08:12 am
مولویوں کو اتنا مارو کہ نانی یاد آجائے؟

مولویوں کو اتنا مارو کہ نانی یاد آجائے؟

08:12 am

ایک (ر)صاحب ایک ٹی وی پروگرام میں فرما رہے تھے کہ 1977ء میں جب تحریک نظام مصطفیٰ  چلی تو ان کی ڈیوٹی لاہور میں تھی۔ نیلا گنبد اور اس کے گردونواح کے علاقے میں  تحریک کا زور تھا۔ نبیﷺ کے نام پر لوگ گولی کھانے سے بھی دریغ نہیں کر رہے تھے فورسز کا جوان جب انہیں بندوق سے ڈرانے کی کوشش کرتا تو وہ سینہ تان کر گولی کھانے کیلئے تیار ہو جاتے۔ یہ صورتحال پریشان کن تھی۔ پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ بندوق کی بجائے ان کی ٹانگوں پر لاٹھیوں سے اتنا مارو کہ ’’مولویوں‘‘ کو نانی یاد آجائے۔ ان (ر) صاحب کی یہ گفتگو سن کر  اینکر قہقہہ مار کر ان سے سوال کرتا ہے کہ کیا آپ حکومت کو یہ مشورہ دے رہے ہیں وہ آزادی مارچ والوں سے بھی  اسی طرح نمٹے، جواب  ملتا ہے کہ بالکل ان کا علاج ہی یہی ہے، سچی بات ہے کہ ان (ر) صاحب کی یہ گفتگو سن کر میں ہل کر رہ گیا، اپنے ہی عوام کے بارے میں اس قسم کی گفتگو کرنا سنگدلی کی انتہا نہیں تو پھر کیا ہے؟
 
