07:39 am
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک

07:39 am

اتحاد امت کا تصور بعض لوگوں کے نزدیک ایک فضول قسم کی بات ہے۔ان کے دلائل میں او آئی سی کا کردار اور بڑے اسلامی ممالک کے اپنے ریاستی مفادات کے تحت اٹھائے جانے والے اقدامات ہیں۔یہ لوگ ہمیں سمجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ امت کو بھول جائو کیونکہ قومی ریاستوں کے وجود میں آنے کے بعد ’’اُمہ‘‘ نامی کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔ممکن تھا کہ ان کے دلائل دلوں کو رام کرلیتے مگر عالمی طاقتیں مسلمان ملکوں میں جو کھیل کھلیتی رہی ہیں وہ مسلمان ذہنوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ مسلمان ہی ہمیشہ مشق ستم کیوں بنتے ہیں۔میں نے اپنی کتاب TOWARDS THE UNIFICATION OF MUSLIM UMMAH   میں اتحاد امت کی ضرورت کے  حوالے سے’’حرف آخر‘‘ قلمبند کیا تو  پاکستان کے  سابق صدر ایوب خان کی ایک آبزرویشن نقل کرتے ہوئے ایک گونا اطمینان ہوا کہ اتحاد امت کے تناظر میں جن خطوط پرہم نے سوچا اور کام کیا ہے وہی زمینی حقیقت ہے۔ 
 
