07:40 am
آزادی مارچ، بھارت کا ردعمل!

آزادی مارچ، بھارت کا ردعمل!

07:40 am

٭حکومت نے 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں جے یو آئی کے آزادی مارچ کو روکنے کے لئے مختلف سطحوں پر اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔آزادی مارچ کے لٹھ بردار فوجی دستوں کو کالعدم قرار دینے کا وزارت قانون کو مراسلہ بھیج دیا گیا ہے۔ ایک طرف سات اہم افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے جو مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کرے گی، دوسری طرف اسلام آباد کے تھانوںنے جلسے جلوسوں کے لئے کرسیاں، سٹیج، کنٹینر، خیمے، کھانے اور دریاں وغیرہ فراہم کرنے والے اداروں کو ایسی کوئی بھی چیز فراہم کرنے کی ممانعت کر دی ہے، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر ملک کے مختلف حصوں سے معروف علما کو اسلام آباد بلایا گیا۔ انہیں فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا اور اگلے روز وزیراعظم ہائوس میں لے جایا گیا۔ حکومتی ترجمان کے مطابق علما سے آزادی مارچ کے بارے میں تو صرف دو تین منٹ بات ہوئی، باقی باتیں دینی مدارس میں اصلاحات کے بارے میں ہوئیں اور یہ کہ علما نے وزیراعظم سے اتفاق کیا! دوسری طرف جے یو آئی کے ترجمان کا بیان ہے کہ بڑے علمائے دین، خاص طور پر دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے علما تو آئے ہی نہیں اور یہ کہ مدارس میں اصلاحات کے اجلاس کا یہ کون سا موقع تھا؟ حکومت کی آزادی مارچ کے مذاکرات کے لئے سات رکنی کمیٹی میںقومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر، سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی، پرویز الٰہی، اسد عمر، شفقت محمود، وزیرمذہبی امور نور الحق قادری اور کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک ہوں گے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کمیٹی کے مذاکرات تو ابھی شروع نہیں ہوئے، الٹا مولانا فضل الرحمان چودھری پرویز الٰہی سے مذاکرات کے لئے پہنچ گئے اور انہیں آزادی مارچ میں شرکت اور وزیراعظم سے استعفا لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ پرویز الٰہی نے انہیں مذاکرات کا مشورہ دیا۔
 
