08:08 am
تذکرہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان

تذکرہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان

08:08 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
  سید ایوب علی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسی روز سے دور ہ شروع کر دیا جسکا وقت غالباً عشاء کا وضو فرمانے کے بعد سے جماعت قائم ہونے تک مخصوص تھا۔ روزانہ ایک پارہ یاد فرما لیا کرتے تھے، یہاں تک کہ تیسویں روز تیسواں پارہ یاد فرما لیا۔ ایک موقع پر فرمایا کہ میں نے کلام پاک بالترتیب بکوشش یاد کر لیا اور یہ اس لئے کہ ان بندگانِ خدا کا (جو میرے نام کے آگے حافظ لکھ دیا کرتے ہیں) کہنا غلط ثابت نہ ہو۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا سرتاپا نمونہ تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نعتیہ دیوان ’’حدائق بخشش شریف‘‘ اس امر کا شاہد ہے۔     
 
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نوکِ قلم بلکہ گہرائی قلب سے نکلا ہوا ہر مصرعہ مصطفی جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بے پایاں عقیدت و محبت کی شہادت دیتا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کبھی کسی دنیوی تاجدار کی خوشامد کیلئے قصیدہ نہیں لکھا اس لئے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضور تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و غلامی کو دل و جان سے قبول کر لیا تھا اور اس میں مرتبہ ٔ کمال کو پہنچے ہوئے تھے، اس کا اظہار آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک شعر میں اس طرح فرمایا۔
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
الحمدللہ میں دنیا سے مسلمان گیا
حکام کی خوشامد سے اجتناب: ایک مرتبہ ریاست نان پارہ (ضلع بہرائچ یوپی ہند) کے نواب کی مدح (یعنی تعریف) میں شعرا نے قصائد لکھے۔ کچھ لوگوں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بھی گزارش کی کہ حضرت آپ بھی نواب صاحب کی مدح (تعریف) میں کوئی قصیدہ لکھ دیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے جواب میں ایک نعت شریف لکھی جس کا مطلع یہ ہے۔
وہ کمالِ حسن حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دُور ہے یہی شمع ہے کہ دُھواں نہیں
بیداری میں دیدارِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم:اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دوسری بار حج کیلئے حاضر ہوئے تو مدینہ منورہ میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی آرزو لئے روضہ اطہر کے سامنے دیر تک صلوٰۃ و سلام پڑھتے رہے مگر پہلی رات قسمت میں یہ سعادت نہ تھی، اس موقع پر وہ معروف نعتیہ غزل لکھی جس کے مطلع میں دامن رحمت سے وابستگی کی امید دکھائی ہے۔ 
وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
پھانسی گھر سے اپنے گھر تک، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے ایک مرید امجد علی خان قادری رضوی شکار کیلئے گئے، انہوں نے جب شکار پر گولی چلائی تو نشانہ خطا ہو گیا اور گولی کسی راہگیر کو لگی جس سے وہ ہلاک ہو گیا، پولیس نے گرفتار کر لیا، کورٹ میں قتل ثابت ہو گیا اور پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔ عزیز و اقربا تاریخ سے پہلے روتے ہوئے ملاقات کیلئے پہنچے تو امجد علی صاحب کہنے لگے: آپ سب مطمئن رہئے، مجھے پھانسی نہیں ہو سکتی کیونکہ میرے پیرومرشد سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خواب میں آ کر مجھے یہ بشارت دیدی ہے: ’’ہم نے آپ کو چھوڑ دیا‘‘۔ رو دھو کر لوگ چلے گئے۔ پھانسی کی تاریخ والے روز مامتا کی ماری ماں روتی ہوئی اپنے لال کا آخری دیدار کرنے پہنچی۔ سبحان اللہ سبحان اللہ، اپنے مرشد پر اعتقاد ہو تو ایسا! ماں کی خدمت میں بھی بڑے اعتماد سے عرض کر دی: ’’ماں آپ رنجیدہ نہ ہوں، گھر جائیے، ان شاء اللہ، آج کا ناشتہ میں گھر آ کر ہی کروں گا‘‘۔ والدہ کے جانے کے بعد امجد علی کو پھانسی کے تختے پر لایا گیا، گلے میں پھندا ڈالنے سے پہلے حسب دستور جب آخری آرزو پوچھی گئی تو کہنے لگے: ’’کیا کرو گے پوچھ کر؟ ابھی میرا وقت نہیں آیا‘‘۔ وہ لوگ سمجھے کہ موت کی دہشت سے دماغ فیل ہو گیا ہے، چنانچہ پھانسی گر نے پھندا گلے میں پہنا دیا کہ تار آ گیاکہ  ملکہ وکٹوریہ کی تاجپوشی کی خوشی میں اتنے قاتل اور اتنے قیدی چھوڑ دئیے جائیںے۔ فوراً پھانسی کا پھندا نکال کر ان کو تختے سے اتار کر رہا کر دیا گیا۔ ادھر گھر پر کہرام مچا ہوا تھا اور لاش لانے کا انتظام ہو رہا تھا کہ امجد علی قادری رضوی صاحب پھانسی گھر سے سیدھے اپنے گھر آ پہنچے اور کہنے لگے: ’’ناشتہ لائیے! میں نے کہہ جو دیا تھا کہ ان شاء اللہ عزوجل ناشتہ گھر کر آکروں گا‘‘۔
