل ہیں کیونکہ اللہ نے فرشتوں کے ذریعے ہی اپنا پیغام رسولوں تک پہنچایا ہے چنانچہ نیکی کی اصل بنیاد ان سب ایمانیات پر ایمان لانا ہے ۔ان ایمانیات کے نتیجے میں جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ کیا ہے؟اللہ پر ایمان کا لازمی مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص نیکی یا خیر کا کا م کررہا ہوتو نیت یہ ہو کہ میں یہ صرف اللہ کے لیے کررہا ہوں۔    (جاری ہے)