٭ن لیگ کے آن ریکارڈ صدر میاں شہباز شریف نے بالآخر بڑے بھائی نوازشریف کے آگے ہتھیار ڈال دیئے اور افہام و تفہیم، اعتدال اور قومی اداروں سے محاذ آرائی نہ کرنے کی پالیسی چھوڑ کر مولانا فضل الرحمن کے زیر سایہ آزادی مارچ میں شریک ہونے بلکہ قیادت کرنے کا اعلان کر دیا۔ شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں جس انداز میں اچھل اچھل کر عمران خان کے خلاف سخت کلامی کی اس سے اندازہ ہو رہاتھا کہ ان کی کمر کی مشہور تکلیف فی الحال ملتوی ہو گئی ہے۔ اس ’تکلیف‘ کے باعث وہ دوبار نوازشریف سے ملنے کے لئے بھی نہیں گئے تھے، تاہم ن لیگ میں اپنی صدارت کو خطرے میںدیکھ کر چلے گئے اور نوازشریف کے سارے احکام پر عمل کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیاکہ وہ چھ ماہ میں ملک کی معیشت کو کھڑا کر دیں گے! انہوں نے گزشتہ انتخابات سے پہلے اعلان کیا تھا کہ کامیاب ہو کر تین ماہ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کر دیں گے۔ وہ کامیاب ہو گئے تو لوڈ شیڈنگ چار گھنٹے کی بجائے 12 سے 18 گھنٹے تک بڑھ گئی! انہوں نے آصف زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کے اعلانات بھی کئے بعد میں…چھوڑیئے بار بار کیا ذکر کیا جائے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ ان کے آزادی مارچ میں شرکت کے اعلان سے آزادی مارچ والوں کے ہاں جشن کی کیفیت ہے۔ شہباز شریف کے بعض ساتھیوں کا خیال ہے کہ آزادی مارچ کا امکان نظر نہیں آ رہا۔ خونریزی کی حد تک شدید تصادم کے خطرہ کے پیش نظر یہ مارچ اسلام آباد میںداخل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، ایسے میں اس کی حمائت کر کے اپوزیشن میں نمایاں ہونے میں کیا ہرج ہے۔
ایک خاص بات یہ ہے کہ مولانا کی طرف سے ریلوے انتظامیہ اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو دو درخواستیں دی گئی ہیں۔ ریلوے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ آزادی مارچ کی آمدورفت کے لئے ریلوے کی ایک ٹرین بُک کر دی جائے۔ ( لاکھوں کروڑوں کی فیس)۔ دوسری درخواست میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں آزادی مارچ داخل ہو گا۔ اس کے جلوس اور دھرنے کے آخری روز تک اسے مکمل سکیورٹی اور دوسری سہولتیں فراہم کی جائیں! ان درخواستوںکا الٹا اکثر ہوا ہے۔ ریلوے کا جواب ہے کہ ان کے پاس پہلے ہی ٹرینیں کم ہیں، کوئی ٹرین نہیں دی جا سکتی اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے آزادی مارچ کو کسی قسم کی سہولتیں فراہم کئے جانے پر ہی پابندی عائد کر دی ہے۔
٭آج آزادی مارچ کی کچھ زیادہ باتیں ہو گئیں۔ اس کا ایک اہم حوالے بلکہ انکشاف البتہ ضروری ہے۔ گزشتہ ہفتے ایف اے ٹی ایف کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں پاکستان پر ’گرے لسٹ‘ کی پابندیاں ختم کئے جانے کا خاصا امکان دکھائی دے رہا تھا۔ایف اے ٹی ایف کا ادارہ کسی ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لئے اس کے ہاں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے فروغ کے بھارتی الزامات کے تحت گرے لسٹ میں شامل کیا جا چکا ہے۔ اس سے اگلا مرحلہ ’بلیک لسٹ‘ میں شامل کئے جانے کا ہے جو نہائت خطرناک اقدام ہوتا ہے۔ اس فہرست میں شامل کئے جانے والے ملک کو ہر قسم کی بیرونی امداد اور سرمایہ کاری روک دی جاتی ہے، اس کے طیاروں کی بیرون ملک پروازیں بند ہو جاتی ہیں اور اقوام متحدہ کے زیر سایہ مختلف ادارے اس ملک کا ہر قسم کا انتظام سنبھال لیتے ہیں، ملک کی افواج اور سارے وسائل ان اداروں کے کنٹرول میں آ جاتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے اس صورت حال سے بچنے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے۔ حالیہ جلوس میں گرے لسٹ سے نکلنے کا خاصا امکان پیدا ہو گیا تھا۔ بھارت والے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی مبینہ دہشت گردی کے بار بار حوالے دیئے جا رہے تھے، جن کی موثر تردید ہو رہی تھی، مگر مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے نام پر ہزاروں باوردی لاٹھی بردار دستوں کی فوجی مشقوں اور مولانا کو گارڈ آف آنر وغیرہ کی سرگرمیوں کو بھارتی حکومت اور میڈیا نے اس طرح اچھالا کہ ایف ٹی اے ایف کے اجلاس میں پاکستان سے ہمدردی کے امکانات پھر رک گئے اور اس بات کو فروری کے آئندہ اجلاس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے ’آزادی مارچ‘ کے لاٹھی بردار دستوں کی فوجی پریڈ کو بار بار پیش کرتے ہوئے ’خطرہ‘ ظاہر کیا کہ پاکستان میں تیار ہونے والا یہ نیا مسلح گروہ بالآخر مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کرے گا! ایف اے ٹی ایف نے اس خدشہ کا سنجیدہ نوٹس لیا اور مزید کارروائی فروری تک ملتوی کر دی ہے۔ 
٭بھارت کے وزیردفاع راج ناتھ نے ہنگامی طور پر تینوں مسلح افواج کے سربراہوں اور دوسرے آپریشنل کمانڈروں کا ہنگامی اجلاس بلایا، انہیں کسی بھی فوری کارروائی کے لئے تیار رہنے کی ہدائت کے علاوہ یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف جنگ کے علاوہ مقبوصہ کشمیر میں ’’دہشت گردوں‘‘ کے خلاف غیر روائتی ہتھیار بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسے ہتھیاروں میں آتش گیر اور زہریلی گیس والے بم، کیمیائی مادوں کے ذریعے مخالفین کو مفلوج اور معذور کرنے اور آنکھیں ختم کرنے کے لئے بیلٹ بندوقوں وغیرہ کے ہتھیاروں کا استعمال شامل ہے۔ ایسے ہتھیاروں پر اقوام متحدہ نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔
٭ایس ایم ایس: شرق پور (ضلع شیخوپورہ) کے ایک نواحی گائوں میں شدید طوفانی بارش سے ایک بہت نچلے درجے کے چھوٹے ملازم کے چھوٹے سے مکان کے واحد رہائشی کمرے کی چھت گر گئی ہے۔ گھر کے لوگ تو کسی طرح بچ گئے مگر سر سے چھت ختم ہو جانے پر بے گھر ہو گئے ہیں۔ اوپر سے سردی آ رہی ہے۔ اس گھرانے نے مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ چھت بنانے میں مدد کی جائے۔ میں نے اس گھرانے اور اس واقعہ کی تصدیق کر لی ہے۔ میرے فون نمبر 03334148962 کے ذریعے اس خاندان سے بات ہو سکتی ہے۔