بارش برسنے لگی: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کی خدمت میں ایک نجومی حاضر ہوا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے فرمایا: کہئے، آپ کے حساب سے بارش کب آنی چاہئے؟ اس نے زائچہ بنا کر کہا: ’’اس ماہ میں پانی نہیں آئندہ ماہ میں ہو گی‘‘۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ عزوجل ہر بات پر قادر ہے، وہ چاہے تو آج ہی بارش برسا دے۔ آپ ستاروں کو دیکھ رہے ہیں اور میں ستاروں کے ساتھ ساتھ ستارے بنانے والے کی قدرت کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ دیوار پر گھڑی لگی ہوئی تھی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نجومی سے فرمایا: کتنے بجے ہیں؟ عرض کی: سوا گیارہ۔ فرمایا: بارہ بجنے میں کتنی دیر ہے؟ عرض کی: پون گھنٹہ۔ فرمایا: پون گھنٹے سے قبل بارہ بج سکتے ہیں یا نہیں؟ عرض کی: نہیں۔ یہ سن کر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اٹھے اور گھڑی کی سوئی گھما دی، فوراً ٹن ٹن بارہ بجنے لگے۔ نجومی سے فرمایا: آپ تو کہتے تھے کہ پون گھنٹے سے قبل بارہ بج ہی نہیں سکتے، تو اب کیسے بج گئے؟ عرض کی: آپ نے سوئی گھما دی ورنہ اپنی رفتار سے تو پون گھنٹے کے بعد ہی بارہ بجتے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: اللہ عزوجل قادرِ مطلق ہے کہ جس ستارے کو جس وقت چاہے جہاں چاہے پہنچا دے۔ آپ آئندہ ماہ بارش ہونے کا کہہ رہے ہیں اور میرا رب عزوجل چاہے تو آج اور ابھی بارش ہونے لگے۔ زبانِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اتنا نکلنا تھا کہ چاروں طرف سے گھنگھور گھٹا چھا گئی اور جھوم جھوم کر بارش برسنے لگی۔ 
تصانیف:  اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مختلف عنوانات پر کم و بیش ایک ہزار کتابیں لکھی ہیں۔ یوں تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے 1286ھ سے 1340ھ تک لاکھوں فتوے دیئے ہونگے لیکن افسوس کہ سب نقل نہ کئے جا سکے، جو نقل کر لئے گئے تھے ان کا نام ’’العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ‘‘ رکھا گیا۔ فتاویٰ رضویہ (مخرجہ) کی 30 جلدیں ہیں جن کے کل صفحات 21656، کل سوالات و جوابات 6847 اور کل رسائل: 206 ہیں۔ 
ترجمہ قرآن کریم:اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قرآنِ کریم کا ترجمہ کیا جو اُردو کے موجودہ تراجم میں سب پر فائق ہے۔ ترجمہ کا نام ’’کنزالایمان‘‘ ہے جس پر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلیفہ حضرتِ صدرالافاضل مولانا سید محمدنعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بنامِ ’خزائن العرفان‘ اور مفسر شہیر حکیم الامت حضرتِ مفتی احمدیار خان علیہ رحمۃ الحنان نے ’نورالعرفان‘ کے نام سے حاشیہ لکھا ہے۔
وفاتِ حسرت آیات: اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی وفات سے 4ماہ 22دن پہلے خود اپنے وصال کی خبر دیکر پارہ 29 سورۃ الدھر کی آیت نمبر15 سے سالِ انتقال کا استخراج فرما دیا تھا۔ اس آیت شریفہ کے علم ابجد کے حساب سے 1340 عدد بنتے ہیں اور یہی ہجری سال کے اعتبار سے سن وفات ہے۔ وہ آیت مبارکہ یہ ہے: ترجمہ : ’’اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دَور ہو گا‘‘۔ (پ29 سورۃ الدھر، 15) 
25 صفرالمظفر 1340ھ بمطابق28 اکتوبر 1921ء کو جمعہ  المبارک کے دن ہندوستان کے وقت کے مطابق 2بجکر 38 منٹ اور (پاکستانی وقت کے مطابق 2بجکر 8منٹ) پر عین اذانِ جمعہ کے وقت اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت، ولی نعمت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانۂ شمع رسالت، مجدد دین و ملت، حامی سنت، ماحی بدعت، عالم شریعت، پیر طریقت، باعث خبروبرکت، حضرت علامہ مولانا الحاج الحافظ القاری شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار پرانوار مدینۃ المرشد بریلی شریف میں آج بھی زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