صدر ایوب خان نے ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’یہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے کہ کمیونسٹ ورلڈ،کرسچن دنیا اور ہندو انڈیا مسلمان ممالک کو ہمیشہ ’’مسلمان ملک‘‘ کی حیثیت سے ڈیل کرتے ہیں۔‘‘خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلمان قومی ریاستیں وجود میں ضرور آئیں لیکن مذہب کی شناخت کو اندرونی طور پر ختم کیا جاسکا اور نہ ہی بیرونی دنیا  نے ان سے معاملہ کرتے وقت ان کی مذہبی شناخت کو پس پشت ڈالا۔ ترکی میں مذہب سے دوری کا ایک تجربہ ہوا لیکن وہ ناکامی سے دوچار ہوگیا۔ ترکی سیکولر ازم کی راہ پر چل کر واپس پلٹ آیا ہے تو اس کی ایک وجہ جہاں ترک عوام کی اسلام سے محبت ہے تو دوسری بڑی وجہ عالمی طاقتوں کا ترکی کے حوالے سے روا رکھا جانے والا وہ متعصب رویہ ہے جس کا تمام مسلمان ممالک شکار ہوتے ہیں۔مشہور مورخ ٹائن بی نے 50 کی دہائی میں اس صورتحال پر بڑا خوبصورت تبصرہ کیا۔انہوں نے کہا ’’مغرب ایک عرصے سے ترکی کے پیچھے لگا رہا کہ یہ اپنا مذہب چھوڑ دے لیکن جب ترکی نے اپنا مذہب ترک کر دیا ہے تو مغرب کے پاس اسے دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ماسوائے توہین اور رسوائی کے۔‘‘
تمہید طویل ہوگئی لیکن یہ معروضات پیش کرنا اس لئے ضروری تھیں کہ وزیراعظم پاکستان کے دورہ ایران اورسعودی عرب کو درست تناظر میں سمجھا جاسکے۔مسلمان ممالک کے باہمی جھگڑوں نے اتحاد امت کے خواب کو جہاں شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا وہیں عالمی طاقتوں کو ہمیشہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ جھگڑوں سے پیدا شدہ صورتحال  سے فائدہ اٹھاسکیں۔صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے حال ہی میں جو کہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ ان جھگڑوں کے تناظر میں امریکہ اور عالمی طاقتیں اپنے مفاد کے لئے کیسے سوچتی ہیں۔1991 ء میں جب عراق،کویت جنگ ہوئی تو خلیجی ممالک کا دفاعی بجٹ یکدم بڑھ کر70 ارب ڈالر پر پہنچ گیا۔جنگ ختم ہوئی تو بتدریج اس میں کمی آنا شروع ہوگئی  لیکن وارآن ٹیرر کا بگل بجا تو 50 ارب ڈالر کی سطح سے دوبارہ بڑھتے ہوئے یہ بجٹ72 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔صدر اوبامہ کے عہد میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان60 ارب ڈالر کے جنگی سازو سامان خریدنے کا معاہدہ طے پایا۔
کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جو رقم مسلمان ممالک ’’وارفیئر‘‘ پر خرچ کرتے ہیں وہ مغربی ممالک میں پہنچ کر عوام کی’’ویلفیئر‘‘پر خرچ ہوتی ہے۔اگر مسلمان ممالک کے باہمی تنازعات ختم ہو جائیں تو دفاع پر خرچ کی جانے والی خطیر رقم مسلمان عوام کی بہبود پر خرچ کی جاسکتی ہے۔سعودی عرب اور ایران کے تنازعات اتنے گہرے نہیں ہیں جتنا کہ بنائے گئے ہیں۔سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وار کا شکار مسلمان دنیا ایک عرصے سے ہے اور اس کا فائدہ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں اٹھاتی ہیں۔ایران کا ڈراوا دیکر یہ طاقتیں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے دفاعی معاہدے کرتی ہیں،اپنی فوجوں کی کفالت کرتی ہیں اور جنگی سازو سامان بیچ کر اربوں ڈالر کی رقمیں اینٹھتی ہیں۔دوسری طرف ایران کو کمزور کرنے کیلئے کبھی یہ عراق ایران جنگ چھیڑ دیتی ہیں اور کبھی یہ طاقتیں افغانستان کے طالبان کی پشت پناہ بن جاتی ہیں۔ 
مسلمان دنیا میں لیکن قیادت کا بحران ہے۔اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی طاقت رکھنے والا اگر کوئی حکمران ہے بھی تو اس پر قومی ریاست کا فتور اس قدر حاوی ہے کہ وہ قومیت کی آگ میں جل کر خود بھی بھسم ہو رہا ہے اور دوسرے مسلمان ملک کے لئے بھی تباہی کا موجب بن رہا ہے۔ان حالات میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے آگے بڑھ کر دو بڑے مسلمان ممالک سعودی عرب اور ایران کے مابین صلح صفائی کی جو سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش کی ہے اسے خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔قوموں کی خوش قسمتی ہوتی ہے کہ انہیں بلند نگاہ رکھنے والا رہنما میسر آئے۔عمران خان کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور امت مسلمہ کو ایک ایسا رہنما عطا فرمایا ہے کہ جس کے سینے میں اسلام کی سنہری تعلیمات کی شمع روشن ہے اور جس کے دل میں مسلمانوں کا درد بھی ہے۔ 
مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں جب اس نے بیان کیا تو تمام تقریر کا حاصل یہ جملہ تھا کہ اقوام عالم  انسانوں کی بجائے تجارت کو ترجیح دے رہی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اس حقیقت کو جان چکے ہیں کہ عالمی طاقتیں انسانوں سے سلوک کا دوہرا معیار رکھتی ہیں۔ایک وہ جو مسلمان کے لئے ہے اور دوسرا جہاں ان کے مفادات کی تکمیل ہوتی ہے۔عالم اسلام کی یکجہتی کے لئے ان کی کوششیں درحقیقت اس سوچ کے تحت ہیں کہ جب تک مسلمان ممالک اتحاد کی لڑی میں پروئے نہیں جاتے تب تک ان کی مشکلات ختم  نہیںہوں گی اور نہ ہی ان کے مسائل ختم ہوسکیں گے۔علامہ اقبال نے اس حقیقت کو بہت عرصہ پہلے پالیا تو فرمایا۔
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک