07:49 am
سیاسی اور درباری کی چھاپ؟

سیاسی اور درباری کی چھاپ؟

07:49 am

مذہبی کارڈ استعمال کرنا اگر حکومت اپنا حق سمجھتی ہے تو ضرو ر کرے - جن اکابر علماء کو سرکاری خرچے پر اسلام آباد میں جمع کرکے وزیراعظم عمران خان ’’مولانا‘‘ کے آزادی مارچ کو ناکام بنانا چاہتے ہیں ، ان علماء کا آزادی مارچ کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ وفاق المدارس کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا حنیف جالندھری سے میری گزشتہ روز ٹیلی فونک بات ہوئی تو میرا ان سے پہلا سوال ہی یہ تھا کہ کیا وفاق المدارس کی سطح پر مدارس کے طلباء کو آزادی  مارچ میں شرکت کیلئے مدراس میں چھٹی کا فیصلہ کیا جائے گا؟ ان کا جواب تھا، نہیں ہرگز نہیں ابھی تک وفاق کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ۔ مفتی تقی عثمانی ہوں یا مولانا فضل رحیم ہوں، ان کا سیاسی مارچز سے پہلے بھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ ہاں البتہ  شیخ جمہوریت مفتی عبد الرحیم اور حافظ طاہر محمود اشرفی کی عمران خان اوران کی حکومت کی سپورٹ میں سرگرمیاں پہلے سے ہی جاری تھیں۔
حافظ اشرفی نے تو حسب روایت ڈنکے کی چوٹ پر حکومت کی حمایت کی، حکومت مخالفین کی گالیاں بھی سنیں اور الزامات کے پتھر بھی اپنے جسم ناتواں پر برداشت کیے۔ البتہ مفتی عبد الرحیم حسب روایت پراسرار طریقوں پر حکومت کو مضبوط بنانے کے مشن پر گامزن رہے۔
حکومت  سے علماء ملاقات کریں یا حکومت علماء کرام کا خرچہ برداشت کرکے انہیں اسلام آباد طلب کرے یہ حکومت اور علماء کا حق ہے اس پر اعتراض کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ عقل مندوں کا یہ اصول ہوتا ہے کہ بات سب کی سنیں اور مرضی اپنی کریں۔ وزیراعظم سے ملاقات کے لئے پہنچنے والی ایک ممتاز شخصیت کا اس خاکسار سے رابطہ ہوا تو میں نے پوچھا حضرت! کیا بنے گا؟ فرمانے لگے ہم تو وزیراعظم کی بات سننے ان کی دعوت پر آئے ہیں۔
جب آزادی مارچ کا وقت آیا تو آپ دیکھیں گے کہ ہم کہاں ہیں؟ جامعہ احسن العلوم کے مہتمم مولانا مفتی زرولی خان ممتاز عالم دین اور شیخ الحدیث ہیں، وزیراعظم سے ملاقات کے لئے سرکار نے ان سے بھی رابطہ کیا تھا مگر انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات سے انکار کر دیا۔ ان کا ایک وڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں وہ علماء کی ایک مجلس میں یہ بات  کہہ رہے ہیں کہ ’’ان سمیت ملک بھر کے علماء کو سلام آباد بلایا گیا تھا ، رابطہ کرنے والوں کا کہنا تھا کہ میریٹ ہوٹل میں آپ کے کمرے بک کرا دیئے گئے ہیں۔ جہاں افسران آپ سے بات کریں گے پھر صبح وزیراعظم سے آپ کی ملاقات کروائی جائے گی لیکن میں نے اللہ تعالیٰ سے مشورے یعنی استخارے کے بعد ملاقات سے انکار کر دیا۔ مولانا فضل الرحمن اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلے ہیں انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ کسی صورت پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔‘‘
