09:53 am
لاتوں کا بھوت اور سفید پرچم

لاتوں کا بھوت اور سفید پرچم

09:53 am

سنا ہے کہ درندہ صفت بھارتی فوج نے پاک فوج کی دندان شکن جوابی کارروائی کے بعد سفید پرچم لہرا کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی اور خبر یہ ہے کہ 9 بھارتی سورمائوں کو جہنم واصل کرکے پاک فوج نے اپنی دھاک بٹھا دی۔ ہم جیسے طالبعلموں کا تو پہلے دن سے ہی یہ موقف ہے کہ بھار ت لاتوں کا بھوت ہے اس ’’بھوت‘‘ کی جنگی خارش ختم کرنے کے لئے پاک فوج کو ایک دفعہ تو جہادی  یلغار کرنا ہی پڑے گی۔
 
جب تک نریندر مودی جیسے بدمعاش کے منہ پر پوری طاقت سے جہادی تھپڑ نہیں لگے گا تب تک بھارتی فوج کی جنگی خارش ختم نہیں ہوگی۔ یہ بھارتی فوج کس قدر ’’پاجی‘‘ اور بزدل ہے کہ کشمیر کی معصوم بچیوں پر ستم ڈھانے سے تو باز نہیں آتی ، کشمیر کی مائوں کے سامنے ان کے جگر گوشوں کو گولیاں مارنے سے تو پیچھے نہیں ہٹتی … لیکن جب واسطہ پڑتا ہے پاکستان کے فوجی جوانوں سے تو پھر باں ،باں کرتے ہوئے سفید پرچم لہرانے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔
لائن آف کنٹرول کے ارد گرد سویلین آبادیوں کو نشانہ بناکر بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کرنا بھارتی فوج نے اپنی عادت بنالی ہے۔ بھارتی فوج کو نہ جنگ بندی معاہدے کی پرواہ ہے ، نہ بے گناہ انسانوں کا خون  بہانے سے ڈر لگتا ہے اور نہ ہی بچوں اور عورتوں پر گولے پھینکتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ایسی بے شرم، ڈھیٹ اور کمینی بھارتی فوج  کا علاج صرف اور صرف جہاد ہے۔
گزشتہ دو روز قبل بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے مطابق ’’بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے ارد گرد   جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا، بھارتی فائرنگ  سے لانس نائیک زاہد سمیت5شہری شہید ہوگئے جبکہ پاک فوج کے دو سپاہی اور 5 شہری زخمی بھی ہوئے۔
ترجمان کے مطابق پاک فوج نے بھارتی فائرنگ کا موثر جواب دیا … جس کے نتیجے میں 9 بھارتی فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔ دشمن کے دو بنکرز مکمل طور پر تباہ کر دیئے گئے۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارت دہشت گرد ی کے مبینہ کیمپوں کی آڑ میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاک فوج لائن آف کنٹرول کے قریب آباد شہریوں کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیتی رہے گی، بھارت کو کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
میجر جنر ل آصف غفور کا یہ عزم حوصلہ افزاء ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک پاکستان کے شہری بھارت کی درندگی کانشانہ بنتے رہیں گے؟ کب تک مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھارتی ظلم و جبر کا شکار بنے رہیں گے۔ آج79 دن ہوچکے ہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے لگائے ہوئے ہوئے کرفیو کو،79 دنوں سے کشمیر کے بازار، سکول، کالج ، یونیورسٹیاں اور دفاتر بند پڑے ہیں۔ گلی محلوں میں بھارتی فوج کے درندے دندناتے ہوئے گھوم رہے ہیں۔
کشمیر کی خواتین کو مارا پیٹا جارہا ہے ، بدمعاش نریندر مودی کی اس خوفناک دہشت گردی کے مقابلے میں پاکستانی وزیراعظم امن کی دہائیاں دے رہے ہیں، دنیا کو بتا رہے ہیں کہ اگر بھارت کشمیریوں پر ظلم سے باز نہ آیا تو دو ایٹمی ملکوں کے درمیان خوفناک جنگ چھڑ جائے گی اور پھر جنگ کے شعلوں سے عالمی طاقتیں بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گی لیکن وزیراعظم عمران خان کی ان دہائیوں پر کوئی کان دھرنے کے لئے ہی تیار نہیں ہے۔ جس امریکہ نے عمران خان کو ایران ، سعودی عرب مصالحت کا کردار سونپا ہے وہ امریکہ بھی کشمیری قوم کو بھارتی ظلم سے نجا ت دلانے کے لئے تیار نہیں ہے۔
یہ بات کوئی بھی ذی شعور تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اگر امریکہ کشمیریوں پر ظلم روکنا چاہے تو نریندر مودی کی کیا مجال کہ وہ اس ظلم کو بند نہ کرے؟ لیکن عملاً صورت حال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوست نریندر مودی کے بھارت میں گائے ذبح کرنے کے شبہے میں انسانوں کو قتل کرنا معمول بن چکا ہے۔
بھارت کے شہروں میں آر ایس ایس کے دجالی غنڈے چوک چوراہوں پر خواتین کو صرف ’’مسلمان‘‘  ہونے کے جرم میں بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر اس تشدد کی وڈیو بناکر سوشل میڈیا پر وائرل کی جاتی ہے۔
جب بھارت کی سرزمین مسلمانوں کے لئے جہنم بنا دی جائے، جب مقبوضہ کشمیر میں79 دنوں سے کرفیو لگا ہوا ہو اور د ہشت گردی کی اس خوفناک صورت حال پر نہ امریکہ کے کانوں پر جون رینگے اور نہ اقوام متحدہ کے کانوں پر اور بھارت کی بدمعاشی اس قدر عروج پر چلی جائے کہ وہ آئے روز لائن آف کنٹرول کو روندتے ہوئے بے گناہ پاکستانیوں کی لاشیں گرانے سے بھی دریغ نہ کرے تو پھر آخری آپشن ’’جہاد‘‘ ہی رہ جاتا ہے۔ ’’جہاد‘‘ پاک فوج کا ماٹو بھی ہے ، ’’جہاد‘‘ اللہ کا حکم بھی ہے ، ’’جہاد‘‘ رسول اکرم ﷺ کی سنت بھی ہے۔’’جہاد‘‘ سیدنا ابوبکر صدیقؓ ، سیدنا  فاروق اعظمؓ، سیدنا عثمان غنیؓ، خلیفہ چہارم سیدنا علی المرتضیؓ سمیت ایک لاکھ24 ہزار صحابہ کرامؓ کا اسوہ حسنہ بھی ہے۔ جب تک بھارت کو جہادی جواب نہیں ملے گا، بھارت اسی طرح پاکستان کو مٹانے کے خواب دیکھتا رہے گا۔ کسی کو اچھا لگے یا برا  ، لیکن یہ خاکسار بار بار حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کی توجہ اس طرف مبذول کرواتا رہے گا کہ بھارت ’’امن‘‘ کی بات نہیں سمجھتا تو اسے جہاد کے ذریعے ’’امن‘‘ سکھانے کی کوشش کی جائے۔

 

تازہ ترین خبریں