07:38 am
نیکی کی حقیقت

نیکی کی حقیقت

07:38 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
اللہ کو راضی کرنے کے لیے کررہا ہوکوئی اور مقصد نہ ہوجیسے بعض لوگ نام اور شہرت کے لیے خیرات کرتے ہیں کہ بڑا دیندار اور سخی آدمی ہے یا الیکشن قریب آرہا ہے تو اب خیرات کے کام بڑھ چڑھ کر ہو رہے ہیں۔بظاہر تو یہ کام نیکی کا ہی ہو رہاہے لیکن اللہ کے ہاں یہ نیکی ہر گز نہیں ہے بلکہ اُلٹا اس شخص کے لیے وبال ہے۔نیکی تو تب ہو گی جب خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے کوئی کام کیا جائے۔اسی طرح ایمان بالآخرت کا حاصل یہ ہے کہ نیکی کا اجر صرف اور صرف آخرت میں مطلوب ہو۔اگر ایسا ہوگا توتب وہ  عمل اللہ کی نگاہ میں نیک ہے۔اسی طرح ایمان بالرسالت کا حاصل یہ ہے کہ کوئی بھی کام اس طریقے پر کیا جائے جو کتاب و سنت میں بتایا گیا ہو۔نیکی کے حوالے سے کچھ بنیادی باتیں توہر انسان کے اندر موجود ہیں لیکن نیکی اور بدی کا تفصیلی شعور انسان کے پاس نہیں ہے۔ تفصیلی راہنمائی ہمیں انبیاء اور اللہ کی کتابوں سے ملتی ہے اور اب اللہ کی طرف سے authanticکتاب وہ ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔اسی طرح حضور ﷺ کی شخصیت ایک مکمل شخصیت ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت میں تمام نوع انسانی کے لیے راہنمائی موجودہے۔آج بھی اگر سب سے زیادہ تفصیلات دنیا میں کسی شخصیت کے حوالے سے محفوظ ہیں تو حضور ﷺ کی حیات طیبہ کے حوالے سے ہیںجبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود تاریخی طور پر ثابت کرنامشکل ہے کیونکہ ان کی کتابیں بھی محفوظ نہیں ہیں، سب محرف شدہ ہیں چنانچہ ہم تمام سابقہ رسولوں پر ایمان لاتے ہیں تو اس لیے لاتے ہیں کہ قرآن نے بتایا ہے کہ وہ بھی اللہ کے نبی اور رسول تھے چنانچہ نیکی کا پیکر کیا ہے اس کا تعلق ایمان بالرسالت سے ہے کیونکہ نیکی کی تفصیل ہمیں اللہ کے رسولﷺ نے بتائی ہے۔
 
اس میں ایک سوال پید اہوسکتا ہے کہ جو غیر مسلم ہیں ان میں سے بھی بعض لوگوں نے نیکی کے بڑے بڑے کام کیے ہیںجیسے گنگا رام اور گلاب دیوی ہسپتال بنوا دیے جہاں سے آج تک انسانیت فائدہ اُٹھا رہی ہے۔اسی طرح بل گیٹس جو دنیا کا امیر ترین شخص ہے وہ سب سے بڑھ کر فلاح و بہبود کے کام کر رہا ہے۔اس کے علاوہ یورپ میں بہت سے لوگ ہیں جو دل کے اطمینان کے لیے فلاحی کاموں پر خرچ کرتے ہیںتو کیا ان کو کوئی اجروثواب ملے گا یا نہیں ملے گا؟اس حوالے سے قرآن مجید میں راہنمائی ہے کہ:
’’جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوںہم ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ انہیں اسی (دنیا کی زندگی) میں دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔‘‘(ہود:15)
