09:53 am
آزاد کشمیر پر بھارت کا حملہ

آزاد کشمیر پر بھارت کا حملہ

09:53 am

٭کشمیر میں کنٹرول لائن پر پاکستان اور بھارت کی شدید فوجی جھڑپ میں دونوں طرف بھاری جانی نقصان اور تباہی ہوئی۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر پہل کرنے اور بھاری توپ خانہ استعمال کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔ بھارتی فوج کے چیف جنرل راوت بپن نے تسلیم کیا ہے کہ بھارتی فوج نے آزاد کشمیر پر بوفورس توپیں استعمال کیں اور مارٹر گولے برسائے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی گولہ باری سے دو فوجی جوان اور پانچ شہری شہید ہوئے ہیں۔ جب کہ پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی سے 9 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، دو بھارتی مورچے بھی مکمل طور پر تباہ کر دیئے گئے، جب کہ بھارتی گولہ باری سے آزادکشمیر میںکچھ شہری عمارتیں بھی ملبہ کا ڈھیر بن گئیں۔ بھارت نے دعویٰ کیا (زی ٹی وی) کہ پاکستان کی فوج نے ہفتہ کی رات گیارہ بجے رات فائرنگ شروع کی اور اس کے سائے میں 20,18 دہشت گردوں نے مقبوضہ کشمیر میں داخل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے جواب میں بھارتی فوج نے ان دہشت گردوں کو ہلاک اور گولہ باری کر کے جورا، شاہ کوٹ اور نیلم وادی کے علاقے میں دہشت گردوں کی تربیت کے دو کیمپ تباہ کر دیئے۔ آئی ایس پی آر نے اس دعوے کو بالکل غلط قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں کوئی ایسا تربیتی کیمپ نہیں ہے، غیر ملکی سفارت خانے آزادنہ طور پر آزاد کشمیر کا دورہ کر کے بھارتی دعوے کی حقیقت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارتی فوج نے اپنی لاشیں اٹھانے کے لئے سفید جھنڈا لہرا کر جنگ روکنے کی اپیل کی تھی۔ بھارتی حکومت نے یہ کارروائی عین اس موقع پر کی جب اگلے روز (پیر) بھارتی صوبوں ہریانہ اور مہارا شٹر میں عام انتخابات ہونے والے تھے۔ اس روز بھارتی اخبارات اور ٹیلی ویژنوں پر پاکستان کے خلاف بھارت کی ’’زبردست‘‘ فوجی کامیابی کو بہت اچھالا گیا۔ اس بات کو بھی نمایاں کیا گیا کہ پاکستانی فوج نے اس سال 10 اکتوبر تک 2310 سرحدی خلاف ورزیاں کی ہیں۔
 