شاید یہی وہ باتیں ہیں کہ جو عوام میں نفرتوں کو پروان چڑھاتی ہیں مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے آزادی مارچ کا اعلان کر رکھاہے، یقیناً حکومت کو اس اعلان سے سخت تکلیف ہے، آزادی مارچ کیوں کیا جارہا ہے؟ اس کا ایجنڈا بھی بڑا واضح ہے، آزادی مارچ ہو بھی اس تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں رہا ہے کہ جس تحریک انصاف نے خود 136 دن کا دھرنا دینے کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے، کیا حکومت اس مارچ کو روکنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں پر تشدد کا سہارا لے گی؟ میں نہیں سمجھتا کہ مولانا فضل الرحمٰن یا دیگر اپوزیشن قائدین اپنے لاکھوں یا ہزاروں کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ یا  کسی ادارے پر حملہ آور ہونے کی کوشش کریں گے۔ اس لئے کہ مولانا اور ان کی جماعت پر توڑ پھوڑ، جلائو گھیرائویا تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں  ہے، مولانا ہمیشہ سے پارلیمانی اور جمہوری اقدار کے حامی رہے ہیں، جمعیت علماء اسلام کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام پر صرف مخصوص یونیفارم پہن کر ہاتھوں میں ڈنڈے تھام کر مولانا کو سلامی دینے کے جرم میں پابندی عائد کرنے کی کوششوں کی بھی تمام غیر جانبدار مبصرین اور  تجزیہ نگار مذمت کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہاتھوں میں ڈنڈا تھامنا جرم کیسے بن گیا؟ تحریک انصاف کی حکومت میں کیا ’’ ڈنڈے‘‘ کو بھی پسٹل یا کلاشنکوف کے قائم مقام سمجھ لیا گیا ہے؟
یادش بخیر‘ 2014ء کے ایک 126دن کے دھرنے کے دنوں میں وہ جو عمران خان کے انصاف ٹائیگرز کے ہاتھوں میں کیل لگے ڈنڈے تھے کیا وہ ’’جنت‘‘ سے لائے گئے تھے؟126دن کے دھرنے کے دوران وہ جو عصمت جونیجو نام کے پولیس آفیسر کو جن ڈنڈوں سے مارا گیا تھا، وہ ڈنڈا بردار فورس کہ جس نے پی ٹی وی کے آفس میں گھس کر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دفتر پر قبضے کی کوشش کی تھی۔وہ ڈنڈا بردار فورس کہ جس نے پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہائوس پر چڑھائی کی تھی کیا اس ڈنڈا بردار فورس کا تعلق بھی جمعیت علماء اسلام سے ہی تھا؟
خدا کا خوف کرو، اگر تم لوگوں کو ادویات اور اشیائے خوردونوش سستی مہیا نہیں کر سکتے، اگر تم پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی نہیں لا سکتے تو کم از کم عوام میں نفرتوں کو تو بڑھاوا نہ دو، اگر انصارالاسلام کے کارکنوں نے ’’ڈنڈوں‘‘ سے سرکاری یا نجی املاک پر حملے کئے ہیں، اگر ان ڈنڈوں سے پولیس پر حملے ہو رہے تھے تو پھر تو واقعی جرم ہے اور حکومت کو حق حاصل ہے کہ وہ ایسے ڈنڈا برداروں پہ پابندی عائد کر دے، لیکن صرف ڈنڈا ہاتھوں میں اٹھانے کو جرم قرار دینا تعصب اور جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
خدا اس ملک پہ کبھی رحم نہیں کرتا کہ جس ملک کے حکمران جھوٹ بولنے کو اپنا شعار بنائیں اور حکمرانوں کے ’’پیادے‘‘ اس جھوٹ کو  پھیلانے کے مشن پر گامزن ہو جائیں، جھوٹ بول کر آپ کسی کی جان تو لے سکتے ہو، پابندی تو عائد کر سکتے ہو، بدنام تو کر سکتے ہو، نفرتوں کو بڑھاوا تو دے سکتے ہو لیکن لوگوں کے دلوں کو نہیں جیت سکتے۔ میں ذاتی طور پر کبھی بھی دھرنوں کی سیاست کا قائل نہیں رہا، چاہے وہ 2014ء میں تحریک انصاف کا دھرنا ہو یا پھر کسی  اور کا دھرنا، لیکن جو لاک ڈائون یا دھرنا ابھی ہوا ہی نہیں۔ ’’مولانا‘‘ اور اپوزیشن کے حامیوں نے نہ ابھی تک سڑکیں بند کیں،  نہ کہیں بھی مارا ماری کا کوئی واقعہ پیش آیا، مگر اس کے باوجود حکومت اور اس کے حامیوں کا اپوزیشن کے ساتھ جارحانہ رویہ ناقابل فہم ہے، اس طرح کے اقدامات کرکے حکومت اپنے ہی ملک میں خوف و ہراس کیوں پھیلانا چاہتی ہے اس کا جواب تو کوئی حکومتی ’’ارسطو‘‘ ہی دے سکتا ہے، لیکن میری مولانا فضل الرحمٰن کی خدمت میں بھی گزارش ہے کہ وہ عمران خان کی گستاخانہ زبان سے درگزر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اگر حکومت واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہے اور ان مذاکرات کے نتیجے میں عوام کو ریلیف بھی مل سکتا ہو تو وہ ضرور مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی کوشش کریں، سچی بات ہے کہ اس وقت حکومت کی پرجوش حمایت کوئی ’’پیٹ بھرا‘‘ ہی کر سکتا ہے یا پھر حکومتی دستر خوان کا ’’راتب خور‘‘ وگرنہ جس پاکستانی نے بازار سے 160 روپے کلو ٹماٹر، اسی روپے کلو پیاز، چار سو روپے کلو ادرک، تین سو روپے کلو لہسن خریدنا ہو اسے کیا پڑی ہے وہ اس حکومت کی حمایت کرتا پھرے؟
عمران خان کی حکومت پاکستان کے غریب عوام کو اتنی مہنگی پڑے گی یہ تو کبھی کسی نے سوچا بھی نہ تھا؟ یقیناً پاکستان اللہ کا بہت بڑا انعام ہے،لیکن پاکستان کی حکومتوں میں رہنے والے 22کروڑ عوام کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں، لگتا ہے کہ یہ حکمران بنتے ہی آئی ایم ایف کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ہیں، غریب عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں تو پریشان رہیں، غریب بھوک سے مرتے ہیں تو مرتے رہیں لیکن ان کا حکومت میں آنے کا مقصد ہر حال میں ہر قیمت پر آئی ایم ایف کے ایجنڈے کو ملک میں نافذ کرنا ہوتا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں