07:39 am
چاندنی کااندھیرا

چاندنی کااندھیرا

07:39 am

آج کل چاروں طرف چاندنی ہی چاندنی پھیلی دکھائی دے رہی ہے۔  راتیں اور رتیں روشن نظر آرہی ہیں، نصف رات کاسماں ہے۔ میں چاندنی سے لطف اندوز ہورہاہوں، سوچ رہاہوں مولانا فضل الرحمن نے اپنے مارچ اور دھرنے کے لئے جو تاریخ مقرر کی ہے تب تک تو چاند کہیں کاکہیں ہوگا وہ چاندنی سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔ مولانا کی تحریک کے بارے میں ذہن عجیب طرح سوچنے لگا ہے کہ کہیں اسلام دشمن قوتیں  تو مولانا کو استعمال نہیں کررہیں۔ چڑجابیٹا سولی پر رام بھلی کرے گا۔ کوئی تو ہے پس پشت جو ساری کارروائی کی نگہداشت کررہاہے۔ شاید وطن کی زندگی میں پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی مذہبی جماعت نے اس قدر منظم طریقے سے اپنی طاقت کا اعلان کیاہو۔ مارچ کے انتظامات اور شریک افراد کی حفاظت کے لئے اس طرح کھلے عام ڈنڈابرداروںکی تربیت کا مظاہرہ کیاہو یہ تو وہی بات ہوئی کہ ۔  آبیل مجھے مار۔ مولانااور ان کے مشیر کار حضرات کی منصوبہ بندی نے یقینا جہاں نہ صرف حزب  اختلاف کی دیگر سیاسی جماعتوں کو اشتراک عمل کے لئے مجبور کردیا ہے وہیں حکومت کی بھی آنکھیں کھول دی ہیں کہ بقول حکمران جماعت کے مولانا اپنی ہار کابدلہ لیناچاہ رہے ہیں۔ ان کے دھرنے اور مارچ سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، اگر مولانا میں اور  ان کی جماعت میں اتنادم خم ہوتا تو مولانا انتخاب میں ہارتے نہیں۔ ان لوگوں کاخیال ہی نہیں یقین تھاکہ مولا نا اپنی کوشش میں منہ کے بل گریں گے اور رہی سہی عزت بھی گنوابیٹھے گے لیکن جوں جوں دھرنے یاان کے مارچ کے دن قریب آرہے ہیں، حکمرانوں کی بے چینی بڑتی جارہی ہے۔ انھیں خوف لاحق ہورہاہے کہیں مولانا اپنی کوشش میں کامیاب ہی نہ ہو جائیں کیونکہ ایک ایک کرکے تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے بلکہ اب تو عوامی طبقوں نے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہونے کااعلان کردیا ہے۔ 
 
بقول مخالفین کے مولانا فضل الرحمن اپنی مردہ ہونے والی سیاسی مذہبی جماعت میں نئی روح پھونکنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ مخالفین جوچاہیںسوچیں جوچاہیں سمجھیں جوہوناہے وہ ہوکر رہے گا۔ تمام جماعتوں کااتحاد کچھ نہ کچھ رنگ تولائے گا۔ یہ اور بات کہ حالات کی بہتری اور عوامی فلاح وبہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے خلائی مخلوق ملک میں پھیلنے والی سیاسی گند گی صاف صفائی کے لئے ایک بار پھر میدان میں اترنے پر مجبور ہوجائے۔ اس ساری کارروائی میں حزب اختلاف کے ارکان موجودہ حکمرانوں سے نجات یاانھیں گھر بھیجنے میں تو کامیاب ہوجائیں بیچارے حکمران وقت نہ گھر کے رہیں گے نہ گھاٹ کے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خلائی مخلوق میدان میں نہ اترے نہ سامنے آئے۔ موجودہ صورت حال کی مانند پس پردہ رہ کر نئے مہرے بساط پرجمادے یا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مولانا اور ان کے شریکوں کو خاموشی سے واپس ان کے گھر روانہ کردے۔ سارا معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوکررہ جائے۔
تمام بڑی اور اہم سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور اہم رہنما پہلے ہی قید میں ہیں ان کے خلاف نئے مقدمات کھلناشروع ہوگئے ہیں۔  دیکھنا یہ بھی ہے کہ اس دھرنے یامارچ کاکتنااثر ان لوگوں پرپڑتا ہے۔ اللہ کرے ملک کسی بھی طرح کے حادثے سے دوچار نہ ہو، لیکن یہ بھی حقیقت ہے جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلتا ہو توانگلی کو ٹیڑھا کرناہی پڑتاہے۔ ملک کو موجودہ حکومت نے بربادی کے جس موڑ پر لاکھڑا کیا ہے اس سے آگے تمام راستے بند نظر آرہے ہیں۔ اگلیں تواندھا نگلیں توکوڑی کے مصداق حزب احتلاف کے پاس کوئی آپشن کوئی طریقہ نہیں بچا،سوائے احتجاج کے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پرامن احتجاج کوپرامن رہنے دیاگیاہو۔حکومت اپنی طاقت کا مظاہرہ ضرور کرتی ہے اور اگر احتجاج کو پر امن رہنے دیاجائے تو شاید حکومت کی ناک کٹتی ہو اس لئے ضروری سمجھا جاتاہے کہ اسے پرامن نہ رہنے دیا جائے کیونکہ سارے فساد کاملبہ بآسانی مخالفین پرڈال دیا جاتا ہے۔ عوام سارے تماشے دیکھ رہی ہوتی ہے ،سمجھ رہی ہوتی ہے، وقت پڑنے پر اپناکردار بھی ادا کرتی ہے۔ عوام نہ اندھی ہے نہ ہی بہری ہے۔  اس بار مہنگائی،بیروز گاری کاجو طوفان بلایا گیا ہے اس سے اچھے اچھوں کی چیخیں نکل رہیں ہیں جبکہ حکومت سب  اچھا کاراگ الاپ رہی ہے۔   
 عوام بے بسی کاشکار ہورہی ہے۔ لاوا اندر ہی اندر پک رہاہے جوکسی بھی وقت ابل سکتا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ عوام کا ایک بہت بڑاطبقہ جوخاموشی سے تماشائی بنا حالات کودیکھ رہاہے سمجھ رہا ہے وہ مولافضل الرحمن کے     مارچ اور دھرنے کے نتیجے کامنتظر ہے کہ مولانا کااونٹ کس کروٹ  بیٹھتا ہے۔ اگر عوام مولانافضل الرحمن کی پشت پرآن کھڑے ہوگئے تو صورت حال پھر کچھ اور ہی رخ  اختیار کرلے گی ۔  سیاسی تجزیہ کاروں کااندازہ ہے کہ مولانا  کچھ نہ کچھ کر کے رہیں گے۔  ان لوگوں کا خیال ہے کہ مولانا چاہے ناکام ہوں یا کامیاب، دونوں صورتوں میں مولانا کے وارے نیارے رہیں گے۔ ان کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہی رہیں گے۔ 
چاندنی اب اپنے گھر لوٹ رہی ہے مدھم مدھم چلی جارہی ہے۔ اللہ ہمارے ملک کو محفوظ رکھے۔ آمین

تازہ ترین خبریں