٭پاکستان نے گوروبابانانک کے 550 ویںجنم دن کے موقع پر بھارتی پنجاب اورپاکستان کے درمیان کرتارپور راہداری کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میںتمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں تاہم بھارتی حکومت نے ایک مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ پاکستان نے اس راہداری کے قیام کے لئے بھارت سے چار کلو میٹر کے فاصلہ پر سخت حفاظتی انتظامات کے تحت پختہ سڑک، بہت سی رہائشی عمارتیں، تالاب، بیک وقت 1500 افراد کے کھانے وغیرہ اور دریائے راوی پرطویل پل بنانے پر اربوں کے اخراجات کئے ہیں۔ اس بارے میں گورونانک کی سمادھی تک آنے اور مختلف سہولتوں کے استعمال کے لئے 20 ڈالر فی کس فیس مقرر کی ہے۔ بھارتی حکومت نے اس پر اعتراض کر دیا اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دنیا بھر میں عجائب گھروں، اہم عبادت گاہوں اور تاریخی عمارات دیکھنے کے لئے جگہ جگہ فیس وصول کی جاتی ہے۔ کرتار پور راہداری پر فیس بھی عام بات ہے البتہ افہام و تفہیم سے اس میں مناسب کمی کی جا سکتی ہے تا کہ عام سکھ عوام بھی آسانی کے ساتھ آ سکیں۔ فی الحال 5000 یاتریوں کی بیک وقت آمد کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
٭وزیراعظم عمران خان کے کراچی کے دورے کے ساتھ اس بات کی وضاحت ضروری سمجھی گئی کہ اس دورے کے دوران وزیراعظم گورنر سندھ کے علاوہ اپنے اتحادیوں،ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کے رہنمائوں سے ملاقاتیں کریں گے، سندھ کے وزیراعلیٰ سے کوئی ملاقات نہیں ہو گی۔ البتہ یہ اقدام ضرور کیا گیا کہ سندھ حکومت کو وزیراعظم کے دورے کے پروگرام کی تفصیل بھیج دی گئی تا کہ سکیورٹی وغیرہ کا انتظام کیا جائے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وزیراعظم صاحب کے طرز احساس میں ابھی تک پوراجمہوری پن پیدا ہونا نہیں ہوا۔ انسان جتنا اونچا ہوتا جائے، اسے اتنے ہی بڑے ظرف کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ سنجیدہ مدبر حکمران کے طور پر، لاکھ اختلافات کے باوجود سندھ کے دورے پر سندھ حکومت کے نمائندوں سے بھی رابطہ کرنا چاہئے تھا۔ وہ صرف اسلام آباد کے نہیں، سندھ کے بھی وزیراعظم ہیں۔ حَب ڈیم پر بجلی گھر کے افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کو بھی ساتھ کھنا چاہئے تھا۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا! سندھ اسی ملک کا حصہ ہے اس کی نمائندگی کا معاملہ تھا،اہم قومی سیاست تنگ دلی کی بجائے وسعت ظرف کا تقاضا کرتی ہے۔
٭مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن کا وسیع اتحاد قائم کرنے میں اسی طرح پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس طرح کسی کو ایک کلو مینڈک تولنے پڑ جائیں! بڑی مشکل سے ن لیگ کے کاغذوں میں صدر، شہباز شریف کو آزادی مارچ میں شریک کیا گیا یقین دہانی پھیل گئی کہ وہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ آزادی مارچ کی قیادت کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی اے این پی نے بھی مارچ میں مشروط شریک ہونے کا اعلان کر دیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی گرفتاری کی صورت میں اے این پی کے صدر اسفند یار خان  مارچ کی قیادت کریں گے اس پر ن لیگ بھڑک اٹھی ہے۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول کا اعلان آ گیا کہ پارٹی مارچ کی حد تک ساتھ دے گی مگر دھرنے میں شریک نہیں ہو گی! شہباز شریف پہلے ہی مولانا کا ساتھ دینے اور انتہا پسندانہ عمل کے خلاف تھے۔ اسفند یار خاںکے بیان پر گرم ہو گئے اور مولانا پر واضح کر دیا ہے کہ آزادی مارچ میں بلاول ذاتی طور پر آئیں گے تو وہ مارچ میں شریک ہوں گے ورنہ نہیں، اس صورت میں احسن اقبال ن لیگ کی نمائندگی کریںگے۔ (کمر کی تکلیف بڑی آسانی سے بحال ہو سکتی ہے!)
٭ایک خبر: آزادی مارچ کے شرکاء کو ہدائت کی گئی ہے کہ وہ تبلیغی جماعت کے اجتماعات کی طرح بستر اور خوراک کے علاوہ گیس کا سلنڈر، چولہے اور کھانا پکانے کا سامان (گھی، دالیں، سبزیاں!) بھی ساتھ لائیں گے۔ ظاہر ہے یہ بھاری سامان پیپلزپارٹی، اے این پی اور ن لیگ کے شرکاء کو بھی لانا پڑے گا! ورنہ کھانا کیسے ملے گا؟
٭کراچی میں ڈینگی اور ایڈز کی طرح کتے بھی بے قابو ہو گئے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق کراچی کے ہسپتالوں میں روزانہ کتوں کے کاٹے تقریباً 20 زخمی آ رہے ہیں۔ سندھ کی حکومت اعلان کر چکی ہے کہ اس کے ہسپتالوں میں کتے کے کاٹے کے علاج والی ویکسین نہیں ہے۔ اب کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ویکسین نہیں بھیجی! سندھ پر پیپلزپارٹی 11 سال سے حکمران ہے!
٭ایک خبر: لاہور ایئرپورٹ کے لائونج میں ایک چوہا نکل آیا۔ مسافر، خاص طور پرخواتین اوربچے چیخنے لگے۔ انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں۔ کمانڈوز نے بڑی مشکل سے اسے گھیر کر مار ڈالا۔ اب تحقیقات ہو رہی ہیں کہ چوہا ہوائی اڈے کے لائونج میں کیسے پہنچا؟ چوہا دنیا کی عجیب مخلوق ہے۔  ہوائی جہازوں کے اندر پہنچ جاتی ہے۔ دنیا بھر میں چوہوں کی شکل والی تقریباً 200 اقسام ملتی ہیں۔ عام چوہے بھورے، کالے اور سفید ہوتے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں لاکھوں ٹن اناج کھا جاتے ہیںبڑے بڑے ڈیموں کی دیواروں میں بل بنا لیتے ہیں۔ہر ملک میں انہیں تلف کرنے کی بھرپور کوشش ہوتی ہیں مگر یہ مخلوق ختم نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ ہے کہ چوہیا ایک جھول میں تقریباً چھ بچے دیتی ہے۔ ہر بچہ چھ ہفتے میں جوان ہو جاتا ہے اور ہرنوزائیدہ چوہیا بھی چھ ماہ میں مزید چھ بچے دے دیتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم میں چوہے صرف ہندوستان میں ہوتے تھے۔بحری جہازوں کے ذریعے دوسرے ملکوں میں بھی پہنچ گئے۔ چوہے بہت سی بیماریاںپھیلاتے ہیں۔ امریکہ سپر پاور ہے اس کے چوہے بھی سُپر قسم کے ہیں۔ امریکی چوہا 32 اِنچ (ڈھائی فٹ سے زیادہ) لمبا اور ڈیڑھ کلو تک وزنی ہو سکتا ہے (امریکی، گلہری بھی بلی کے قد برابر ہوتی ہے) چوہوں کی داستانیں بہت دلچسپ ہیں۔ ایک پرانی داستان کہ چوہا بلی سے ڈرتا ہے، بلی کتے سے ڈرتی ہے، کتا مالک سے، مالک مالکن سے اور مالکن چوہے سے ڈرتی ہے، پس ثابت ہوا،زمین گول ہے۔