09:50 am
پھر کیا ہوگا؟

پھر کیا ہوگا؟

09:50 am

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ دن بدن پی ٹی آئی کیلئے ایک بھیانک خواب بنتا جارہا ہے۔ اگرچہ مجھ سمیت بہت سے لوگوں کا اب بھی خیال ہے کہ یہ مارچ کسی طویل دھرنے میں تبدیل نہیں ہوگا مگر جس قسم کے اقدامات حکومت اٹھا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف ان کی نااہلی بلکہ ان کا خوف بھی ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام  آباد کے کنٹینروںسے سیل کر دینا اور تمام تاجروں‘ ہوٹلوں اور  ٹینٹ والوں کو مارچ کرنے والوں کو سہولت دینے سے منع کر دینا غیر قانونی ہی نہیں احمقانہ بھی ہے۔ اسلام آباد کو کنٹینروں سے سیل کرنے والے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ مارچ کرنے والے دارالخلافے میں ٹرکوں پر سوار ہو کر آئیں گے۔ ارے یہ لوگ مذہبی کارکن ہیں یہ پیدل آئیں گے ان کا راستہ کنٹینر نہیں روک سکتے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً بیس پچیس ہزار پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور ہر روز چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں مزید کارکنان آتے جارہے ہیں۔ باقی رہی کراکری اور ٹینٹ والوں کو وارننگ دینے کی بات تو یہ حکم بھی ناقابل عمل ہی ہے۔
دھرنا ہو نہ ہو مارچ اب ضرور ہوتا نظر آرہا ہے۔ اب تک یہ تو واضح نہیں ہوسکا کہ مولانا کو کس کس کی حمایت حاصل ہے مگر ان کے لہجے میں سختی جس طرح بڑھ رہی ہے  اس سے احساس ضرور ہوتا ہے کہ ان پر کسی کا دست شفقت ضرور ہے۔ آج کل وہ فوج کو بھی وارننگ دے رہے ہیں اس سے یہ تاثر تو زائل ہوتا ہے کہ اب عسکری ادارے عمران سے تنگ آکر مولانا کو سپورٹ کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی آفر بھی ٹھکرا دی ہے اور افواہوں کے مطابق پی ٹی آئی کے چند امیر ترین حضرات کی طرف سے آنے والی مالی پیشکشوں کوبھی رد کر دیا ہے۔ اس سے صرف نہیں یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مولانا تنہا نہیں ہیں اور یہ کہ مارچ اب ضرور ہوگا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ مارچ کے ممکنہ نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔اگر ہم اس سوال کو مولانا اور ان کے حامیوں کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس کا پہلا اثر یہ ہوگا کہ عمران خان سے استعفیٰ لے لیا جائے گا یا وہ خود ہی استعفیٰ دے دیں گے۔ عمران خان کی متکبر شخصیت سے یہ توقع تو عبث ہے کہ وہ رضا کارانہ طور پر مستعفی ہو جائیں گے مگر غالباً ان پر اتنا پریشر بڑھ جائے گا کہ انہیں جانا ہی پڑے گا۔ اب اگر صرف عمران خان منظر نامے سے ہٹے ہیں۔ عمران خان کے استعفیٰ کے ساتھ ہی ن لیگ اور پی پی پی کی قیادت کے خلاف چل رہے تمام مقدمات رک جائیں گے۔ وہ واپس نہ بھی لئے جائیں تو بھی تقریباً سب کی ضمانتیں ہو جائیں گی۔ اس سے ملک کی سیاسی صورتحال بہت بدل جائے گی۔ سیاسی گروپ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے نظر آئیں گے۔ پہلے یہ نظر آرہا تھا کہ ن لیگ ٹوٹنے والی ہے پھر لوگوں کو پی ٹی آئی کے ٹکڑے ہوتے نظر آئیں گے۔ ویسے بھی اگر عمران خان کو سیاست سے خارج کیا جاتا ہے تو پی ٹی آئی تقریباً بے وقعت ہو جائے گی جو نوجوان اسے اب سپورٹ کر رہے ہیں وہ عمران کے علاوہ کسی اور کو اپنا لیڈر نہیں مانیں گے۔
