08:12 am
غیر ملکی سفارت کار کنٹرول لائن پر

غیر ملکی سفارت کار کنٹرول لائن پر

08:12 am

٭غیرملکی سفارت کار، صحافی کنٹرول لائن پرO کرتار پور راہداری، بھارت نے 20ڈالر فیس سمیت تمام شرائط تسلیم کر لیںO نوازشریف ہسپتال میںO کیپٹن (ر) صفدر گرفتارOآصف زرداری، چار شوگر ملیں چھ ارب71 کروڑ کی ڈیفالٹ، بنکوں کے مقدمےO اوکاڑہ:بچوں پر تشدد، ملزم نے خود فلم بنوائیO بھارتی وزیراعظم، ترکی کا دورہ منسوخO اسلام آباد، جے یو آئی کے دوکارکن بینر لگاتے ہوئے گرفتار۔
٭بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس کی فوج نے کنٹرول لائن کے پار دہشت گردوں کے دو تربیتی کیمپ تباہ کر دیئے ہیں۔ پاکستان کے فوجی ترجمان نے اس دعوے کو مضحکہ خیز قراردیا کہ وہاں کوئی ایسے کیمپ ہی نہیں ہیں۔ پاک فوج کے زیر اہتمام گزشتہ روز غیر ملکی سفارت کاروں کو کنٹرول لائن کے سرحدی اور دوسرے علاقوں کا دورہ کرایا گیاجس سے بھارتی دعوے کی مکمل تردید ہو گئی۔ اس دورے کے لئے بھارتی ہائی کمیشن کو بھی دعوت دی گئی مگر اس نے انکار کر دیا۔
ادھر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اورشہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی کے80دن گزر گئے ہیں۔ بیمار لوگ ہسپتالوں میں نہیں جا سکتے۔ نہائت روح فرسا ناقابل بیان واقعات باہر آ رہے ہیں۔ کرفیو کے دوران بچے گھر سے باہر نکل جاتے ہیں تو واپس نہیں آتے۔ مارکیٹیں بند پڑی ہیں، ہزاروں ٹن پھلوںکے باغ اجڑ گئے، پھل ضائع ہو گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ کو باشندوں کی حالت زار کے بارے میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے بھارت اور پاکستان کے نمائندوں کو طلب کر لیا ہے۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ہے جب کہ بھارت نے سندھ میں اقلیتوں کا مسئلہ پیش کر دیا ہے۔
٭اسلام آبادکی پولیس نے جے یو آئی کے دو کارکنوں کو شہر میں آزادی مارچ کے بینر لگاتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ ان کے پاس کوئی اجازت نامہ نہیں تھا۔ اس واقعہ پر جے یو آئی کے ترجمان علامہ غفور حیدری نے سخت ریمارکس دیئے ہیں۔ دنیا بھر میں بینر لگانے کے لئے الگ الگ طریق کار اور ضابطے ہیں۔ ان کی باقاعدہ فیس وصول کی جاتی ہے، بینرکی عبارت پیشگی منظور کرائی جاتی ہے اور ان مقامات کا نام دیا جاتا ہے جہاں بینر لگانے ہوتے ہیں۔ ہر شہر کی بلدیاتی آمدنی میں بینروں کی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے۔ ان بینروں کے سائز اور ان کی فیس مقرر ہوتی ہے۔ کوئی بینر اجازت کے بغیر نہیں لگ سکتا۔ اس سے قبل بھی اسلام آباد میں غیر قانونی طور پر بینر لگانے والوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بعض مقدمے اب بھی چل رہے ہیں۔ اسلام آباد  میں تو کچھ عرصہ قبل صریح ملک دشمنی والے بینر لگ گئے۔ گلبرگ لاہور میں بعض ’’ماڈرن‘‘ خواتین نے جنسی آزادی کے نام پر ناقابل بیان بینر لگا دیئے، اس پر سخت ایکشن لیا گیا۔
٭وزیراعظم عمران خان نے کراچی سے ملحق، چند کلو میٹر دور بلوچستان علاقہ حَب میں1320 میگا واٹ بجلی کے پلانٹ کا افتتاح کیا جو سی پیک منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔ اس تقریب میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ تو شامل تھے، حکومت سندھ کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔ وزیراعظم نے کراچی میں قیام کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وزیراعلیٰ سندھ بھی وزیراعظم کے خیر مقدم کے لئے ہوائی اڈے پر نہیں گئے۔ دونوں طرف انا پرستی، تکبر اور غرور کا مظاہرہ کیا گیا۔ وزیراعظم کی حکومت نے کراچی کے لئے جو ترقیاتی منصوبے منظور کر رکھے ہیں، انہیں سندھ کے وزیراعلیٰ کی بجائے تحریک انصاف کے رہنما، گورنر سندھ عمران اسماعیل کے حوالے کر رکھا ہے، اب بھی حَب کی تقریب میں گورنر کو ہدائت کی کہ کراچی کے ترقیاتی منصوبے جلد مکمل کئے جائیں۔ آئین میں گورنر کے پاس ایسا انتظامی قسم کا کوئی اختیار نہیں۔ اس کے پاس صرف صوبائی حکومتوں کے منظور شدہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد یا التوا وغیرہ کی سفارشات پر دستخط کے اختیارات ہوتے ہیں اور بس! کراچی میں گورنر کے ماتحت کوئی انتظامی ادارہ نہیں۔