یعنی ان کا اصل مقصود تو دنیا ہی تھا۔اللہ کو اوراللہ کی دی ہوئی ہدایت کو انہوں نے ترجیح نہیں دی لہٰذا جو خیر کے کام انہوں نے دنیا میں کیے ہیں اس کے بدلے میں انہیں دنیا میں مزید نفع مل جائے گا اور اس نفع میں اللہ کمی نہیں کرے گا مگر آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔دنیا میں ان کی نیک نامی میں اور دولت میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن نیکی اللہ کے ہاں وہی مقبول ہے جو شرائط کے ساتھ ہو اوروہ:’’اوروہ خرچ کرے مال اس کی محبت کے باوجود،قرابت داروں، یتیموں،محتاجوں،مسافروں اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں۔‘‘ مال کی محبت تو ہر شخص کے دل میں ہے:’’اور وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے۔‘‘(العادیات:8)
 اس محبت کے باجود جو اللہ کی رضا کے حصول کی خاطر لوگوں کی فلاح کے کاموں میں اپنا مال خرچ کرتا ہے وہ نیک ہے۔یہ ایک نیک انسان کا سب سے نمایاں وصف ہے۔اگر یہ وصف نہیں ہے تو وہ نمازی اور پرہیز گار تو ہو سکتا ہے لیکن نیک نہیں ہو سکتا ہے۔نیک وہی ہے جو ایمانیات پر ایمان لانے کے بعد خدمت خلق کے کاموں میں اپنا مال خرچ کرسکے۔یہاں خدمت خلق کی تمام شکلیں ترتیب سے بتا دی گئی ہیں یعنی رشتہ داروں میں اگر کوئی شخص ضرورت مند ہے تو سب سے پہلا حق اس کا ہے لیکن ہمارے ہاں اگر کسی میں حاتم طائی کا جذبہ پید اہو بھی گیا تو وہ رشتہ داروں کو نظر انداز کرے گا۔اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن قرآن نے ترتیب بتائی ہے کہ اگر تم نے خدمت خلق کا کام کرنا ہے تو سب سے زیادہ مستحق تمہارے رشتہ دار ہیں،پھر یتیم ہیں کیو نکہ یتیم معاشرے کا سب سے زیادہ کمزور طبقہ ہیں۔ان کو کما کر دینے والا کوئی نہیں ہے لہٰذا وہ محتاج ہیں،لہٰذا ان کی مدد کرنا بہت بڑا نیکی کا کام ہے۔اس کے بعد مساکین ہیں،مسکین وہ شخص ہے جو بظاہر تو ٹھیک لگ رہاہے لیکن دماغی یا اعصابی طور پر کمزور ہے،سو نقشے بناتا ہے لیکن کوشش کے باوجود اس کے حالات سدھر نہیں رہے،اس کے گھر کی ضروریات پوری نہیں ہورہیں ۔اسے بھی اس معاشرے کا حصہ بنانا ،اسے بھی ساتھ لے کر چلنا ، یہ بہت بڑا نیکی کا کام ہے۔پھر اس کے بعد مسافر ہیں،آج تو مسافروں کے لیے بہت سہولیات ہیں لیکن اس زمانے میں مسافر جب گھر سے نکلتا تھا تو اسے کچھ پتا نہیں ہوتا تھا کہ آگے کیا حالات پیش آنے ہیں۔اپنے گھر میں وہ کتنا ہی دولت مند ہولیکن جب سفر میں لوٹ لیا گیا تو اس کے بعد وہ بھی محتاج ہے۔اب اس کی ضرورت کو پورا کرنا بھی نیکی ہے۔اس کے بعد پھر سائلین ہیں۔ہمارے دین کی تعلیمات میں ایک بیلنس ہے۔ایک طرف مانگنے کی سخت مذمت کی گئی ہے کہ کسی کے آگے ہاتھ مت پھیلاؤ۔حدیث میں بھی ہے کہ جو شخص مانگتا ہے اوراس کا عادی ہوگیا ہے اور اسی پر گزارا کررہا ہے تو قیامت کے دن جس انداز میں وہ اٹھے گا وہ ایک عبرت کا نشان ہوگا۔یہ ساری چیزیں اپنی جگہ ہیں لیکن عام مسلمانوں کو تلقین کی جارہی ہے کہ سوال کرنے والے کو بھی کچھ نہ کچھ دو۔
(جاری ہے)