عمران خان اگر رضا کارانہ طور پر نہیں جاتے تو ان کی نااہلی کا بھی انتظام کیا جاسکتا ہے مگر اس صورت میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ کوئی کمزور وزیراعظم عوامی ردعمل کو کنٹرول نہیں کر سکے گا  اور پھر ایک دو سال بعد آج والی صورتحال پھر کھڑی ہو جائے گی۔ ہم نواز شریف کو نااہل قرار دے کر دیکھ چکے ہیں۔ جیل میں بیٹھ کر بھی ملکی سیاست پر ان کی گرفت کمزور نہیں ہو رہی ہے۔
اگرچہ اس بات کا امکان کم ہے مگر ایک حل یہ بھی ہے کہ عمران خان کم از کم قومی اسمبلی توڑ دیں اور ایک عبوری حکومت قائم کی جائے۔ عمران خان یہ سوچ سکتے ہیں کہ اگر نئے انتخابات ہوتے ہیں تو انہیں مظلومیت کا ڈھول پیٹ کر زیادہ سیٹیں مل سکتی ہیں مگر عملاً ایسا نہیں ہوگا۔ اب عوامی جذبات مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے پی ٹی آئی کے خلاف ہوچکے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ جیلوں میں بند ن لیگ کے رہنما مظلومیت کا ووٹ لے جائیں۔ لیکن اس بات کا انحصار بھی اس بات پر ہے کہ انتخابات کتنے منصفانہ ہوں گے۔ اگر سابقہ تجربے سے کوئی سبق سیکھاگیا ہے تو ممکن ہے کہ ن لیگ کو جیتنے کی اجازت مل جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سیاسی منظر اور یکسر بدل جائے گا لیکن درحقیقت معیشت سدھرنے میں خاصا وقت لگے گا۔
کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مارشل لاء لگ سکتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح عوامی جذبات آج کل بھڑکے ہوئے ہیں۔ اس میں فوج کبھی بھی مارشل لاء نہیں لگائے گی اور پھر فوج کے پاس کون سی اقتصادی ٹیم ہے جو ملک کی معیشت کو سنبھال سکے لہٰذا عمران خان اگر سمجھتے  ہیں موجودہ حالات میں فوج ان کی حمایت جاری رکھے گی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔
ایک حل یہ بھی تجویز کیا جارہا ہے کہ تمام سیاست دانوں کو ایک طرف کرکے ٹیکنوکریٹس کی حکومت لائی جائے جو دو تین سالوں میں اکانومی کو ٹھیک کرے اور پھر اسکے بعد انتخابات کروائے جائیں۔ یہ بھی خاصا مشکوک آپشن ہے۔ اگر ایسے ٹیکنوکریٹس موجود ہیں تو ان کی خدمات سے پی ٹی آئی ہی کیوں فائدہ نہیں اٹھاتی؟ ماضی میں کچھ نیکٹوکریٹس کی حکومت والا تجربہ کوئی اتنا خوشگوار نہیں رہا۔
آخر میں میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ مولانا کا آزادی مارچ اگر اپنے تئیں کامیاب بھی ہو جائے  تو بھی ملک کے سیاسی اور اقتصادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم عمران خان کی حکومت کو مزید چار سال نہیں دے سکتے۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ حکومت اچھی طرح نہیں چلا سکتے۔ دوسری بدقسمتی یہ ہے کہ اگر عمران خان چاہتے ہیں  اور اسمبلی قائم رہتی ہے تو نیا وزیراعظم بہت کمزور ہوگا اور اگر اسمبلی تحلیل ہوتی ہے تو غیر یقینی کیفیت میں  مزید اضافہ ہوگا۔ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ ہمارے مسائل کا کوئی فوری حل موجود نہیں ہے ہمیں بہت تحمل اور تدبر کی ضرورت ہے۔