09:27 am
تذکرہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان

تذکرہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان

09:27 am

میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اہل سنت، ولی نعمت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانۂ شمع رسالت، مجدد دین و ملت، حامی سنت، ماحی بدعت، عالم شریعت، پیر طریقت، باعث خیروبرکت، حضرت علامہ مولانا الحاج الحافظ القاری شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کی ولادت باسعادت بریلی شریف کے محلہ جسولی میں 10شوال المکرم 1272ھ بروز ہفتہ بوقت ظہر مطابق 14جون 1856ء کو ہوئی۔ سن پیدائش کے اعتبار سے آپ کا نام المختار ہے۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت ج1، ص58) 
اعلیٰ حضرت کا سن ولادت،  اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنا سن ولادت پارہ 28 سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر22 سے نکالا ہے۔ اس آیت کریمہ کے علم ابجد کے اعتبار کے مطابق 1272 عدد ہیں اور ہجری سال کے حساب سے یہی آپ کا سن ولادت ہے۔ مکتبہ المدنیہ کی مطبوعہ ملفوظات اعلیٰ حضرت صفحہ 410 پر ہے: ولادت کی تاریخوں کا ذکر تھا اور اس پر (سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے ارشاد فرمایا: بحمدللہ تعالیٰ میری ولادت کی تاریخ اس آیۃ کریمہ میں ہے،’’یہ ہیں جن کے دِلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف سے رُوح سے اُن کی مدد کی‘‘۔
آپ کا نام مبارک محمد اور آپ کے دادا نے احمدرضا کہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔ حیرت انگیز قوتِ حافظہ، عموماً ہر زمانے کے بچوں کا وہی حال ہوتا ہے جو آج کل کے بچوں کا ہے کہ سات آٹھ سال تک تو انہیں کسی بات کا ہوش نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کسی بات کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں مگر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بچپن بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ کمسنی، خردسالی (بچپن) اور کم عمری میں ہوشمندی اور قوتِ حافظہ کا یہ عالم تھا کہ ساڑھے چار سال کی ننھی سی عمر میں قرآنِ مجید ناظرہ مکمل پڑھنے کی نعمت سے باریاب ہو گئے۔ چھ سال کے تھے کہ ربیع الاوّل کے مبارک مہینے میں منبر پر جلوہ افروز ہو کر میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر ایک بہت بڑے اجتماع میں نہایت پرمغز تقریر فرما کر علمائے کرام اور مشائخ عظام سے تحسین و آفرین کی داد وصول کی۔ اسی عمر میں آپ نے آپ نے بغداد کے بارے میں سمت معلوم کر لی پھر تادمِ حیات بلدۂ مبارکہ غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم (غوثِ اعظم کے مبارک شہر) کی طرف پائوں نہ پھیلائے۔ نماز سے تو عشق کی حد تک لگائو تھا، چنانچہ نماز پنج گانہ باجماعت تکبیر اُولیٰ کا تحفظ کرتے ہوئے مسجد میں جا کر ادا فرمایا کرتے تھے، جب کبھی کسی خاتون کا سامنا ہوتا تو فوراً نظریں نیچی کرتے ہوئے سر جھکا لیا کرتے۔ آپ نے لڑکپن میں تقویٰ کو اس قدر اپنا لیا تھا کہ چلتے وقت قدموں کی آہٹ تک سنائی نہ دیتی تھی۔ سات سال کے تھے کہ ماہِ رمضان المبارک میں روزے رکھنے شروع کر دئیے۔ (دیباچہ فتاویٰ رضویہ، ج30، ص16) 
حضرت ابوحامد سید محمدمحدث کچھوچھوی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ جب دارالافتا میں کام کرنے کے سلسلے میں میرا بریلی شریف میں قیام تھا تو رات دِن ایسے واقعات سامنے آتے تھے کہ اعلیٰ حضرت کی حاضر جوابی سے لوگ حیران ہو جاتے۔ ان حاضر جوابیوں میں حیرت میں ڈال دینے والے واقعات وہ علمی حاضرجوابی تھی جس کی مثال سنی بھی نہیں گئی، مثلاً استفتا (سوال) آیا، دارالافتا میں کام کرنیوالوں نے پڑھا اور ایسا معلوم ہوا کہ نئی قسم کا حادثہ دریافت کیا گیا (یعنی نئے قسم کا معاملہ پیش آیا ہے) اور جواب جزئیہ (جز۔ئی۔یہ) کی شکل میں نہ مل سکے فقہائے کرام کے اُصول عامہ سے استنباط کرنا پڑیگا (یعنی فقہائے کرام رحمتہ اللہ اسلام کے بتائے ہوئے اُصولوں سے مسئلہ نکالنا پڑیگا)، اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے، عرض کیا: عجب نئے نئے قسم کے سوالات آ رہے ہیں! اب ہم لوگ کیا طریقہ اختیار کریں؟ فرمایا: یہ تو بڑا پرانا سوال ہے۔ ابن ہمام نے ’’فتح القدیر‘‘ کے فلاح صفحے میں، ابن عابدین نے ’’ردالمحتار‘‘ کی فلاں جلد اور فلاں صفحہ پر (لکھا ہے)، ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں، ’’خیریہ‘‘ میں یہ یہ عبارت صاف صاف موجود ہے، اب جو کتابوں کو کھولا تو صفحہ، سطر اور بتائی گئی عبارت میں ایک نقطے کا فرق نہیں۔ اب خداداد فضل و کمال نے علماء کو ہمیشہ حیرت میں رکھا۔ 
صرف ایک ماہ میں حفظ قرآن، جناب سید ایوب علی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ ایک روز اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ بعض ناواقف حضرات میرے نام کے آگے حافظ لکھ دیا کرتے ہیں، حالانکہ میں اس لقب کا اہل نہیں ہوں۔ سید ایوب علی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسی روز سے دور ہ شروع کر دیا جسکا وقت غالباً عشاء کا وضو فرمانے کے بعد سے جماعت قائم ہونے تک مخصوص تھا۔ روزانہ ایک پارہ یاد فرما لیا کرتے تھے، یہاں تک کہ تیسویں روز تیسواں پارہ یاد فرما لیا۔ ایک موقع پر فرمایا کہ میں نے کلام پاک بالترتیب بکوشش یاد کر لیا اور یہ اس لئے کہ ان بندگانِ خدا کا (جو میرے نام کے آگے حافظ لکھ دیا کرتے ہیں) کہنا غلط ثابت نہ ہو۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا سرتاپا نمونہ تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نعتیہ دیوان ’’حدائق بخشش شریف‘‘ اس امر کا شاہد ہے۔     ( جاری ہے )