جو آپ کے آگے آکر دست سوال دراز کررہا ہے،عزت نفس اپنی ہتھیلی پر رکھ رہا ہے تو کچھ نہ کچھ اس کو دے دو،خالی ہاتھ نہ لوٹائو۔قرآن وحدیث سے ہمیں ایسی باتیں ملتی ہیں۔ا س کے بعد پھر غلاموں کو چھڑانا ہے۔اس زمانے میں چونکہ غلامی کا عام رواج تھا،لوگوں کو غلام بنایا جاتا تھا،پھر بیچا جاتا تھااور اس کو عیب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے اس عمل کی حوصلہ شکنی کی اور اس چیز کو  encourage کیا کہ غلاموں کو پیسے دے کر آزاد کرائو۔یہ بہت بڑا نیکی کا کام ہے۔
آج کے دورمیں اس کی شکل یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی شخص اگر قرض کے بوجھ تلے دباہوا ہے اور اس کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ قرض ادا کر سکے،اس وجہ سے اس کی زندگی عذاب بنی ہوئی ہے۔ ایسے شخص کا قرض ادا کرکے اس کو اس عذاب سے نکالنا بھی آزادی دلانے کے مترادف ہے یعنی نیک شخص کے اندر جو ظاہری اوصاف ہیں ان میں سب سے نمایاں وصف خدمت خلق کا کام ہے یعنی دوسروں کی مدد کرنا،دوسروں کے ساتھ تعاون کرنا،یہ بہت بڑا خیر کا کام ہے۔
  ’’اور قائم کرے نماز اور ادا کرے زکوٰۃ۔‘‘اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کو جب کوئی عہدکرلیں۔‘‘ 
نماز، روزہ ، زکوٰۃ اور حج سمیت جتنے دینی فرائض ہیں ان کو ادا کرنا بھی نیکی ہے۔اسی طرح کوئی شخص کہے کہ میں نیک ہوں لیکن وہ عہد کی پاسداری نہیں کرتا تو وہ جھوٹا ہے۔نیک شخص کے اندر لازماًیہ وصف ہوگا کہ جب وہ عہد کرے گا تو پورا کرے گا۔’’اور خاص طور پر صبر کرنے والے فقر و فاقہ میں،تکالیف میں اور جنگ کی حالت میں۔‘‘یہ سختی کئی طرح کی ہوسکتی ہے،مثلاًحالات کی سختی ہے،فاقہ کشی ہے، تکلیف ہے،بیماری ہے،کوئی زخم آگیا ہے یا کوئی حادثہ ہوگیا ہے، اگر کوئی نیک ہے تو وہ اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے،زمین پر اللہ کے نظام کو قائم کرنے کے لیے جہاد بھی کرے گا اور قتال کے مرحلے سے بھی گزرے گا لہٰذا ان تمام صورتوں میں اللہ کی رضا کے لیے صبر کرنا بھی نیکی ہے۔ یہ ہیں وہ لوگ جو سچے ہیں۔‘‘ 
 یعنی اللہ کی نگاہ میں وہی لوگ نیک ہیں جن میں یہ اوصاف موجود ہوں۔ صرف وہی نیک ہونے کے دعوے میں سچے ہو سکتے ہیں ۔
 ’’اور یہی حقیقت میں متقّی ہیں۔‘‘متقی وہی ہوتا ہے جس کے اندر اللہ کا خوف ہر وقت موجود ہو۔ہر معاملے میں اس کو یاد رہتا ہو کہ اللہ دیکھ رہا ہے اوراللہ کی جو پسند ہے میں نے اس کے مطابق چلنا ہے۔کسی بھی معاملے میں اللہ کی نافرمانی نہیں کرنی۔تقویٰ بھی ہمارے دین کی ایک اہم اصطلاح ہے اورمتقین کا بہت اونچا مقام ہے۔مسلمان تو سب ہیں،منافقین بھی ہیں،کچے پکے مسلمان بھی ہیںلیکن جنت میں وہی جائے گا جس کا نیکیوں کا پلہ بھاری ہو گا۔ قرآن میں سینکڑوں بار اس بات کا ذکرآیا ہے کہ جنت متقین کے لیے تیار کی گئی ہے تو جو پیمانہ اس تفصیلی آیت کے اندر بیان ہوا ہے،اس پر جو پورا اُتر رہا ہے،اللہ سبحانہ تعالیٰ کے نزدیک وہی نیک ہے،وہی متقی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں نیک بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !