08:10 am
’’ تاریخ کاجبر‘‘

’’ تاریخ کاجبر‘‘

08:10 am

ایک ہزارایک راتوں تک کہانی کہنے کافن عربوں نے ایجاد کیا۔وہ فن جس کی معراج الف لیلیٰ کی داستان ہے۔کہانی میں سے کہانی نکلتی ہے اور کردار سے کردارجنم لیتے ہیںایسے کردار جوآج بھی زندہ ہیں اورپوری دنیاکی ضرب المثل اورکہاوتوں میں نظرآتے ہیں۔الف لیلی کایہ داستانی ادب اس تہذیب کاعکاس ہے جواپنے زمانے کے سب سے متمدن شہر بغداد میں جلوہ گر تھی عباسیوں کے سنہرے دورکی یادگار۔الف لیلیٰ کی یہ کہانیاں ایک بادشاہ شہریارکے ایک فیصلے سے جنم لیتی ہیں شہریار کایہ خیال تھاکہ دنیا کی تمام عورتیں بے وفا اور ناقابل اعتبارہیں۔یوں وہ اپنی شادی کی پہلی رات ہی اپنی بیوی کوقتل کردیتایہ سلسلہ تین سال تک چلتا رہتاہے۔بادشاہ کاایک وزیرجواس کیلئے لڑکیاں ڈھونڈتاہے تاکہ وہ ان سے شادی کرسکے لیکن ایک دن وہ بے بس ہوجاتاہے اوراسے اس ظالمانہ کارروائی کیلئے کوئی لڑکی نہیں ملتی۔
اپنی اس پریشانی کاذکروہ اپنی بیٹی شہرزارسے کرتاہے۔شہرزاراپنے باپ کواس پریشانی سے بچانے کیلئے کہانی سنانے پر رضامندہوجاتی ہے اورپھرپہلی رات وہ ایک بیل اورگدھے کی کہانی شروع کرتی ہے اوراس میں سے دوسری کہانی جنم لیتی ہے اورصبح کی اذان ہوجاتی ہے اوراس کی جان بچ جاتی ہے۔یوں وہ ایک ہزارایک راتوں تک کہانی سے کہانی نکال کر سناتی رہتی ہے جن میں علی باباچالیس چورسے لیکر چہاردرویش سوتے جاگنے کی کہانی سے لیکرالہ دین اورطلمساتی چراغ تک سب کاذکرآتاہے۔کردارجنم لیتے ہیں اور پھر دنیاکے ہرمعاشرے تہذیب وتمدن تک پھیل جاتے ہیں۔ ان کہانیوں کے کرداروں میں سے ایک کردار سندباد کا بھی ہے۔
ایک غریب لکڑہاراجواپنے اللہ کی مہربانیوں سے بہت بڑاتاجربن جاتاہے جس کے جہازسات سمندرہروقت سفر میں رہتے ہیں جواپنے معرکوں اور کارناموں کی وجہ سے پورے بغدادمیں مشہورہے۔ سندبادکے سفر کی کہانیاں دنیابھرکے ادب کانچوڑ ہیں۔دنیاکی شائدہی کوئی ایسی زبان ہوجس میں ان کہانیوں کاترجمہ نہ ہواہو۔سندبادکے کردارپرہالی وڈ میں فلمیں بننے کاآغاز 1940ء میں ہواجب اس پرپہلی فلم بغدادکاچوربنی اورپھراس پرطرح طرح کی کردارنگاریاں کی گئیں۔کارٹون فلمیں بنیں۔بچوں کیلئے بے شمارکہانیاں تخلیق کی گئیںاسے پوپائی دی سیلرسے ملایاگیا۔جادوئی قالین پراڑایاگیااسے ملکوں ملکوں پھرایا گیالیکن ان تمام فلموںکہانیوںکارٹونوں میں کبھی بھی اس سے اس کا شہربغداداس کا مذہب اسلام اس کارسولﷺاوراس کا خلیفہ ہارون الرشیداس سے نہیں چھیناگیااسے وضح وقطع میں عرب ہی رہنے دیا گیااوراسے مسلمان ہی بتایا گیا۔
 گزشتہ کئی سالوں سے ہالی وڈ اوردوسرے مغربی ممالک بچوں کیلئے جوفلمیں بنارہے ہیںان فلموں میں مسلمانوں سے ان کی شناخت اورپہچان کے ہرحوالے کوچھیننے والوں نے فلموں میں سندباد کویونان کے شہرسارائیکورس کارہنے والا بتایا ہے جووہاں کے دیوی دیوتاؤں کومانتاہے اوراسی شہرکے حاکموں اوررئیس گھرانوں میں اٹھتابیٹھتاہے۔