گورنر کوئی سیاسی بیان نہیں دے سکتا، گورنر ہائوس میں کوئی سیاسی اجتماع نہیں ہو سکتا۔ مگر ن لیگ کے گورنر محمد زبیر نے یہ سب کچھ کیا اب تحریک انصاف کے گورنر عمران اسماعیل ہر قسم کے آئینی ضابطوں کی صریح خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کے خلاف سیاسی بیانات دیئے جا رہے ہیں۔ بھٹو دورمیں ممتاز بھٹو سندھ کے گورنر بنے تو یہی کچھ کیا۔ یہی صورت حال صدر کے عہدہ کی ہوتی ہے۔ ایوان صدر میں کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہو سکتی مگر آصف زرداری نے صدر کی حیثیت سے ایوان صدر میں مسلسل پیپلزپارٹی کے کنونشن اور اجلاس بلائے۔ ہائی کورٹ نے جواب طلبی کی تو یہ سلسلہ بند ہوا! ہر دور میں آئین، قانون، ضابطے اسی طرح پامال ہوتے رہے، اب بھی ہو رہے ہیں!
٭آصف زرداری کے خلاف پہلے ہی غیر قانونی اثاثوں اور منی لانڈرنگ وغیرہ کے متعددکیس چل رہے ہیں۔ موصوف اس وقت نیب کی حراست میں ہیں۔ مرے کو مارے شاہ مدار! دو بنکوں، نیشنل اور سمٹ بنک نے آصف زرداری کی ملکیت چار شوگر ملوں کے خلاف چھ ارب، 71 کروڑ، چھ لاکھ روپے کے قرضوں کی عدم وصولی کے مقدمات دائر کر دیئے ہیں۔ بنکوںکا الزام ہے کہ بار بار تقاضوں کے باوجود قرضے واپس نہیں کئے جا رہے۔
٭ن لیگ کے نمبر تین والے ’’زیب‘‘ صدر کیپٹن صفدر کو گرفتار کر لیا گیا (صدر-1 میاں شہباز شریف صدر -2 مریم نواز؟ -3 کیپٹن صفدر، -4 احسن اقبال) صفدر کے خلاف لزام کی تفصیل چھپ چکی ہے، انہیں پانامہ کیس میں ایک سال کی قید سنائی گئی تھی، وہ ضمانت پر رہا تھے۔ یہاں ’’زیب صدر‘‘ کی وضاحت ضروری ہے۔ پیر لوگوں کی گدیوں کی وراثت میں ایک کے بعد دوسرا باقاعدہ سجادہ نشین آتا رہتا ہے۔ اس سجادہ نشین کے گھر والے دوسرے مرد اپنے نام کے ساتھ ’’زیب‘‘ (زیبائشی) سجادہ نشین لکھتے ہیں۔ یہی صورتحال سیاسی پارٹیوں کی ہے۔ ایک آدھ صدر، باقی زیب صدر!
٭اوکاڑا میں ایک بدبخت درندہ صفت انسان یعقوب نے ہمسایہ کے دو بچوں کو ننگا کر کے اور الٹا لٹکا کر جس ظالمانہ تشدد کا مظاہرہ کیا،اس پر پورے ملک میں ہر طبقہ، ہر شخص نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اس واقعہ کے بارے میں سوال اٹھ رہا تھا کہ جس شخص نے بچوں کے ساتھ روح فرسا تشدد کی تصویر کشی کی، اس نے اس ظلم کو روکا کیوں نہیں؟ قانونی طور پر وہ بھی اس کریہہ ظلم کا شریک مجرم ہے۔ اب انکشاف ہوا کہ اس بدبخت بھیڑیا نما شخص یعقوب نے خود اس منظر کی فلم بنانے کا اہتمام کیا اور اس کی موبائل کیمرے سے اس کی منظر کی فلم بندی کی گئی۔ مزید شقاوت اور انسانیت سوز حرکت کہ یہ فلم اس نے اپنے گھرمیں اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر دیکھی اور یہ شقی القلب لوگ ہنستے رہے۔ قدرت نے انہیں سبق سکھانا تھا۔ اس شخص کو پیسوں کی ضرورت تھی۔ اس نے یہ موبائل کیمرہ کسی دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا، غلطی یہ ہوئی کہ اس میں بچوں پر تشدد کی تصویریں ضائع کرنا بھول گیا۔کیمرا خریدنے والے شخص نے کیمرا کھولا تو یہ ناقابل بیان ہولناک منظر دکھائی دیا۔ وہ فوراً تھانے میں پہنچ گیا۔ اور یہ تصویریں فیس بک پر بھی وائرل کر دیں۔ وزیراعلیٰ بزدار نے فوری نوٹس لیا۔ پولیس کی دوڑیں لگ گئیں اور ملزم یعقوب کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے خلاف ڈپٹی کمشنر خاتون نے خود مقدمہ درج کرایا ہے۔ اس مقدمہ میں تو ان لوگوںکی بھی چھترول ہونی چاہئے جنہوں نے گھر میں یہ فلم دیکھی اور لطف لیتے رہے۔ اور…اور یہ خبر بھی آئی ہے کہ بعض بڑے بااثر وڈیرے اس لرزا دینے والے واقعہ کو معمولی قرار دے کر بچوں کے والدین کو قصہ ختم کرنے کا دبائو ڈال رہے ہیں! 
٭ایک خبر: پی آئی اے کے وڈیروں نے اپنے خاندان اور عزیز و اقارب کو 10 کروڑ روپے کی سفری ٹکٹیں مفت تقسیم کر دیں۔ تحقیقات شروع ہو گئی ہیں! مگر صرف 10 کروڑکا معاملہ! یہ لوگ تو پوری پی آئی اے کو کھا گئے!یہی کچھ سٹیل ملز کے ساتھ ہوا۔ 9 ہزار ملازمین کی جگہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے 23 ہزار سیاسی ارکان بھرتی کر لئے گئے۔ یہ لوگ ملز میں نہیں آتے تھے، گھروں میں تنخواہیں ملتیں اور ملز کی گاڑیاں حاضر رہتی تھیں…پھر آج!!!