07:37 am
وقت کابے لگام گھوڑا

وقت کابے لگام گھوڑا

07:37 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
کشمیرمیں مسلمانوں کی اکثریت تودین حق کی مرہونِ منت ہے،اس کواقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش توان حق کی قوتوں سے جنگ کے مترادف ہے۔اس کے سامنے بھلاپہلے کون ٹھہراہے۔وہ تواپنے بندوں کویاددلاتاہے اورہم ضرورتمہیں خوف وخطرہ،فاقہ کشی،جان ومال کے نقصانات اورآمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے،ان حالات میں جوصبرکریں اور جب کوئی مصیبت آن پڑے، تو کہیں کہ،ہم اللہ ہی کے ہیں اوراللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کرجاناہے،انہیں خوشخبری دے دو،ان پران کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی،اس کی رحمت ان پرسایہ کرے گی اورایسے ہی لوگ راست روہیں۔ اس کھلی خوشخبری کے بعدبھلاکوئی حق پرست کیسے ان زندانوں سے ڈر سکتاہے!
کیاایک لاکھ سے زائدجانوں کی قربانی اس بات کی روشن دلیل نہیں کہ جس رب نے ہرانسان کوآزادپیداکیاہے،وہ ہرحال میں حریت کیلئے اپنی جاں تک قربان کر دینے کاعزم رکھتا ہے۔اس مردم شماری سے اگرسروں کی گنتی مقصودہے توپھران مجبورومقہوربے گناہ سرفروشوں کی تعدادبھی سامنے آنی چاہئے جوکشمیر کی آزادی کیلئے قلم کر دیئے گئے۔ان اجتماعی قبروں میں دفن گمنام شہداء کابھی حساب ہوناچاہئے جن کی مائیں ابھی تک نوحہ کناں ہیں،جن کے معصوم بچے اپنے والدین کی صورت دیکھنے کوترس رہے ہیں۔ان معصوم جوان بچیوں کابھی حساب ترتیب دیناہوگاجن کی عصمتیں لوٹ لی گئیں۔ 
7 دہائیاں پہلے اسی ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہرلال نہرونے خودپاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کوٹیلیگرام میں کشمیریوں کوحقِ خود ارادیت دینے کاوعدہ کیاتھا اور بعد میں بھارتی وفدنے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرکشمیریوں کوحق خودارادیت دینے کاوعدہ کیا تھااورآج تک وہ قراردادیں عمل درآمدکی منتظرہیں اور اس تمام عرصے میں کشمیریوں کوحق خوداردیت سے محروم رکھ کے بھارت نے خوداپنی شکست تسلیم کرلی ہے اور ایک لاکھ سے زائدشہداء اور ہزاروں بیٹیوں کی عصمت وعفت کی قربانی اوروقت نے کشمیر کافیصلہ سنادیاہے کہ ریاست کشمیرکے باسی بھارت کے ساتھ رہنے کیلئے قطعاً تیار نہیں۔اگر بھارت کواپنی کامیابی کاایک فیصد بھی یقین ہوتاتواب تک وہ اس عمل سے گزرچکاہوتا۔کشمیریوں کی ثابت قدمی اوربے پناہ قربانیوں کے سامنے اس نے ہتھیار پھینک دیئے ہیں اوراسی وجہ سے وہ ایسے حیلے بہانے ڈھونڈرہاہے کہ کس طرح کشمیریوں کی تعدادکوکم دکھا کرعالمی فورم کے دباؤکوکم کیاجاسکے۔
کیادنیاکواتنابڑادھوکہ دینے میں وہ کامیاب ہوسکیں گے کہ ہندوستان میں توپچھلے72سالوں میں مسلمانوں کی آبادی 28فیصدسے زائدبڑھ جائے اورکشمیرمیں مسلمانوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی جائے۔جموں،کٹھوعہ اوراس کے گردونواح میں غیرریاستی باشندوں کوغیر قانونی طورپرآبادکرنے کی مکروہ سازش اسی بنیادپرکی جارہی ہے کہ تناسب میں تبدیلی لائی جا سکے جوکہ عالمی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔5اگست کے مکروہ فعل کے بعداب اس عمل میں اضافہ کردیاگیاہے۔دراصل ایک منظم سازش کے تحت بھارت کی ہندوشدت پسند تنظیموں کے ان عزائم کو پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن کامقصدجموں وکشمیرکے مسلمانوں کواقلیت میں تبدیل کرناہے۔
تاریخ کایہ عبرتناک عمل ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتاہے تومٹ جاتاہے۔کشمیریوں نے اپنے ایک لاکھ شہداسے زائد کی قربانیوں سے یہ ثابت کردیاہے کہ اگرروس اورامریکااپنی بے پناہ طاقت کے بل بوتے پرعراقیوں اورافغانیوں کونہ دباسکے توبھارت توان سے زیادہ طاقتورنہیں ہے۔مجھ سے ایک امریکی صحافی نے سوال کیا کہ’’آخرنہتے کشمیری اور کتنی دیر لڑتے رہیں گے؟‘‘۔ ’’بہترہوتااگرتم یہ سوال بھارتی حکومت سے کرتے کہ وہ کتنی دیراورکشمیریوں سے لڑنے کی ہمت رکھتے ہیں‘‘۔میرے دل سے اٹھنے والی یہ آواز شائدکشمیریوں کے ترجمانی کرسکی یانہیں لیکن اس امریکی صحافی نے فوری اس بات کااعتراف کیاکہ مظلوم کی طاقت کے سامنے کوئی نہیں ٹھہرسکا،یہی تاریخ کا عبرتناک سبق ہے جوبالآخران ظالموں کامقدربنے گا۔