جن لوگوں کی مسلمانوں سے نفرت کایہ عالم ہوکہ وہ قصے کہانیوں میںخیالی اور ماورائی کرداروں میں جوصدیوں سے لوگوں کے گھروں میں نسل درنسل چلے آرہے ہوںمسلمان کانام ان کے شہروں کاتذکرہ ان کی بتائی ہوئی حمداور شکر کا ذکر سننابرداشت نہ کریںجن کی پوری توانائی اس بات پرخرچ ہورہی ہوکہ مسلمانوں کے نصابِ تعلیم سے ان کے کھیل کودسے ان کی زندگی کے خوابوں سے وہ تمام ہیروکھرچ کرپھینک دیں جوانہیں ایک ملت ِاسلامیہ کے رشتے میں پروتے ہیںوہ کیسے برداشت کرسکتے تھے کہ علی باباچالیس چور،الہ دین یا سند باد اس بغدادکا ذکرکرے جہاں ہرروزان کے فوجیوں کو خاک چاٹنا پڑی،امریکہ اورمغرب کے کسی ہوائی اڈے پررات کے سناٹے میں خاموشی کے ساتھ ان فوجیوں کے تابوت اتار کر ان کے لواحقین کواس شرط کے ساتھ حوالے کئے گئے کہ اس کی کوئی تشہیرنہ ہونے پائے۔
 وہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ لوگ امن وسلامتی کے ضامن دین کی بات کریں جسے وہ پچھلے سوسال کے پروپیگنڈے سے دہشت گردثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس سب کے باوجودبھی مجھے بالکل کوئی حیرت نہیں ہوتی اس لئے کہ یورپ اورامریکہ نے توایساکرناہی تھا۔مجھے حیرت صرف اپنے لوگوں پر ہے جوگنگ ہیںچپ ہیں۔سندباد ہماری تاریخ تھی اس کا نام ونسب بدل دیاگیا۔غیرت مندقومیں نام ونسب کی گالیاں نہیں سناکرتیں لیکن کمال ہے ہمارے حکمرانوں کی غیرت نجانے کہاں کھوگئی ہے کہ جو ہمارے ساتھ یہ سلوک کرتاہے ہم اسی کے سامنے سجدہ ریزہوتے ہیں۔ اپنی وفاداریوں کااعلان کرتے ہیں اوردنیابھرکے میڈیاکے سامنے یہ کہتے ہوئے ذرابھی شرم محسوس نہیں کرتے کہ امریکہ کشمیر میں ثالثی کروائے۔
ہوسکتا ہے کہ کل تک ہم یہ بھی کہہ دیں کہ الف لیلیٰ کاخالق توشکاگومیں پیداہواتھا۔ہیروارث شاہ کے رومانوی کردارتواسکاٹ لینڈ میں پیداہوئے تھے اوراس کی تاریخ آکسفورڈ یونیورسٹی میں لکھی گئی،سسی پنوں ایریزونا کے صحراؤں کی داستان ہے جوہارورڈیونیورسٹی کے کسی پروفیسر کی تخلیق ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ بادشاہ شہریارتوایک ہزاررات کہانی سنانے پرشہزادی شہرزارکی جان بخش دیتاہے لیکن ہم دس ہزاررات بھی ان لوگوں کواپنی وفاداری کی کہانی سنائیں،ہماری جان نہیں بخشی جارہی۔غیرت ہے تواس حجلہ عروسی سے بھاگ جاؤ ورنہ صبح تک جلاد کی تلوارہوگی اورآپ کاسر‘لیکن شائد یہ تاریخ کاجبرہے کہ انسان وقت سے سبق حاصل نہیں کرتاکیونکہ اس میں وقت بہت درکار ہوتاہے۔جب کمپنی کاسی ای اوخود مارکیٹ میں اپنی پراڈکٹ فروخت کرنے کیلئے نکل آئے تواس کامطلب یہ ہے کہ کمپنی کانمائندہ یاسیلزمین نالائق ہے اور کمپنی کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ کارنہیں ہوتا کہ ایسے نالائق سیلزمین کوفارغ کردیاجائے۔امریکی سفارتی تاریخ میں ٹرمپ پہلاصدرہے جوعالم اسلام کی مارکیٹ میں خودبہ نفس نفیس اپنی پراڈکٹ کی مقبولیت کیلئے میدان میں اترآیاہے اور اپنی کمپنی امریکااوراپنی خصوصی پراڈکٹ ’’مودی‘‘کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کرجلسہ میں شرکت کیلئے آن پہنچا۔مارکیٹ نے ان کی کمپنی اوران کے سیلزمینوں کے بارے میں اپنی رائے سے ان کوبڑے بہتر طریقے سے سمجھا دیا کہ اب افغانستان میں’’شوگرکوٹڈ ری ایکشن‘‘’’زہرکاری ایکشن‘‘انہیں بھی بہرحال برداشت کرناپڑے گا!