وزیراعظم سے ملاقات اور میریٹ ہوٹل کے عیش کدوں سے انکارکرکے شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان نے اپنے کردار کو یادگار بنا دیا ہے۔ کئی سال ہوئے مجھے مفتی زر ولی سے ملاقات کیے ہوئے لیکن اب یہ خاکسار ان سے ملاقات کرنے ان کے دربار میں ضرور حاضر ہوگا، میں مولانا فضل الرحمن کو اک نامور اور صاف ستھرے کردار کا حامل سیاست دان سمجھتا رہا لیکن اب سیاستدانوں کی کرامتوں کا ظہور دیکھ کر حیران ہوں۔ ذرا یاد کیجئے وہ  دن کہ جب ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر یہی سیاست دان، لادین اینکرنیاں اور اینکرز دینی مدراس کے طلباء کو دہشت گرد اور دینی مدارس کو دہشت گردی کے اڈے اور جہالت کی فیکٹریاں قرار دیا کرتے تھے مگر اب جیسے ہی د ینی مدارس کے طلباء کا ذکر آتا ہے تو ان کے لہجوں میں شیرینی گھلنا شروع ہو جاتی ہے اور یہ ’’پوپلا‘‘ سا منہ بناکر فرماتے ہیں کہ دینی مدارس کے طلباء تو معصوم ہیں اور ان معصوم طلباء کو آزادی مارچ میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ طلباء آزادی مارچ میں شامل ہوں یا نہ ہوں یہ میرا درد سر نہیں لیکن سوال اٹھانا تو میری ذمہ داری ہے کہ دینی مدارس کے طلباء معصوم کب سے ہوگئے؟ فردوس بی بی،زرتاج گل،شفقت محمود،فواد چوہدری، فیصل واڈا کی زبانوں سے جب میں دینی مدارس کے طلباء کی معصومیت سنتا ہوں تو دل بے اختیار مولانا فضل الرحمن کی کرامت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتاہے۔کل اسلام آباد کے ایک  کھلنڈرے صحافی دوست کا فون آیا، ادھر اُدھر کی گپ شپ کے بعد اس نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سے وفاق المدارس سے لے کر تنظیمات المدارس کے قائدین سمیت سارے علماء چیخ چیخ کر حکمرانوں اور میڈیا والوں کو سمجھایا کرتے تھے کہ  نہ دینی مدارس دہشت گردی کے اڈے ہیں اور نہ مدارس میں دہشت گرد پلتے، بڑھتے یا رہتے ہیں  لیکن ان کی بات کوئی تسلیم کرنے کے لئے آمادہ نہ تھا اب یہ مولانا کے آزادی مارچ کی برکت ہے کہ حکومتی وزیر ٹی وی چینلز کے سٹوڈیوز میں بیٹھ کر دینی مدارس کے طلباء کی’’معصومیت‘‘ کی دہائیاں دے رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وفاق المدارس کے تحت اٹھارہ ہزار دینی مدارس کے تقریباً30 لاکھ طلباء کو آزادی مارچ کے لئے چھٹی نہیں دی جائے گی اور مولانا فضل الرحمن بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ دینی مدارس کے طلباء کی پڑھائی میں ایک گھنٹے کا بھی حرج ہو۔
خود مولانا نے بھی مدارس کی چٹائیوں پر بیٹھ کر ہی دینی علم حاصل کیے ہیں۔مولانا کا یہ بھی کریڈٹ ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو بیکن ہائوس یا آکسفورڈ کی بجائے انہی مدارس میں ہی پڑھا لکھا کر مولوی بنایا ہے۔ اس لئے ان سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ چھٹیاں  کروانے سے طلباء کا کتنا تعلیمی نقصان ہوتا ہے۔میری ان سے گزارش ہے کہ وہ ڈی چوک پر آزادی مارچ میں شریک ہونے والے طلباء کے لئے کلاسز لگانے کا اہتمام بھی فرمائیں۔ دینی مدارس کی عظمت و اہمیت کو منوانے میں مولانا حنیف جالندھری کا جو شاندار کردار رہا اس سے انکار بھی ممکن نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس مرتبہ بھی درباری اور سیاسی چھاپ سے وفاق المدارس کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو اسے بدقسمتی کی انتہا سے ہی تعبیر کیا جائے گا۔ (وما توفیقی الا باللہ)

تازہ ترین خبریں